جی این این سوشل

جرم

شکارپور: دو گروپو ں میں فائرنگ ، 2 افراد قتل ،3زخمی

شکارپور : تحصیل خانپور  میں جتوئی قبیلے کے دو گروپوں میں فائرنگ کے نتیجے میں 2 افراد قتل جبکہ 3 شدید زخمی ہوگئے ۔ 

پر شائع ہوا

کی طرف سے

شکارپور:  دو گروپو ں میں فائرنگ ، 2 افراد قتل ،3زخمی
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

جی این این  کے مطابق واقعہ  خانپور تحصیل کے ناپر کوٹ کچے کے علاقے  میں پیش آیا ، جہاں دو گروپوں میں  دیرینہ دشمنی دو افراد کی جان لے گئی جبکہ تین افراد شدید زخمی ہوگئے۔ 

واقعے کی اطلا ع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی ، پولیس کے مطابق  جاں  بحق افراد کی شناخت یاسین جتوئی اور سلطان جتوئی کے نام سے ہوئی ہے۔ 

پولیس  حکام کا کہنا ہے کہ جتوئی قبیلے کے تینوں زخمیوں کو تشویشناک حالت کے باعث  سکھر ریفر کر دیا گیا ہے  جبکہ مزید خون ریزی کو روکنے کیلئے  پولیس  کی بھاری  نفری علاقے  میں  روانہ کردی گئی ہے۔ 

پاکستان

پی ٹی آئی ارکان کے استعفے سیاسی تنازعہ، حل کے لیے پارلیمنٹ موجود ہے، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ پی ٹی آئی ارکان کے استعفے سیاسی تنازعہ ہے اور ان کے حل کیلئے پارلیمنٹ موجود ہے۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

پی ٹی آئی ارکان کے استعفے سیاسی تنازعہ، حل کے لیے پارلیمنٹ موجود ہے، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ

 

اسلام آباد ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی کی استعفوں کی منظوری کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ استعفوں کی منظوری میں طریقہ کار پر عمل نہیں کیا گیا،

یہ عدالت پارلیمنٹ کا احترام کرتی ہے، درخواست گزاروں کو پہلے اپنی نیک نیتی ثابت کرنی ہو گی۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا یہ درخواست گزار پارٹی پالیسی کے خلاف جائیں گے؟ اس عدالت کو معلوم تو ہو کہ کیا یہ پارٹی کی پالیسی ہے؟درخواست گزاروں کو ثابت کرنا ہو گا کہ وہ پارلیمنٹ کا سیشن اٹینڈ کرتے رہے ہیں۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ حلقے کے عوام نے اعتماد کر کے ان لوگوں کو پارلیمنٹ میں بھیجا، یہ سیاسی تنازعے ہیں اور انکے حل کیلئے پارلیمنٹ موجود ہے۔

درخواست گزاروں کے وکیل علی ظفر نے موقف اختیار کیا کہ اراکین پارٹی پالیسی کے خلاف نہیں ہیں، اس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے پھر تو درخواست قابل سماعت نہیں ، پارٹی تو کہتی ہے کہ ہم نے استعفے دیئے ہیں۔

اگر یہ پارٹی پالیسی کے ساتھ ہیں پھر تو تضاد آ جاتا ہے، یہ عدالت اسپیکر کو ڈائریکشن تو نہیں دے سکتی۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

امپورٹڈ حکومت نے عمران خان کیخلاف مقدمات کا لنڈا بازار لگا دیا، بابر اعوان

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے کہا ہے کہ امپورٹڈ حکومت نے عمران خان کے خلاف مقدمات کا لنڈا بازار لگا دیا۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

امپورٹڈ حکومت نے عمران خان کیخلاف مقدمات کا لنڈا بازار لگا دیا، بابر اعوان

 

چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امپورٹڈ حکومت نے عمران خان کے خلاف مقدمات کا لنڈا بازار لگا دیا لیکن عمران خان نے ایک بار بھی نہیں کہا کہ میں بیمار ہوں پیش نہیں ہوسکتا۔ مریم نواز نے اب یہ مؤقف لیا ہے کہ یہ گھر ہی میرا نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کے خلاف تمام مقدمات جھوٹے ہیں اور ساری سازشیں ہم نے ناکام بنائیں۔ بابر اعوان نے کہا کہ یہ حکومت صرف اٹک کا پل ہی پار کر کے دکھا دیں لیکن یہ صرف سیکیورٹی حصار میں بیٹھ کر بڑھکیں مارتے ہیں۔ آئین کے 62 ایف آرٹیکل میں ترامیم کی ضرورت ہے اور اگر تبدیلی لانی ہے تو دو تہائی اکثریت سے سینیٹ اور نیشنل اسمبلی میں لائیں۔

بابر اعوان نے کہا کہ اگر کوئی تبدیلی لا سکتا ہے تو وہ عمران خان ہیں اور ہم لوگ دو تہائی اکثریت سے واپس آ رہے ہیں۔ اب باپ بیٹی دونوں کہتے ہیں کہ سائفر ہے اور لکھا ہوا بھی مان گئے۔ قومی سلامتی کی جو کمیٹی ہے سب نے کہا سائفر ہے اور سب نے کہا زبان مناسب نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو حقیقی آزادی دلانے کے لیے تاریخی لانگ مارچ کریں گے اور ہم لانگ واک ٹو فریڈم کریں گے لیکن کیا صورت ہو گی عمران خان بتائیں گے۔ قوم عمران خان کے ساتھ جاگی ہوئی ہے اور سب سے بڑا عوامی، جمہوری پر امن احتجاج کرنے جا رہے ہیں۔ پاکستان کو سیاست کی ٹیسٹنگ لیب نہ بنائیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

حکومتی اراکین کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا بائیکاٹ، واک آؤٹ کر گئے

صدرمملکت  نے اراکین کی عدم توجہ کے باوجود  اپنا خطاب جاری رکھا۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

حکومتی اراکین کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا بائیکاٹ، واک آؤٹ کر گئے

حکومتی اراکین نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے خطاب کے دوران بائیکاٹ کر دیا اور ایوان سے باہر چلے گئے۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں صدر مملکت عارف علوی کا خطاب جاری تھا کہ اس دوران حکومتی اراکین نے شور شرابا کیا، بعدازاں واک آؤٹ کر گئے۔ صدر کے خطاب کے دوران حکومتی بنچز تقریباً خالی ہوگئے۔

صدرمملکت  نے اراکین کی عدم توجہ کے باوجود  اپنا خطاب جاری رکھا۔

اس دوران ایوان میں پی ٹی آئی کا کوئی بھی ایم این اے یا سینیٹر موجود نہیں تھا تاہم پی ٹی آئی کے چند منحرف اراکین ایوان میں موجود تھے۔

ارکان پارلیمنٹ تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ موجودہ اسمبلی کو نہیں مانتے اس لیے بائیکاٹ کیا، مشترکہ اجلاس کی صدارت اسپیکر قومی اسمبلی کر رہےہیں،انہیں بھی نہیں مانتے.

مسلم لیگ ن ، پیپلز پارٹی اور جمعیت علماء اسلام ن بھی صدر مملکت کے خطاب کا غیر اعلانیہ بائیکاٹ کیا۔

 مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ یہ وہ صدر ہیں جنہوں نے آئین توڑا، عارف علوی نے اس اسمبلی کو بھی تحلیل کیا تھا۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll