Advertisement

لبنان کے سابق وزیراعظم سعد الحریری ملکی سیاست سے دستبردار

لبنان کے سرکردہ سنی مسلم سیاستدان اور سابق وزیراعظم سعد الحریری نے مئی میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں حصہ نہ لینے اور فی الوقت ملکی سیاست سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا ہے۔

GNN Web Desk
شائع شدہ 4 years ago پر Jan 26th 2022, 1:26 am
ویب ڈیسک کے ذریعے
لبنان کے سابق وزیراعظم سعد الحریری ملکی سیاست سے دستبردار

 

مقامی میڈیا کے مطابق انہوں نے پیر کو بیروت میں واقع اپنی قیام گاہ پر پہلے سے تیار شدہ ایک بیان پڑھ کر سنایا جس کو پڑھتے ہوئے ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ 

انھوں نے اپنی جماعت ’مستقبل تحریک‘ کے ارکان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھی اس فیصلے پر عمل کریں اور سیاست میں اپنی شرکت معطل کر دیں۔

اپنے مقتول والد رفیق الحریری کا ذکرکرتے ہوئے تین بار کے وزیراعظم نے کہا کہ ’ان کے سیاست میں داخل ہونے کے دو مقاصد تھے: لبنان میں ایک اور خانہ جنگی کو چھڑنے سے روکنا اور لبنانیوں کو بہتر زندگی مہیا کرنا، میں پہلے مقصد میں کامیاب ہوا ہوں لیکن مجھے دوسرے مقصد میں خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی‘۔

سعد الحریری کبھی مغرب اور خلیج عرب ممالک کے ساتھ مضبوط تعلقات رکھتے تھے لیکن حالیہ برسوں میں ایران نواز شیعہ ملیشیا حزب اللہ اور اس کے اتحادیوں کو متعدد رعایتیں دینے کے بعد ان کا سیاسی تشخص خراب ہوا ہے۔

انھوں نے حزب اللہ کے جنگجوؤں کے بیروت پر قبضہ کرنے کے بعد 7 مئی 2008ء کو تشدد کے خاتمے کے معاہدوں تک پہنچنے کا حوالہ دیا۔ انھوں نے اپنے والد کے قتل کے بعد دمشق میں شام کے صدر بشارالاسد سے ملاقات کی تھی۔

انھوں نے اپنے سیاسی حریف مشیل عون کو لبنان کا صدر بنوانے کا بھی اعتراف کیا اور اس فیصلے کی توثیق کی تھی۔ اس کے بعد ایک نئے انتخابی قانون پر رضامندی ظاہر کی جس کے نتیجے میں ان کی جماعت کو اہم پارلیمانی نمائندگی سے محروم ہونا پڑا تھا۔

لیکن سعدالحریری نے اپنے ان فیصلوں کا دفاع کیا ہے اور کہا کہ وہ واحد سیاست دان ہیں جنھوں نے اپنے غلط کاموں کا اعتراف کیا۔ انھوں نے اکتوبر2019 میں ہونے والے ملک گیر حکومت مخالف مظاہروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میں واحد شخص تھا جس نے اکتوبر انقلاب کا جواب دیا اور میں نے اپنی حکومت کا استعفا پیش کردیا تھا۔

ان کے دیرینہ سیاسی اتحادی اور دورز سیاست دان ولید جنبلاط نے ان کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے اپنے پیغام میں العربیہ انگلش کو بتایا کہ ’اعتدال پسندی اور آزادی کا ایک ستون کھونا تاریخ کا ایک انتہائی افسوس ناک لمحہ ہے، اس سے ایرانیوں کو لبنان میں زیادہ آزادانہ مداخلت اور ہاتھ مارنے کا موقع ملے گا‘۔

خود سعدالحریری نے بھی اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے یقین ہے، ایرانی اثر و رسوخ، بین الاقوامی انتشار، قومی تقسیم، فرقہ واریت اور ریاست کے دھڑن تختہ کی صورت میں لبنان کے لیے کسی مثبت موقع کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

وہ گذشتہ جمعرات سے اپنی جماعت ’مستقبل تحریک‘ کے نمائندوں اور لبنان کے سینیر سیاستدانوں کے ساتھ ملاقاتیں کر رہے تھے اور ان سے صلاح مشورے کے بعد پیر کو انھوں نے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جب تک ملک پر ایران کا اثرورسوخ ہے، اس وقت تک کوئی مثبت تبدیلی رونما نہیں ہوسکتی ہے۔

سعدالحریری 2005 میں اپنے والد رفیق الحریری کے بیروت میں بم دھماکے میں قتل کے بعد تین مرتبہ لبنان کے وزیراعظم رہ چکے ہیں لیکن حالیہ برسوں میں ان کی سیاسی قسمت نے یاوری نہیں کی ہے اور سعودی عرب کی حمایت سے محرومی سے ان کی سیاسی پوزیشن کمزور ہوتی چلی گئی ہے۔

حریری کا یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب لبنان بدترین معاشی بحران سے دوچار ہے۔ عالمی بینک نے اس کو عالمی سطح پر اب تک کی سب سے بدتر مندی قرار دیا ہے۔ ملک کی فرقہ وار اشرافیہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے اقدامات میں ناکام رہی ہے، یہاں تک کہ آبادی کا بڑا حصہ غربت کا شکار ہوچکا ہے۔

