Advertisement

تو شاہیں ہے بسیراکرپہاڑوں کی چٹانوں پر : بلندیوں کو زیرکرنیوالی روایت شکن لڑکی ندیمہ سحر

عالمی یوم خواتین کےموقع پر جانیے سرمائی کوہ پیمائی 2021کا پہلااعزاز حاصل کرنے والی ندیمہ سحرسے، جنہوں نے موسم سرما میں کوہ پیمائی کی دنیا کے مشکل ترین پہاڑوں میں شامل بلند پہاڑ کو سر کیا ۔اورپاکستان میں سرمائی سیاحت کا پہلا تاج اپنے سر پر سجالیا ۔

GNN Web Desk
شائع شدہ 5 years ago پر Mar 9th 2021, 3:44 am
ویب ڈیسک کے ذریعے

تحریر: فہیم اختر

رواں سال کے آغاز میں ہی سرمائی مہم جوئی پر پوری دنیا کی نظریں کے ٹو پہاڑ اور نیپالی شیرپاز و سدپارہ گروپ پر تھی،   اس وقت دو خواتین پر مشتمل ایک ٹیم منفی 36درجہ حرارت میں کھائی کے مدمقابل گلیشیئرکا مقابلہ کرتے ہوئے شمشال کے مقام پر خطرناک ترین ’یزغل پاس‘کو سر کرنے کی مہم پر رواں تھی۔ مجموعی طور پر چار افراد پر مشتمل اس مہم میں  قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی ہنزہ کیمپس کی طالبہ ندیمہ سحر بھی  شامل تھیں ۔

خواتین کے عالمی دن کے موقع پر  جی این این   سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے  پاکستان کی اس باصلاحیت لڑکی ندیمہ سحر کہتی ہیں کہ ’ہم نے اپنا عزم بلند رکھا تھا کہ ہم نے اس پہاڑ کو سر کرنا ہے لیکن محض 45میٹر کے فاصلے پر ہماری ہمت اور توانائی جواب دے گئی، اس موقع پر مجھے احساس ہوگیا کہ میں اپنے رب کے قریب ہوں اور اس نے نادیدہ قوت کے زریعے اتنی ہمت عطاء کردی کہ ہم اپنے مہم کو جاری رکھ سکیں اور 5800میٹر بلند یزغل پاس کو سر کرسکیں جس میں ہمیں کامیابی مل گئی اور سبز ہلالی پرچم لہرایا۔

ندیمہ سحر کا تعلق گلگت  بلتستان کے ضلع ہنزہ کے بالائی علاقے شمشال سے ہے۔ ندیمہ  نے اپنے تعلیمی سفر کا آغاز شمشال میں واقع ڈی جے سکول سے کیا،  بعد ازاں گلگت سے کالج کی تعلیم حاصل کرلی اور اس وقت وہ قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی ہنزہ میں شعبہ سیاحت کی طالبہ ہیں۔ ندیمہ سحر کو بچپن سے اپنے علاقے میں آنے والے غیر ملکی کوہ پیماؤں کی آمد اور ان کے تفریحی سرگرمیوں کی وجہ سے کوہ پیمائی کا شوق پیدا ہوگیا جس کے بعد انہوں نے شمشال میں واقع کوہ پیمائی سکول میں داخلہ لیا، وہ اطالوی کوہ پیماؤں کو بھی اپنا استاد مانتی ہیں اور کہتی ہیں کہ "میں نے ان سے ٹریننگ لی ہے۔"

یزغل پاس شمشال میں واقع قراقرم رینج کا پہاڑ ہے جسے کوہ پیمائی کی دنیا میں مشکل ترین پہاڑوں میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ موسم سرما میں آج تک اس چوٹی کو سر نہیں کیا گیا، یوں یہ اعزاز ندیمہ سحر اور دیگر تین افراد پر مشتمل ٹیم کو جاتا ہے جنہوں نے موسم سرما میں اس پہاڑ کو سر کرلیا۔

