Advertisement
پاکستان

حکومت کا الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق قانون میں تبدیلی کا فیصلہ : وزراء ، پارلیمینٹیرین انتخابی مہم چلا سکیں گے

اسلا م آباد : حکومت کی جانب سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ضابطۂ اخلاق کے قانون میں تبدیلی کا فیصلہ ، کابینہ نے آرڈیننس کے ذریعے ترمیم کی منظوری دیدی ۔  جی این این نے کابینہ کو بھیجی گئی سمری حاصل کر لی۔ 

GNN Web Desk
شائع شدہ 4 years ago پر Feb 19th 2022, 8:08 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
حکومت کا الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق قانون  میں تبدیلی  کا فیصلہ :  وزراء ، پارلیمینٹیرین انتخابی مہم چلا سکیں گے

جی این این کے مطابق سمری وزارت پارلیمانی امور کی جانب سے بھجوائی گئی ہے ، دستاویز میں وزارت نے الیکشن ایکٹ کے سیکشن 181 میں نئی جزوی شق کو شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔  سیکشن 181 کے تحت وزرا اور منتخب رکن پر الیکشن شیڈول کے بعد متعلقہ حلقے میں ترقیاتی سیکموں کے اعلان پر پابندی برقرار رہے گی ۔  شق کے تحت وفاقی کابینہ اور منتخب ارکان انتخابی مہم میں حصہ اور جلسوں سے خطاب کر سکیں گے۔ 

 دستاویزمیں پارلیمانی امور کی سمری کی وزارت قانون نے بھی حمایت کی،الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں، امیدواروں اور پولنگ ایجنٹ کے لیے ضابطہ اخلاق بنا رکھا ہے ،  ضابطہ اخلاق الیکشن ایکٹ 2017 کی شق 233 کے تحت بنایا گیا ہے۔ضابطہ اخلاق کے تحت منتخب نمائندوں پر انتخابی مہم میں شرکت کے لیے مختلف پابندیاں عائد ہیں۔ 

دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ملک بھر میں بلدیاتی انتخابات ہو رہے ہیں، بلدیاتی انتخابات کے دوران سیاسی جماعتوں کو عوامی مفاد میں اپنے منشور کی تشہیر کی اجازت ہونی چاہیے ۔  آئین کا آرٹیکل 19 کسی بھی شخص کو اظہار رائے کی آزادی دیتا ہے۔  سیاسی جماعتوں کو بلدیاتی انتخاب میں برابری کا میدان دیا جانا چاہیے ، آئین کا آرٹیکل 25 تمام سیاسی جماعتوں کو انتخابی مہم کے مساوی مواقع فراہم کرنے کا حق دیتا ہے،  آئین کا آرٹیکل 19 اے بھی عوام کو معلومات کا حق فراہم کرتا ہے۔ 

دستاویزکے مطابق لوگوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ امیدواروں سے پارٹی منشور سے متعلق معلومات حاصل کر سکتے ہیں،منتخب نمائندوں کا مطالبہ رہا ہے کہ متعلقہ حلقوں میں ووٹر سے ملنے اور اپنا پلان شیئر کرنے کی اجازت ہونی چاہیے، سپریم کورٹ کے فیصلوں کی روشنی میں ضروری ہے کہ الیکشن ایکٹ 2017 میں ترمیم کی جائے۔ 

ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کو الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق قانون پر تحفظات تھے ۔

Advertisement