جی این این سوشل

پاکستان

شمالی وزیرستان : فائرنگ سے بچے سمیت 4 افراد جاں بحق

میرانشاہ: خیبرپختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان میں ریسٹورنٹ کے باہر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے بچے سمیت 4 افراد جاں بحق ہو گئے۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

شمالی وزیرستان :  فائرنگ سے بچے سمیت 4 افراد جاں بحق
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ شمالی وزیرستان کے علاقے  میران شاہ ڈانڈے درپہ خیل میں پیش آیا جہاں رات 10 بجے کے قریب ایک مقامی ریسٹورنٹ کے قریب نامعلوم افراد نے فائرنگ کر دی، فائرنگ کے نتیجے میں ایک بچے سمیت 4 مقامی افراد جاں بحق ہوئے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ میں جاں بحق افراد کی لاشوں اور دیگر متاثرہ افراد کو ہیڈکوارٹر اسپتال میران شاہ منتقل کردیا گیا ہے جبکہ واقعے کی تفصیلات معلوم کی جارہی ہے۔

پاکستان

آئین اور قانون کے مطابق چلیں گے تو ملک آگے بڑھے گا: وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے  کہ  آئین اور قانون کے مطابق چلیں گے تو ملک آگے بڑھے گا، ہم نے انتشار اور تقسیم کی سازش کو روکنااور ملک کو پرامن اور خوشحال بنانا ہے۔ 

پر شائع ہوا

Asma Rafi

کی طرف سے

آئین  اور  قانون کے مطابق چلیں گے تو ملک آگے بڑھے گا: وزیراعظم

تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں ریڈ زون کا دورہ کیا ، اس موقع پر وزیراعظم  نے امن و امان قائم رکھنے پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خراج تحسین پیش کیا۔ 

وزیر اعظم  شہباز شریف نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ  سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں نے عوام کی جان و مال کاتحفظ بخوبی انجام دیاہے ،  یہ قومی فریضہ ہے،ملک ہم سب کاہے،قوم بھی یہی توقع کرتی ہے کہ ذاتی پسند ناپسند سے بالا تر ہو کر آئین اور قانون کے مطابق چلیں گے تو ملک ترقی ، خوشحالی ، یگانگت اور اتفاق کی طرف بڑھے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم ملک کر پاکستان کو قائد کا پاکستان بنائیں گے، وزیراعظم نے پاکستان رینجر، اسلام آباد پولیس ، ٹریفک پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے 22 کروڑ عوام کی دعائیں آپ کے ساتھ ہیں ، ہماری دعا ہے کہ ملک امن و خوشحالی ، ترقی کی طرف بڑھے،انتشار اور تقسیم کو ہم نے روکنا ہے، قوم کےاندر تقسیم در تقسیم پیداکرنے کی کوشش کی گئی ہے، اس سازش کو بھی ہمیں روکناہو گا۔

 وزیراعظم نے سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں سے مصافحہ بھی کیا اور پاکستان زندہ باد کے نعرے بھی لگائے۔

اس موقع پر وزیر داخلہ رانا ثنااللہ اور وزیردفاع خواجہ محمد آصف بھی ان کے ہمراہ تھے۔ 

 

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

عمران خان کے خلاف کارروائی کی اجازت دینے کی حکومتی استدعا مسترد

چیف جسٹس نے کہا سرکاری اورنجی املاک کونقصان پہنچاناغلط ہے اور استفسار کیا کیا راستے کھل گئے ہیں، جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ جی راستےکھول دیےگئےہیں۔