 یزغل پاس کے متعلق مشہور ہے کہ ایک طرف کھائی اور دوسری طرف گلیشیئر ہونے اور تیز ہوا کی وجہ سے اسے ناقابل تسخیر قرارد یا جاتا تھا۔ 10جنوری کو ہونے والے اس مہم کو اس لحاظ سے بھی منفرد مقام حاصل ہے کہ اس میں پچاس فیصد خواتین شامل تھیں اور ساتھ میں ماہر کوہ پیماء بھی موجود تھے،واضح رہے کہ   اس سے پہلے اس راستے کے زریعے کوہ پیماؤں کی ٹیم کا کوئی ریکارڈ میسر نہیں ہے جس کی وجہ سے اس راستے کو نئی دریافت قرار دیا جاتا ہے۔

ندیمہ سحر  اپنے کوہ پیمائی کے سفر سے  متعلق کہتی ہیں کہ 2019میں اشکومن میں اطالوی کوہ پیماؤں کے ساتھ مہم پر روانہ ہوئے مگر ہمیں اندازہ بھی نہیں تھا کہ یہ سفر اس قدر خطرناک ثابت ہوگا۔ پہاڑ کی چوٹی پر اپنی آنکھوں سے برفانی تودے کو گرتا ہوا دیکھنا ، ہمارے پاس فیصلہ کرنے کے لئے ایک لمحہ بھی نہیں تھا تاہم خوش قسمتی سے میں صرف زخمی ہوئی  جبکہ شمشال سے تعلق رکھنے والے نامور کوہ پیما امتیاز اور اطالوی کوہ پیماء جانبر نہیں ہوسکے، جنہیں مصنوعی آکسیجن دینے اور پمپ کرنے کی کوشش بے سود ثابت ہوئی۔ قدرت یوں مہربان ہوئی کہ ہمارے فون محفوظ تھے جس پر ایک اطالوی کوہ پیماء نے ایمبیسی کو مطلع کردیا اور اسے بتایا گیا کہ 20منٹ میں ہیلی کاپٹر روانہ ہوگی جس کی وجہ سے میتوں کو سنبھالنے کا کام شروع کردیا، بیس کیمپ واپسی تک ہمیں ہیلی آتی ہوئی نظر نہیں آئی اور صرف برفانی تودوں کی گونج تھی، 24گھنٹے ہم موت کے منہ میں رہے جس کے بعد اگلے روز ہیلی کاپٹر وہاں پہنچ گیا  اور ریسکیو آپریشن شروع کردیا، اس حادثے میں ندیمہ سحر کی انگلی بھی جل گئی تھی اور وہ شدید زخمی ہوئی تھی۔

ندیمہ سحر نے 2013سے باقاعدہ کوہ پیمائی شروع کردی اور اب تک 5پہاڑوں کو سر کرچکی ہیں جو کہ 5ہزار میٹر سے بلند ہیں جن میں 6200میٹر بلند ویلیوسر، 6150 میٹر بلند نیلی سر، 5300میٹر بلند قز سر، اور 5800میٹر بلند شسکن سر شامل ہیں۔ جن میں سے تین چوٹیوں کو ایک ہی ہفتے میں سر کرلیا ہے۔اس کے علاوہ چترال کے زینی پاس کو بھی سر کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔

ندیمہ سحر سمجھتی ہیں کہ خواتین کو بھی اللہ تعالیٰ نے وسیع اور بے شمار صلاحیتوں سے نوازا ہے، خواتین وہ کام بھی کرسکتی  ہیں جو مرد نہیں کرسکتے ، ہمارے معاشرے میں اب بھی خواتین کو ان کے جائز حقوق حاصل نہیں ہیں، ہم دیکھتے ہیں کہ پڑھی لکھی خواتین بھی گھروں میں قید ہوکررہ جاتی ہیں،  ہمارا معاشرہ خواتین کو نظر انداز کرکے آگے نہیں بڑھ سکتا ۔ ان کاکہنا تھا کہ  گلگت  بلتستان کی خواتین میں کسی صورت ٹیلنٹ اور صلاحیتوں کی کمی نہیں ہے مگر معاشرتی رویہ اور حکومت کی جانب سے سرپرستی نہیں ہونے کی وجہ سے خواتین کی صلاحیتیں   کھل  کر سامنے نہیں آتیں ۔

