خلیجی ممالک سے تیل کی کنسائنمنٹس کو پاکستان کے راستے چین پہنچایا جائیگا،پاکستان اور چین کے درمیان فاصلے اور سفر کے دورانیہ میں نمایاں کمی آئے گی، جنرل آف ایڈوانس ٹرانسپورٹیشن


کراچی : گوادر یورپ اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ تجارت کے لیے ایک متبادل، محفوظ، مختصر اور سستا راستہ ہوگا، گوادر کے ذریعے چین نہ صرف سفر کا دورانیہ بچا ئے گا بلکہ ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں بھی اربوں ڈالر بچا سکتا ہے۔
جنرل آف ایڈوانس ٹرانسپورٹیشن میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق مشرق وسطیٰ میں کاشغر اور منزل مقصودکے درمیان 40 فٹ کے کنٹینر کی نقل و حمل کی لاگت میں تقریباً 1450 امریکی ڈالر اور یورپ میں منزل مقصود کے لیے 1350 امریکی ڈالر کی کمی واقع ہوئی ہے۔
گوادر پرو کے مطابق مشرق وسطیٰ میں منزلمقصود کے لیے سفر کے وقت میں 21 سے 24 دن اور یورپ میں منز ل مقصود کے لیے 21 دن کی کمی کی گئی ہے۔ مشرق وسطیٰ اور یورپ میں کاشغر سے منزل مقصود کا فاصلہ 11,000 سے 13,000 کلومیٹر تک کم ہو گیا ہے۔
چین پاکستان اقتصادی راہداری ( سی پیک ) کے تحت چین کے لیے سب سے اہم فائدہ چین کا تجارتی راستہ 12,000 کلومیٹر کے موجودہ سمندری راستے سے 2,000 کلومیٹر تک کم ہو جائے گا۔
خلیجی ممالک سے تیل کی کنسائنمنٹس کو پاکستان کے راستے چین پہنچایا جائے گا، جب کہ غیر تیل کی درآمدات کو گوادر کے ذریعے ٹرانسپورٹ روٹ کے ذریعے دنیا میں پہنچایا جائے گا۔ محققین کا خیال ہے کہ زمینی راستے کی تعمیر اور بہتری کی وجہ سے پاکستان اور چین کے درمیان فاصلے اور سفر کے وقت میں نمایاں کمی آئے گی اور دونوں معیشتوں کی جی ڈی پی میں تیزی سے اضافہ ہوگا۔
تجارت میں چین کے لیے فائدہ نہ صرف سفر کے وقت اور فاصلے میں کمی بلکہ بڑی مارکیٹ کے ساتھ رابطے کے ذریعے بھی ہو گا۔ اس کے علاوہ پاکستان اور چین کے مختلف خطوں کے درمیان عالمی تجارتی بہاؤ میں ترقی اور تجارت میں نمایاں تبدیلی متوقع ہے۔گوادر پرو کے مطابق تحقیقی رپورٹ اس حقیقت کی نمائندگی کرتی ہے کہ چین سی پیک کے نئے روٹ سے اپنی درآمدات اور برآمدات پر یورپ اور مشرق وسطیٰ کے منتخب ممالک سے شپنگ لاگت کے لحاظ سے تقریباً 71 بلین امریکی ڈالر بچائے گا۔
دوسری جانب اس روٹ کے ساتھ پاکستان میں مقامی صنعت اورسروسز کے شعبے کو بھی فائدہ ہوگا۔ راستے میں تجارتی سرگرمیاں روزگار کے ہزاروں مواقع پیدا کریں گی۔ مزید یہ کہ وسطی ایشیائی ریاستیں بھی گوادر پورٹ کے ذریعے دنیا سے رابطہ قائم کرنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے گوادر پورٹ اور اس سے منسلک سہولیات میں دلچسپی ظاہر کی۔ اس لیے سی پیک کو پورے خطے کے لیے گیم چینجر سمجھا جاتا ہے۔
اس سے نہ صرف پاکستان اور چین بلکہ مشرق وسطیٰ، یورپ اور غیر ساحلی وسطی ایشیائی ممالک کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ تاجکستان، ترکمانستان، قازقستان، کرغزستان اور افغانستان جیسے خشکی سے گھرے وسطی ایشیائی ممالک گوادر بندرگاہ سے مختصر ترین سمندری راستے کا فائدہ اٹھا سکیں گے۔

سعودی عرب کی مشرق وسطیٰ کے مماک اور ایران کے مابین عدم جارحیت کے معاہدے کی تجویز
- 3 hours ago

6 عرب ممالک کا اقوام متحدہ کو خط، آبنائے ہرمز پر ایرانی قوانین واپس لینے کا مطالبہ
- 4 hours ago

بنگلادیش کیخلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں سلو اوور ریٹ پر پاکستان ٹیم جرمانہ عائد
- 4 hours ago

مجھے سابق پولیس افسر شوہر نے اپنے منشیات فروش گینگ کا حصہ بنایا،گرفتار پنکی کا بیان
- a day ago

پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات ناکام نہیں ہوئے،ایران کے کسی معاملے کا عسکری حل نہیں ،عراقچی
- 3 hours ago

چینی صدر ہرمز کو کھلارکھنے اور ایران کے جوہری ہتھیار نہ رکھنے پر متفق ہیں،ٹرمپ
- 4 hours ago

پاکستان نے چین میں پہلا پانڈا بانڈ کامیابی سے جاری کر دیا،وزیرخزانہ کی مبارکباد
- 4 hours ago
.jpeg&w=3840&q=75)
آپتھلمولوجیکل سوسائٹی اور پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے باہمی اشتراک سے "کالا موتیا کے جدید علاج" پر ورکشاپ کا انعقاد
- 3 hours ago

چینی کمپنی کا پاکستان میں ڈیجیٹل اکانومی ہیڈکوارٹر قائم کرنے کا فیصلہ خوش آئندہے، وزیرِ اعظم
- 5 hours ago

عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمتوں میں حیران کن کمی،فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- 4 hours ago

مضبوط پالیسی اقدامات نے پاکستان کی معاشی بحالی کو سہارا دیا، آئی ایم ایف نے رپورٹ جاری کردی
- 4 hours ago

پنکی کا برانڈ نیم ہی اس کا پھندا بنے گا،سہولت کاری میں ملوث دیگر کوبھی پکڑا جا رہا ہے،ایڈیشنل آئی جی سندھ
- 2 hours ago












