انڈونیشیا خطے میں فرانس سے اسلحہ خریدنے والا سب سے بڑا ملک ہوگا۔


پیرس : فرانس نےکہاہےکہ انڈونیشیا 42 رافیل طیارے خریدے گا جس کے لیے 8.1 اب ڈالر کا معاہدہ ہوگیا ہے، جو فرانس کے ساتھ اسلحے کی خریداری کے دیگر معاہدوں کے سلسلے کا ایک حصہ ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق فرانس کی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا کہ انڈونیشیا آبدوزوں کی تیاری اور اسلحے کی خریداری کے معاہدوں کے سلسلے میں 8.1 ارب ڈالر مالیت کے 42 رافیل طیارے حاصل کرے گا۔رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کے بعد انڈونیشیا خطے میں فرانس سے اسلحہ خریدنے والا سب سے بڑا ملک ہوگا۔
انڈونیشیا کے وزیر دفاع پرابوو سوبیانتو نے اپنے فرانسیسی ہم منصب فلورینس پارلے سے ملاقات کے بعد کہا کہ ہم 42 رافیل طیارے حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔اس موقع پر فرانسیسی وزیر دفاع فلورینس پارلے نے کہا کہ ہمارے سٹریٹجک تعلقات ہمیں دفاعی تعلقات مضبوط کرنے میں سود مند ثابت ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے بعد انڈونیشیا خطے میں بھارت کے بعد دوسرا بڑا ملک ہوگا جو ڈیسالٹ ایوی ایشن کے تیار کردہ طیاروں پر انحصار کرے گا۔
فرانس کی وزارت دفاع کے عہدیداروں نے بریفنگ کے دوران بتایا کہ 8.1 ارب ڈالر مالیت کے طیاروں کی خریداری کا معاہدہ ڈیسالٹ ایوی ایشن، سیفران اور تھیلس میں پیداوار میں اضافے کا باعث ہوگا، معاہدے کے تحت پہلے مرحلے میں چھے رافیل طیارے اگلے ماہ میں حوالے کیے جائیں گے جبکہ دیگر 36 طیارے بعد کے مراحل میں فراہم کیے جائیں گے، جو رواں برس کے اواخر یا اگلے سال تک ممکن ہوگا۔
ڈیسالٹ ایوی ایشن نے بتایا کہ معاہدہ طویل شراکت داری کا آغاز ہے اور اس سے انڈونیشیا میں موجودگی کی جانب قدم ہوگا۔وزارت دفاع کے عہدیداروں نے بتایا کہ مذکورہ معاہدہ انڈونیشیا کو جنوب مشرقی ایشیائی خطے میں فرانس سے فوجی ساز وسامان کا سب سے بڑا خریدار بنا دے گا جبکہ اس وقت خطے میں سنگاپور کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔
فرانسیسی وزارت دفاع نے کہا کہ انڈونیشیا نے طیاروں کے علاوہ آبدوزوں کی تیاری میں تعاون کی یاد داشت پر بھی دستخط کیے ہیں، جس کےتحت نیول گروپ کی جانب سےدو جہاز تیار کیے جائیں گے۔رپورٹ کے مطابق انڈونیشیا کے پاس اس وقت امریکی تیار کردہ ایف-16 اور روسی ساختہ سخوئی ایس یو-27 ایس یو-30 طیاروں کی فلیٹ ہے جو کافی پرانی ہوچکی ہے۔
انڈونیشیا کےصدر جوکو ویدودو نےآبدوزوں کی تیاری،سٹیلائٹ سےمتعلق آلات اوراسلحے کی تیاری کےمعاہدے پردستخط کا خیرمقدم کرتے ہوئےکہا کہ مجھے امید ہے کہ دفاعی شراکت داری صرف اسلحے کی خریدار تک محدود نہیں ہے بلکہ تیاری اور مشترکہ پیداوار، ٹیکنالوجی کا تبادلہ اور دفاعی صنعت میں سرمایہ بھی زیر نظر ہے۔
ایران جنگ کے نتیجے میں معاشی بحران پیدا ہوا، صرف پیپلزپارٹی ملک کے معاشی مسائل حل کرسکتی ہے: بلاول
- 10 گھنٹے قبل
معروف مزاحیہ اداکار رفیع خاور المعروف ننھا کی برسی آج منائی جا رہی ہے
- 21 گھنٹے قبل

اوگرا نے ایک دفعہ پھر ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا، نوٹیفکیشن جاری
- 2 دن قبل

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، فتنہ الہندوستان کے 17 دہشتگرد ہلاک
- 13 گھنٹے قبل
پاکستان نے طویل مدتی تنازعات کے پھیلاؤ کے اثرات کے خطرات سے خبردارکردیا
- 20 گھنٹے قبل
دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
- 19 گھنٹے قبل

صدرِ زرداری نے وفاقی شرعی عدالت کے قائم مقام چیف جسٹس کی تقرری کی منظوری دے دی
- 2 دن قبل

ملائیشیا،16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندی
- 2 دن قبل

پنجاب حکومت کا آئندہ مالی سال ٹیکس فری بجٹ پیش کرنے کا فیصلہ
- 2 دن قبل

لبنان میں سیز فائر کی خلاف ورزی،ایران کا امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ معطل ، مذاکرات سے انکار
- 2 دن قبل
اٹلی:4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
- 17 گھنٹے قبل

چین کے ساتھ کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے، وزیراعظم
- 2 دن قبل


.jpg&w=3840&q=75)