 کوہ پیمائی کے شعبے سے متعلق ان کا کہنا ہے کہ اس شعبے کو حکومت نے نظر انداز کیا ہوا ہے اور یہاں کے مقامی کوہ پیماؤں کی  حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی ہے جس کی وجہ سے یہ شعبہ زوال پذیر ہے ۔ ندیمہ سحر حکومتی سرپرستی کی صورت میں ماؤنٹ ایوریسٹ اور کے ٹو کو  سر کرنے کے لئے پرعزم نظر آتی ہیں ۔ وہ کہتی ہیں کہ  اگر حکومت سرپرستی کرے اور مناسب معاونت کرے تو ماؤنٹ ایوریسٹ اور کے ٹو پہاڑ پر بھی سبز ہلالی پرچم لہراکر ملک کا نام پوری دنیا میں روشن کریں گے۔وہ اپنے اساتذہ کی بھی تعریف کرتی ہیں جن کی ہدایات کو سامنے رکھ کر کھٹن سفر کو طے کرنے مدد ملتی ہے۔

ندیمہ سحر نے اپنے انٹرویو میں بتایا کہ گلگت  بلتستان کی خواتین کو ہر سطح پر مضبوط و مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔ گلگت  بلتستان کے عوام کی نمائندہ اسمبلی آج تک کوئی خاتون ،  خواتین کی نمائندگی کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے، ہم نے کبھی سنا بھی نہیں ہے کہ گلگت  بلتستان اسمبلی نے خواتین کی نمائندگی کی ہو اور ان کے فلاح و بہبود کے لئے اقدامات اٹھائے ہوں۔

نوجوان کوہ پیماء اور شعبہ سیاحت کی طالبہ سماجی رویوں سے بھی نالاں ہے اورکہتی ہیں کہ اس بات پہ کوئی شک نہیں ہے کہ اب سوشل میڈیا ہر فرد کی ضرورت بن چکا ہے،  ہمارے ہاں ہمیشہ سے بالخصوص خواتین کے متعلق سوشل میڈیا پر صرف منفی چیزوں کو ہی پھیلادیا جاتا ہے۔ غلطی سے بھی کوئی ایسی چیز سرزد ہوجائے جو کسی کو اچھی نہیں لگتی ہو تو اس پر پورا سوشل میڈیا بھر دیا جاتا ہے ۔ گلگت  بلتستان کی خواتین سے متعلق مثبت چیزوں کو  پیش نہیں کیا جاتا ہے،یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا پر خواتین آنے سے بھی کتراتی ہیں ۔  ہمیں چاہئے کہ گلگت بلتستان میں  ہم خواتین کی مثبت چیزوں اور کارناموں کو بھی سامنے لیکر آئیں تاکہ ان کی حوصلہ افزائی ہوسکے اور وہ اپنے فن اور ہنر میں مزید آگے بڑھیں اور اپنی صلاحیتوںمیں   نکھار پیدا کرسکیں ۔

خواتین کے عالمی دن  کے موقع پر پیغام میں ندیمہ سحر کا کہنا تھا کہ آج بھی خواتین معاشرتی مسائل کے دلدل میں پھنسی ہوئی ہیں جن سے نکالنے کے لئے علم و شعور کی ضرورت ہے۔ خواتین کے مسائل کو زیر بحث لانے کی ضرورت ہے، کوئی بھی مسئلہ دبانے سے حل نہیں ہوتا ہے بلکہ مزید بگڑ جاتا ہے۔ موجودہ دور  میں خواتین کو معاشی و معاشرتی سطح پر آگے آنے کی بے حد  ضرورت ہے۔

Advertisement
پاک افواج کا افغان بارڈر پر تاریخی آپریشن، فتح کی داستان، جرات کے نشان کا ٹیزر ریلیز

