عدم اعتماد سے قبل دھمکی دی گئی کہ فوری انتخابات مانیں ورنہ مارشل لاء آئے گا : بلاول بھٹو
اسلام آباد: وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ عدم اعتماد کی تحریک پیش ہونے سے سے ایک رات قبل مجھے حکومتی وزیر کی جانب سے دھمکی پہنچائی گئی کہ فورا انتخابات مانیں یا پھر مارشل لاء آئے گا۔


تفصیلا ت کے مطابق قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ خان صاحب یا اپنی مرضی کے انتخابات چاہتے ہیں یا تیسری قوت کو مداخلت کرانا چاہتے ہیں ، تحریک عدم اعتماد سے ایک رات قبل مجھے فوری انتخابات ورنہ مارشل لا کی دھمکی دی گئی ۔ ادارے غیر جمہوری اقدام کرنے سے گریز کی پالیسی پر قائم رہے ، اگر جمہوریت کی ترقی چاہتے ہیں تو ہمیں ان واقعات کی تحقیقات کرکے متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ میری پارٹی بالکل واضح ہے، پہلے انتخابی اصلاحات پھر انتخابات۔ پہلا ٹارگٹ گزشتہ انتخابات کے انتخابی قوانین کو تبدیل کرنا ہے ، آرٹی ایس جیسی ای وی ایم جیسے اقدامات واپس کرنا ہوں گے ، ہم انتخابی اصلاحات سوسائٹی کی مدد سے کرنا چاہتے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ کرونا اور غذائی اجناس کی کمی بہت بڑا طوفان لیکر آرہا ہے، ایسی صورتحال میں سابق وزیر اعظم کو آئین شکنی پر کیسے آزاد چھوڑا جاسکتا ہے، اس ایوان کو پارلیمانی کمیشن بناکر فوری کام شروع کرنا چاہئے۔
ان کاکہنا تھا کہ چار سال چور چور کا شور مچانے والا خود چور نکلا، کوئی کارکردگی کا پوچھے تو اداروں پر حملہ کرتا ہے ۔ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے اس کی چوری پر مہر تصدیق ثبت کیا۔
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ حالات ہمارے اندازے سے بھی زیادہ خراب تھے،سابق وزیراعظم نے بھاگتے بھاگتے آئین توڑا، عمران خان کی مالی حالت 4 سال میں کیسے بہتر ہوئی ؟ کوئی عمران خان سے پوچھے انہوں نے 4 سال پاکستان کیساتھ کیا کھیل کھیلا ، عمران خان ملک میں ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دے رہے ہیں، عمران خان ملکی اداروں پر حملہ آور ہیں جو ناقابل برداشت ہے۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ سیاست اور معاشرے میں پیدا ہونے والی تقسیم سے نمٹنے کے لیے بنیادی ضابطہ اخلاق کی ضرورت ہے جس پر اگر آئندہ انتخابات سے پہلے اتفاق نہیں ہوا تو اگلا الیکشن خونی ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ کوئی بنیادی ضابطہ اخلاق ہونا چاہیے جس کے تحت سیاسی جماعتیں، میڈیا، عدالتیں، اسٹیبلشمنٹ اور دیگر ادارے آئین کے تحت کام کر سکیں۔
وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ بھارت مقبوضہ وادی میں کشمیریوں کی آبادی کو تبدیل کر رہا ہے، مقبوضہ میں بھارتی مظالم کا سلسلہ جاری ہے، بھارتی اقدامات کی بھرپور مذمت کرتے ہیں.
انہوں نے کہا کہ بھارت نے 5 اگست کے بعد غیر کشمیریوں کی آبادکاری شروع کی ، بھارتی حکومت نئی حد بندیوں کے ذریعے مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی آواز کو دبانا چاہتی ہے، جموں کی نشستوں میں چھ کا اضافہ کیا گیا ہے جب کہ مقبوضہ کشمیر میں صرف ایک نشست بڑھائی گئی ۔ بھارت کے خود ساختہ کمیشن کو مسترد کرتے ہیں۔
بلاول بھٹو کاکہنا تھا کہ بھارتی ناظم الامور کو دفتر خارجہ بلا کر سخت احتجاج کیا گیا ، مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہےعالمی برادری کے سامنے یہ معاملہ بار بار اٹھاتے رہیں گے۔

نادرانے مشین متعارف کر وا دی، عوام کو کیا فائدہ ہو گیا؟
- 12 گھنٹے قبل

وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی پہلی قومی یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی کا اجرا کر دیا
- 7 گھنٹے قبل
حج 2027کے لیے درخواست اور پاسپورٹ سے متعلق نئی ہدایات جاری کر دی گئیں
- 2 دن قبل
آئل ٹینکر پر حملہ، دو پاکستانیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
- 2 دن قبل
وزیراعظم کی کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤسز کے 3 سالہ آڈٹ کرانے کی ہدایت
- ایک دن قبل

فیملی ڈرامہ ’’فرینڈز آف سیونٹیز‘‘ نے دھوم مچا دی
- ایک دن قبل
گوگل جیمنائی کے صارفین کی تعداد کتنی ہو گئی؟
- 13 گھنٹے قبل
ایک اور لڑاکا طیارہ گر کر تباہ
- 7 گھنٹے قبل

ملک میں سونے کی قیمت میں ایک اور اضافہ
- 2 دن قبل
بالی وڈ اسٹارمادھوری ڈکشت 24 سال بعد ٹی وی اسکرین پر جلوہ گر ہوں گی
- 13 گھنٹے قبل

ورلڈکپ 2027، 10 ٹیموں کی براہِ راست انٹری
- ایک دن قبل

پنجابی فلم ’’عشق بدمعاش‘‘ کا ٹریلر جاری
- ایک دن قبل