واضح رہے کہ لبنان میں فرقہ واریت کی بنیاد پر نظام حکومت رائج ہے۔ اقتدار میں حصہ داری کے نظام کے تحت ملک کا نظم ونسق چلایا جاتا ہے اور سرکاری طور پر تسلیم شدہ 18 فرقوں میں ریاستی عہدے تقسیم کیے جاتے ہیں۔ ملک کا وزیراعظم کوئی سنی سیاست دان ہوتا ہے۔

سعدالحریری کے بڑے حریف ایران کے حمایت یافتہ شیعہ گروپ حزب اللہ اور اس کے اتحادیوں نے 2018ء میں منعقدہ پارلیمانی انتخابات میں اکثریت حاصل کی تھی۔ ان کے مخالفین مئی میں ہونے والے انتخابات کے نتائج میں تبدیلی کی امید رکھتے ہیں جبکہ مغربی ممالک بھی بحران زدہ لبنان میں بروقت انتخابات کے انعقاد پر زور دے رہے ہیں۔

البتہ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ لبنان کی سب سے بڑی سنی تحریک کے بائیکاٹ سے انتخابات تاخیر کا شکار ہوسکتے ہیں اور خود اہل سنت کا سیاسی منظرنامہ انتشار کا شکار ہو جائے گا۔

کارنیگی مشرق اوسط مرکز کے فیلو مہندحاجی علی نے کہا کہ ’سعدالحریری کے بائیکاٹ سے اس سارے عمل سے رگ کھینچ لی گئی ہے۔ اب ان قیاس آرائیوں میں اضافہ ہوگا کہ شاید انتخابات کا انعقاد نہ ہو‘۔

وزیراعظم کی حیثیت سے حریری کا آخری دور اکتوبر2019ء میں ختم ہوا تھا۔ تب انھوں نے حکمران اشرافیہ کے خلاف بڑے پیمانے پر عوامی مظاہروں کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا، اس کے بعد لبنان پے درپے مختلف بحرانوں سے دوچار ہوا ہے۔

 

Advertisement
لاہور: محمود بھٹی کے خلاف مذہبی و سماجی تنظیموں کااحتجاج، قانونی کارروائی کا مطالبہ

لاہور: محمود بھٹی کے خلاف مذہبی و سماجی تنظیموں کااحتجاج، قانونی کارروائی کا مطالبہ

  • 2 hours ago
آزاد کشمیر میں امن تباہ کرنے کی بھارتی کوشش ناکام ہو گئی ،وزیر دفاع 

آزاد کشمیر میں امن تباہ کرنے کی بھارتی کوشش ناکام ہو گئی ،وزیر دفاع 

  • 6 hours ago
وزیر خارجہ اسحاق ڈار چارملکی وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کیلئے مصر روانہ 

وزیر خارجہ اسحاق ڈار چارملکی وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کیلئے مصر روانہ 

  • 7 hours ago
صارفین کیلئے خوشخبری ،فیس بک سے کمانا ہوا اب اور بھی آسان،مونیٹائزیشن کے قوانین میں بڑی نرمی

صارفین کیلئے خوشخبری ،فیس بک سے کمانا ہوا اب اور بھی آسان،مونیٹائزیشن کے قوانین میں بڑی نرمی

  • 4 hours ago
قومی اسمبلی نے 407 کھرب 41 ارب روپے لازمی اخراجات کی منظوری دیدی

قومی اسمبلی نے 407 کھرب 41 ارب روپے لازمی اخراجات کی منظوری دیدی

  • 4 hours ago
قطر کی طرف سے تحفے میں دیا گیا لگژری جہاز ٹرمپ کو موصول،طیارہ نیا ائیر فورس ون بنے گا

قطر کی طرف سے تحفے میں دیا گیا لگژری جہاز ٹرمپ کو موصول،طیارہ نیا ائیر فورس ون بنے گا

  • 4 hours ago
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت تکنیکی سطح کے مذاکرات کل سوئٹزرلینڈ میں ہوں گے

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت تکنیکی سطح کے مذاکرات کل سوئٹزرلینڈ میں ہوں گے

  • an hour ago
سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی،ایران نے آبنائے ہرمز دوبارہ بند کرنےکا اعلان کردیا 

سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی،ایران نے آبنائے ہرمز دوبارہ بند کرنےکا اعلان کردیا 

  • 4 hours ago
 دنیا میں دہشتگردی کے سب سے بڑے سر پرست ایران کو قابو کرنا ناگزیر تھاہم نے وہ کر دکھایا،ٹرمپ

 دنیا میں دہشتگردی کے سب سے بڑے سر پرست ایران کو قابو کرنا ناگزیر تھاہم نے وہ کر دکھایا،ٹرمپ

  • 6 hours ago
9 مئی مقدمات: یاسمین راشد، محمود الرشید، عمر چیمہ اور اعجاز چوہدری کو 10، 10 سال قیدکی سزا، شاہ محمود بری

9 مئی مقدمات: یاسمین راشد، محمود الرشید، عمر چیمہ اور اعجاز چوہدری کو 10، 10 سال قیدکی سزا، شاہ محمود بری

  • 7 hours ago
امن مذاکرات پر مشاورت،وزیر داخلہ محسن نقوی ایران پہنچ گئے

امن مذاکرات پر مشاورت،وزیر داخلہ محسن نقوی ایران پہنچ گئے

  • 7 hours ago
پٹیرول کے بعد جیٹ فیول بھی جیٹ فیول 56 روپے 97 پیسے سستا

پٹیرول کے بعد جیٹ فیول بھی جیٹ فیول 56 روپے 97 پیسے سستا

  • 4 hours ago
Advertisement