پاک افواج کا افغان بارڈر پر تاریخی آپریشن، فتح کی داستان، جرات کے نشان کا ٹیزر ریلیز

  • 5 گھنٹے قبل
مسلسل دوسرے روز بھی سونا سستا، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟

مسلسل دوسرے روز بھی سونا سستا، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟

  • 5 گھنٹے قبل
ایک بے گناہ کو سزا دینے کی بجائے 10 گناہ گاروں کو بری کرنا بہتر ہے،سپریم کورٹ 

ایک بے گناہ کو سزا دینے کی بجائے 10 گناہ گاروں کو بری کرنا بہتر ہے،سپریم کورٹ 

  • ایک گھنٹہ قبل
محسن نقوی کی بنگلہ دیشی وزیر داخلہ سے ملاقات، منشیات کی روک تھام کیلئے معاہدے پر دستخط

محسن نقوی کی بنگلہ دیشی وزیر داخلہ سے ملاقات، منشیات کی روک تھام کیلئے معاہدے پر دستخط

  • 4 گھنٹے قبل
28 فروری کے مقابلے میں ہمارے میزائلوں اور لانچرز کے ذخیرے میں 120 فیصد اضافہ ہوا ہے، عباس عراقچی

28 فروری کے مقابلے میں ہمارے میزائلوں اور لانچرز کے ذخیرے میں 120 فیصد اضافہ ہوا ہے، عباس عراقچی

  • ایک دن قبل
کِم جونگ اُن کے قتل کی صورت میں فوری 'ایٹمی حملہ، شمالی کوریا نے آئین میں اہم ترمیم کر دی

کِم جونگ اُن کے قتل کی صورت میں فوری 'ایٹمی حملہ، شمالی کوریا نے آئین میں اہم ترمیم کر دی

  • 5 گھنٹے قبل
ڈھاکا ٹیسٹ:دوسرے دن کے اختتام تک پاکستان نے بنگلا دیش کیخلاف 1 وکٹ پر 179 رنز بنا لیے 

ڈھاکا ٹیسٹ:دوسرے دن کے اختتام تک پاکستان نے بنگلا دیش کیخلاف 1 وکٹ پر 179 رنز بنا لیے 

  • ایک گھنٹہ قبل
امریکہ، ایران مذاکرات آئندہ ہفتے اسلام آباد میں دوبارہ شروع ہوں گے،امریکی اخبارکا دعویٰ

امریکہ، ایران مذاکرات آئندہ ہفتے اسلام آباد میں دوبارہ شروع ہوں گے،امریکی اخبارکا دعویٰ

  • 6 گھنٹے قبل
صدرمملکت آصف علی زرداری کی روس کی قیادت کو یومِ فتح پر مبارکباد

صدرمملکت آصف علی زرداری کی روس کی قیادت کو یومِ فتح پر مبارکباد

  • 4 گھنٹے قبل
طالبان رجیم میں افغان سرزمین القاعدہ،داعش سمیت دیگر عالمی دہشتگرد تنظیموں کیلئے محفوظ پناہ گاہ بن گئی

طالبان رجیم میں افغان سرزمین القاعدہ،داعش سمیت دیگر عالمی دہشتگرد تنظیموں کیلئے محفوظ پناہ گاہ بن گئی

  • 5 گھنٹے قبل
وزیرِ اعظم شہباز شریف 23 تا 25 مئی چین کا دورہ کریں گے

وزیرِ اعظم شہباز شریف 23 تا 25 مئی چین کا دورہ کریں گے

  • 5 گھنٹے قبل
 روس ہمیشہ اپنے قومی مفادات، تاریخی اقدار اور مادرِ وطن کے دفاع کے لیے متحد رہے گا، پیوٹن  

 روس ہمیشہ اپنے قومی مفادات، تاریخی اقدار اور مادرِ وطن کے دفاع کے لیے متحد رہے گا، پیوٹن  

  • 4 گھنٹے قبل
Advertisement