لندن : برطانوی ہیتھ ڈیپارٹمنٹ نے انگلینڈ میں منکی پوکس کے 36 نئے کیس رپورٹ ہونے کی تصدیق کی ہے، جس کے بعد اس بیماری سے متاثرین کی تعداد 57 ہو گئی ہے۔


برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ منکی پاکس اب تک مہلک ثابت نہیں ہوا ۔ ایک بیان میں برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ منکی پاکس وائرس کی منتقلی کو غور سے دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی منکی پاکس کو دیکھ رہی ہے۔
دوسری جانب اسکاٹ لینڈ میں بھی وائرس کا پہلا کیس رپورٹ ہو گیا ہے ، ماہرین صحت نے کہا ہے کہ منکی پاکس سے مجموعی خطرہ کم ہے، اور اس بیماری پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ شمالی آئرلینڈ کی پبلک ہیلتھ ایجنسی اور پبلک ہیلتھ ویلز نے کہا کہ ان کے پاس کوئی تصدیق شدہ کیس نہیں ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق منکی پاکس کی ایک سے دوسرے انسان میں منتقلی کو روکا جاسکتا ہے، ایسا کوئی ثبوت نہیں کہ منکی پاکس وائرس میں کوئی میوٹیشن ہوئی۔
عالمی ادارہ صحت نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ آئندہ دنوں میں مختلف ممالک میں منکی پاکس کے مزید کیسز بھی سامنے آسکتے ہیں۔ برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ اب تک 12 ایسےممالک میں منکی پاکس کے کیسز سامنے آچکے ہیں جہاں اس سے پہلے یہ وائرس موجود نہیں تھا ، رپورٹ ہونے والے کیسز میں 92 مصدقہ اور 28 مشتبہ کیسز شامل ہیں۔
منکی پاکس کیا ہے اور اس کی علامات ؟
منکی پاکس کا شکار ہونےوالے افراد کی ابتدائی علامات میں بخار، سر درد، سوجن، کمر میں درد، پٹھوں میں درد اور عام طور کسی بھی چیز کا دل نہ چاہنا شامل ہیں ۔ وائرس سے زیادہ متاثر ہونےوالے افراد کو شدید خارش اور جسم کے مختلف حصوں پر دانے نکلنے کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ کیسے پھیلتا ہے؟
جب کوئی متاثرہ شخص کے ساتھ قریبی رابطے میں ہوتا ہے تو اس میں منکی پاکس پھیل سکتا ہے۔ یہ وائرس ٹوٹی اور پھٹی ہوئی جلد، سانس کی نالی یا آنکھوں، ناک یا منہ کے ذریعے جسم میں داخل ہو سکتا ہے۔
اسے پہلے جنسی طور پر منتقل ہونے والے انفیکشن کے طور پر بیان نہیں کیا گیا تھا، لیکن یہ جنسی تعلقات کے دوران براہ راست رابطے سے منتقل ہو سکتا ہے ۔
یہ بندروں، چوہوں اور گلہریوں جیسے متاثرہ جانوروں کے رابطے میں آنے سے بھی پھیل سکتا ہے یا وائرس سے آلودہ اشیاء، جیسے بستر اور کپڑوں سے بھی پھیل سکتا ہے۔
یہ کتنا خطرناک ہے ؟
وائرس کے زیادہ تر اثرات ہلکے ہوتے ہیں، بعض اوقات چکن پاکس سے ملتے جلتے ہوتے ہیں، اور چند ہفتوں میں خود ہی صاف ہو جاتے ہیں۔ تاہم منکی پاکس بعض اوقات زیادہ شدید ہو سکتا ہے، اور مغربی افریقہ میں اس کی وجہ سے اموات کی بھی اطلاعات ہیں جن کی تصدیق نہیں کی جا سکی ۔ وائرس لوگوں کے درمیان آسانی سے نہیں پھیلتا اور اس لیے اس کا بڑے پیمانے پر پھیلاؤ کے حوالے سے خطرہ بہت کم بتایا جاتا ہے۔
وائرس کا علاج؟
برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس کے مطابق یہ ایک نایاب وائرل انفیکشن ہے جو اثرات کے اعتبار سے عام طور پر ہلکا ہوتا ہے اور اس سے زیادہ تر لوگ چند ہفتوں میں ٹھیک ہو جاتے ہیں ۔
منکی پاکس کے اثرات پانچ سے تین ہفتوں میں ظاہر ہوتے ہیں جن میں سے اکثر کو اسپتال منتقل کرنے نوبت نہیں آتی۔یہ وائرس 10 میں سے ایک فرد کے لیے جان لیوا ثابت ہوتا ہے اوربچوں پر زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔
لیجنڈ گلوکارعطا اللہ عیسیٰ خیلوی کا اپنی تدفین کے حوالے سے انکشاف
- 18 hours ago

وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے ڈیٹا سینٹر سکائی 47 قراقرم ون کا افتتاح کر دیا
- 12 hours ago
وزیراعظم کا لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو ''فور اسٹار جنرل''کے عہدے پر ترقی دینے کااعلان
- 17 hours ago
لاہور: آوارہ کتوں کا دو کم سن بچوں پر حملہ، دونوں شدید زخمی
- 2 days ago
.jpeg&w=3840&q=75)
پنجاب میں جدید زرعی آلات کی مقامی تیاری کیلئے مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق
- 19 hours ago
ملک میں یومِ تکریمِ شہداء پر خطباتِ جمعہ میں قربانیوں کو زبردست خراجِ عقیدت
- 18 hours ago

لاہور: غیر قانونی افغان باشندوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کا حکم
- 18 hours ago

سعودی عرب کا دفاع، پاکستان کا دفاع ہے: طاہراشرفی
- 2 days ago

سونے کی قیمت میں مسلسل دوسرے روز بڑی کمی، خریداروں کے چہرے کھل اٹھے
- 15 hours ago

2027 میں 5 ون ڈے میچوں کی سیریز کھیلنے کے لیےپاکستان انگلینڈ کا دورہ کرے گا
- 2 days ago

بچوں کے پسندیدہ ڈرامہ 'عینک والا جن' کی نئے انداز میں واپسی
- 2 days ago

مون سون نے خطرے کی گھنٹی بجا دی، محکمۂ صحت ڈینگی کے ممکنہ پھیلاؤ سے الرٹ
- 15 hours ago