پر شائع ہوا

Muhammad Akram

کی طرف سے

عمران خان کے خلاف کارروائی کی اجازت دینے کی حکومتی استدعا مسترد

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے عمران خان کے خلاف کارروائی کی اجازت دینے کی حکومتی استدعا مسترد کردی، عدالت نے کہا حکومت کل کےعدالتی حکم کو مدنظر رکھ کراپناکام خود کرے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں پی ٹی آئی کیخلاف قانونی کارروائی کیلئے درخواست پر سماعت ہوئی ، چیف جسٹس کی سربراہی میں 5رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ پہلےعدالت اٹارنی جنرل کوسنناچاہتی ہے ، جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ اسلام آبادہائی کورٹ بار نے عوامی مفاد کی درخواست دائرکی تھی، سپریم کورٹ نےاس درخواست پرعبوری حکم نامہ دیا، پی ٹی آئی وکیل نےقیادت کی ہدایات پرعدالت کویقین دہانی کرائی، پی ٹی آئی نے جس جگہ کاتقاضا کیاعدالت نےاس کی اجازت دی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آئین کےآرٹیکل16،15اور17کےتحت عوام کےآئینی حقوق ہیں، سپریم کورٹ کےعبوری حکم نامےنےتوازن قائم کیا، پی ٹی آئی نے حالیہ دنوں میں متعددجلسےاورریلیاں کیں، اٹارنی جنرل نے بتایا کہ پی ٹی آئی نے33جگہوں پرریلیاں اورجلسے کیے۔

چیف جسٹس نے کہا سرکاری اورنجی املاک کونقصان پہنچاناغلط ہے اور استفسار کیا کیا راستے کھل گئے ہیں، جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ جی راستےکھول دیےگئےہیں۔

جسٹس عطا بندیال نے کہا تحریک انصاف نےعدالت میں یقین دہانی کی خلاف ورزی کی ، ہم اس پربعدمیں آئیں گے، اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ کروڑوں مالیت کےسرکاری ونجی املاک کونقصان پہنچایاگیا، چیف کمشنراس کاتخمینہ دیں گے۔

چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ ایگزیکٹوآئینی حدودمیں رہتےہوئےاپناکام جاری رکھیں، گزشتہ روزہماری ٹی وی کی لائن منقطع ہوگئی،نہیں معلوم صبح کیاہوا ، تو اٹارنی جنرل نے کہا چیئرمین تحریک انصاف ریڈزون سے کچھ فاصلے پرموجودتھے، انہوں نےخطاب کیامیں نےاپناذہن بدل دیااب دھرنانہیں دوں گا اور حکومت کو6دن کی مہلت دی اسمبلیاں تحلیل اورالیکشن کااعلان کریں۔

اٹارنی جنرل نے مزید کہا کہ عمران خان نےمظاہرین کومنتشرہونےکابھی نہیں کہا، تحریک انصاف نےعدالتی حکم کی کھلی خلاف ورزی کی ہے، جس پر چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ ہماراکام عوام کےحقوق کویقینی بناناہے، ہم نے ریاست کوآئینی حقوق کی خلاف ورزیوں سے روکا، لوگوں کےگھروں پرچھاپےنہ مارنےاورگرفتارنہ کرنے کاکہا۔

جسٹس عطا بندیال کا کہنا تھا کہ ہم نےقانون نافذکرنےوالےاداروں کوہرممکن اقدام کرتےدیکھاہے، سپریم کورٹ نےآئینی حقوق کےتحفظ کیلئےیہ کیس سنا ہے۔

سپریم کورٹ نےتوہین عدالت سمیت تمام درخواستیں نمٹا دیں ، چیف جسٹس نے کہا کیس کاحکم نامہ جاری کرینگےجومستقبل کیلئےمثال بنے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کسی پر الزام لگانے کیلئےکارروائی نہیں کررہے، عدالت نے صرف آئینی حقوق کی خلاف پر حکم جاری کیاتھا، علم میں آیا ہے کہیں شیلنگ ہوئی لوگ زخمی بھی ہوئے ، جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ حکومت کو کل رات فوج طلب کرناپڑی۔

