Advertisement
پاکستان

"جو مرضی آپ کرلیں، عوام کے سمندر کو نہیں روک سکتے"،عمران خان کا ریلی سے خطاب

’شہباز گل پر اس لیے پکڑ کر تشدد کیا گیا کہ بتایا جاسکے ہم قانون سے اوپر ہیں، ہم جو چاہے کر سکتے ہیں۔ یہ ڈرانے کی کوشش تھی کہ سب دیکھ کر ڈریں, عمران خان

GNN Web Desk
شائع شدہ 4 years ago پر Aug 21st 2022, 3:06 am
ویب ڈیسک کے ذریعے
"جو مرضی آپ کرلیں،  عوام کے سمندر کو نہیں روک سکتے"،عمران خان کا  ریلی سے خطاب

اسلام آباد :پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ  ان کی جماعت شہباز گل کے ساتھ مبینہ تشدد پر اسلام آباد کے آئی جی، ڈی آئی جی اور مجسٹریٹ کے خلاف سپریم کورٹ میں کیس کرے گی۔

انھوں نے اسلام آباد میں جلسے سے خطاب کے دوران کہا کہ شہباز گل پر اس لیے تشدد کیا گیا تاکہ وہ بتا سکیں ’ہم قانون سے اوپر ہیں۔ لوگوں کو غلام بنانے کے لیے دہشت پھیلائی جا رہی ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’شہباز گل پر ظلم اس لیے نہیں ہوا کہ اس نے کیا کہا۔ اس سے زیادہ نواز شریف، مریم نواز، خواجہ آصف، آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمان کہہ چکے ہیں جس سے فوج کے ادارے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔‘

’شہباز گل پر اس لیے پکڑ کر تشدد کیا گیا کہ بتایا جاسکے ہم قانون سے اوپر ہیں، ہم جو چاہے کر سکتے ہیں۔ یہ ڈرانے کی کوشش تھی کہ سب دیکھ کر ڈریں۔ 

عمران خان نے کہا کہ ’چیلنج دیتا ہوں کہ آپ جو مرضی کریں، آپ عوام کے سمندر کو، جو آزادی چاہتا ہے، نہیں روک سکتے۔ شہباز گل کو جس طرح اٹھایا، دو دن تک تشدد کیا گیا۔ ایسے پکڑا جیسے کوئی بہت بڑا غدار پکڑا ہے۔‘

 پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ جس طرح شہباز گل پر دو دن تک تشدد کیا اس کی مثال نہیں ملتی، اگر گل پر کیس ہو سکتا ہے تو نواز شریف، فضل الرحمان، خواجہ آصف اور رانا ثناء پر بھی کیس ہو سکتا ہے، ہم ان سب لوگوں پر کیسز کرنے جا رہے ہیں، گل سے جو کچھ کیا گیا انہوں نے قانون کی دھجیاں اڑا دیں۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ پاکستان میں فیصلہ کن وقت ہے، ہم اس خوف کے بت کے سامنے جھک گئے تو ہمارے سامنے غلامی ہے، ہم سب نے اس ظلم کا مقابلہ کرنا ہے۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ہم انگریز سے تو آزاد ہوگئے لیکن آج ہم پر ان چوروں کو سازش کرکے مسلط کر دیا گیا،

25 مئی کو ہم پر ظلم اس لیے کیا گیا کہ ہم ان چوروں کو تسلیم کرلیں۔عمران خان نے کہا کہ آپ جتنا خوف پھلائیں، جو مرضی آپ کرلیں، آپ عوام کے سمندر کو نہیں روک سکتے۔

 

 

 

Advertisement
Advertisement