جسٹس عطا بندیال نے کہا کہ عوام کے آئینی حقوق لامحدود نہیں ہوتے، عدالتی حکم میں فریقین میں توازن کی کوشش کی گئی، پی ٹی آئی کے تمام جلسے پر امن تھے، پی ٹی آئی پچھلے کچھ عرصے میں 33 جلسے کرچکی ہے، توقع ہے پی ٹی آئی کو اپنی ذمہ داری کا بھی احساس ہوگا۔

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ کل 31 پولیس اہلکار پتھراؤ سے زخمی ہوئے، فائر بریگیڈاور بکتر بند گاڑیوں کو بھی آگ لگائی گئی، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کل سڑکوں پر صرف کارکنان تھےلیڈر شپ نہیں تھی، آنسو گیس سے بچنے کے لیے آگ لگائی گئی، کارکنان کو قیادت روک سکتی تھی جو موجود ہی نہیں تھی۔

چیف جسٹس نے واضح کیا کہ عدالت کا کوئی ایجنڈا نہیں ہے، حکومت،تحریک انصاف کواخلاقی سپورٹ چاہیے توباہمی اعتمادقائم کرے، سیاسی کشیدگی سے ہمیشہ ملک کا نقصان ہوتا ہے، عدالت ٹھوس وجہ پر ہی سیاسی نوعیت کے معاملےمیں مداخلت کرے گی ، قانون ہاتھ میں لیکرسسٹم کیلئےخطرہ بننےسےملک کانقصان ہوتاہے، ممکن ہے عمران خان کو پیغام درست نہ پہنچا ہو۔

دوران سماعت اٹارنی جنرل کی پیش کردہ ویڈیو کلپ عدالت میں چلائی گئی، جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا عمران خان کے اس پیغام کے بعد کیا ہوا یہ بتائیں، عدالت آئین کی محافظ ہے، تحریک انصاف کے تمام جلسے پرامن تھے، توقع ہے تحریک انصاف کو اپنی ذمہ داریوں کابھی احساس ہوگا۔

اٹارنی جنرل نے کا کہنا تھا کہ عوام کو بغیر قیادت ہی گھروں سے نکلنے کی کال دی گئی تھی تو چیف جسٹس کا ریمارکس میں کہنا تھا کہ دیکھنا ہوگا وکلا عمران خان سے رابطہ کرسکتے تھےیا نہیں، عدالت نے فریقین میں اعتماد پیدا کرنے کی کوشش کی تھی، عدالت کی اس کوشش کو دھچکا لگا، کل عدالت نے شہریوں کے تحفظ کی کوشش احتجاج سے پہلے کی، عمومی طور پر عدالتی کارروائی واقعہ ہونے کے بعدہوتی ہے۔

اٹارنی جنرل نے استدعا کی عدالت نے اس معاملے میں خود ثالث بننے کی ذمہ داری لی، جس پرچیف جسٹس نے کہا تحریک انصاف کو بھی حکومت پر کئی تحفظات ہوں گے، اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ عدالت کو کرائی گئی یقین دہانیوں کی خلاف ورزیاں ہوئیں۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس میں کہا کہ جو کچھ کل ہوا وہ آج ختم ہوچکا ہے، عدالت انتظامیہ کے اختیارات استعمال نہیں کرتی، عدالت عوام کے تحفظ کے لئے ہر وقت دستیاب ہے، عوام کے تحفظ کے لئے ہی چھاپے مارنے سے روکا تھا، عدالت چھاپے مارنے کے خلاف اپنا حکم برقرار رکھے گی۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے مکالمے میں کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب حکومت قانون کے مطابق اپنا کام کرے، کل ہماری ٹی وی لائنز بھی بند کردی گئی تھیں، حکومت عدالتی احکامات کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرے۔

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ آج ڈی چوک سے کچھ پہلے عمران خان نے تقریر کی، عمران خان نے دھرنا دینےکے بجائے 6 دن کی ڈیڈ لائن دی، عمران خان نے کارکنوں کو واپس جانے کا نہیں کہا، کرورڑوں روپے کی سرکاری اراضی کو تباہ کیا گیا، کارروائی نہ ہوئی تو کل عدالتی یقین دہانی پرعمل نہیں کرے گا۔

جسٹس عمرعطا بندیال نے امریکا صدارتی الیکشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا امریکا میں بھی صدارتی الیکشن میں ایسا واقعہ ہوا تھا، کل عام لوگ نکلے ہوئے تھے جنھوں نے غیرذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کیا جلسے کا مقام اب بھی دستیاب ہے؟ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ عدالت حکم دے گی تو گراؤنڈ دستیاب ہوجائے گا، مسئلہ یہ ہے کہ تحریک انصاف گراؤنڈ میں جائے تو سہی۔

فی الحال یہ کیس نمٹا رہے ہیں کیونکہ راستے کھل چکے ہیں، عدالت نے ضروری سمجھا تو دوبارہ کیس بحال کردیں گے۔

سپریم کورٹ نے عمران خان کیخلاف کارروائی کی حکومتی درخواست اور رکاوٹیں ہٹانے کیلئے دائر اسلام آباد ہائیکورٹ بار کی درخواست نمٹا دی۔

سپریم کورٹ نے عمران خان کے خلاف کارروائی کی اجازت دینے کی حکومتی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا حکومت کل کےعدالتی حکم کو مدنظر رکھ  کر اپنا کام خود کرے۔

پڑھنا جاری رکھیں

دنیا

افغانستان میں 11 لاکھ کمسن بچے غذا ئی قلت کا شکار ہیں : اقوام متحدہ

برسلز:اقوام متحدہ  کاکہنا ہے  کہ رواں سال افغانستان میں تقریباً 11لاکھ بچّے غذا ئی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں۔ 

پر شائع ہوا

Asma Rafi

کی طرف سے

افغانستان میں 11  لاکھ کمسن بچے غذا ئی قلت  کا شکار ہیں : اقوام متحدہ

امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق افغانستان میں یونیسیف کے غذائیت کے پروگرام کی سربراہ میلینی گیلون نے کہا ہے کہ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے اندازہ ہے کہ افغانستان میں 2018 کے مقابلے میں شدید غذائی قلت  کے شکارمیں5سال سے کم عمر بچّوں کی تعداد دوگنی ہوسکتی ہے جبکہ گزشتہ سال یہ تعداد 10 لاکھ کے قریب تھی ۔

اقوام متحدہ اوردیگرامدادی ایجنسیاں قحط کے شکار ملک میں ہنگامی بنیادوں پر امداد دے رہی ہیں تاکہ بھوکے عوام کو مناسب خوراک مل سکے۔

انہوں نے بتایا کہ امدادی کوششوں کے باوجود غربت اور بھوک بڑھتی جا رہی ہے دوسری طرف یوکرین کی جنگ کی وجہ سے عالمی سطح پرخوراک کی قیمتیں بھی بڑھ رہی ہیں اسی غربت کی وجہ سے حاملہ خواتین کو مناسب غذا نہیں مل پاتی اور بچّے پیدا ہونے سے قبل ہی کم خوراکی کی وجہ سے مختلف بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ اس شدید حالت میں بچّوں کا وزن کم ہوجاتا ہے اور ان کی قوت مدافعت اتنی کمزور پڑجاتی ہے جس سے وہ  جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یونیسیف نے پورے ملک میں ایک ہزار کے قریب صحت کے مراکز قائم کیے ہیں، جہاں ایسے بچّوں کا علاج اور دیکھ بھال کی جا رہی ہے تاہم ان کا کہنا ہے یہ ہنگامی امداد زیادہ دیر جاری نہیں رہ سکتی۔

اطلاعات کے مطابق یونیسیف نے افغانستان میں  تقریباً ایک ہزار علاج کے ادارے کھولے ہیں جہاں والدین اپنے غذائی قلت کے شکار بچوں کو لا سکتے ہیں۔ 

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll