جی این این سوشل

پاکستان

وقت آ گیا ہے کہ کسی نتیجے پر پہنچا جائے، اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ بٹھا سکتا ہوں، صدر

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا ہے، وقت آ گیا ہے کہ کسی نتیجے پر پہنچا جائے، اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ بٹھا سکتا ہوں۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

وقت آ گیا ہے کہ کسی نتیجے پر پہنچا جائے، اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ بٹھا سکتا ہوں، صدر
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

 

صدر مملکت  نے کہاہے کہ کشتی ڈانواں ڈول ہے ذمے داری ہماری ہے کہ کشتی کو سہولت دیں۔ آنے والی حکومت کے لیے مشکلات ہوں گی۔

انہوں نے کہا، معشیت تقاضا کرتی ہے کہ ایک مینڈیٹ ہو، آج کی حکومت والے بھی کہتے تھے جلد الیکشن ہوں۔ عمران خان کو احتجاج کی کال دینے کا حق آئین نے دیا ہے۔عدالتیں مشورے کے ذریعے ہی سوال کرتی ہیں۔

عارف علوی نے کہا ہے کہ  اسمبلی میں واپس جانا ہے یا نہیں یہ فیصلہ پارٹی والے خود کریں گے۔ ہمارا کام رہ گیا ہے چار آدمی ادھر سے اٹھاو اور حکومت گراو۔ چار ادمی ادھر سے اٹھاو اور حکومت کھڑی کردو۔ آگ گھر کو کھا رہی اور ہم حکومتیں گرانے میں مصروف ہیں۔

 
 

صحت

وزیر اعلی پنجاب نے خسرے کے باعث بچوں کی ہلاکت کا نوٹس لے لیا

 وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے میں خسرے سمیت وبائی امراض کی سخت نگرانی اور روک تھام کی ہدایت کی ہے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

وزیر اعلی پنجاب نے خسرے  کے باعث بچوں کی ہلاکت کا نوٹس لے لیا

لاہور : وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے میں خسرے سمیت وبائی امراض کی سخت نگرانی اور روک تھام کی ہدایت کی ہے ۔

 وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے میں خسرے سمیت وبائی امراض کی سخت نگرانی اور روک تھام کی ہدایت کی ہے۔

انہوں نے پتوکی میں خسرے کے باعث بچوں کی اموات کا نوٹس لیتے ہوئے سیکرٹری صحت کو واقعے کی فوری رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

انہوں نے کہا کہ خسرے سے متاثرہ بچوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

سول سروسز اکیڈمی کا گرمی کی لہر کو کم کرنے کی مہم کا آغاز

گرمی سے متعلقہ بیماریوں میں بہت سے مسائل شامل ہیں، جن میں سنبرن، ہیٹ ریش، گرمی کے درد، ہیٹ اسٹروک اور گرمی کی تھکن شامل ہیں

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

سول سروسز اکیڈمی  کا  گرمی کی لہر کو کم کرنے کی مہم کا آغاز

لاہور: سول سروسز اکیڈمی کی کمیونٹی ڈویلپمنٹ اینڈ انوائرمنٹ سوسائٹی (CSA) نے گرمی کی لہر کو کم کرنے کی مہم شروع کی ہے، جس کا مقصد بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے پیدا ہونے والے چیلنجوں سے نمٹنا ہے۔

پہلے مرحلے میں  دو امدادی کیمپ قائم کیے گئے ہیں، ہر ایک کا مقصد تازگی فراہم کرنا اور احتیاطی تدابیر سے متعلق اہم معلومات پھیلانا ہے۔

سی ایس اے  کے ڈائریکٹر جنرل فرحان عزیز خواجہ، ڈائریکٹر PS صادق چوہان نے مہم کی قیادت کی جس کا اہتمام کمیونٹی ڈویلپمنٹ اینڈ انوائرمنٹ سوسائٹی کے صدر طلحہ رفیق عالم، جنرل سیکرٹری ڈاکٹر علینہ شکیل ناگرا اور انڈر ٹریننگ اسسٹنٹ کمشنرز نے بدھ کو  کیا تھا۔


ہال روڈ ٹریڈرز یونین کے تعاون سے ایک دوسرا ریلیف کیمپ ہال روڈ پر قائم کیا گیا، جہاں کمیونٹی کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اسی طرح کی کوششیں کی گئیں۔ اس مقام پر تعینات رضاکاروں نے فزی ڈرنکس بھی تقسیم کیں جبکہ حاضرین کو ہائیڈریٹ رہنے کی اہمیت اور اعلی درجہ حرارت کے منفی اثرات سے نمٹنے کے لیے اقدامات کے بارے میں فعال طور پر آگاہ کیا۔

صحت کے ماہرین نے لوگوں کو بتایا کہ زیادہ تیز درجہ حرارت کے ساتھ ملک کے بیشتر حصوں کو اپنی لپیٹ میں لینے کے ساتھ گرمی سے متعلقہ بیماری کے خطرات اور علامات کو جاننا ضروری ہے اور اپنے آپ کو اور اپنے خاندان کو کیسے محفوظ رکھنا ہے کیونکہ گرمی کی لہر خاص طور پر خطرناک ہو سکتی ہے۔

واضح رہے کہ گرمی سے متعلقہ بیماریوں میں بہت سے مسائل شامل ہیں، جن میں سنبرن، ہیٹ ریش، گرمی کے درد، ہیٹ اسٹروک اور گرمی کی تھکن شامل ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

سپریم کورٹ رجسٹرار کابرطانوی ہائی کمیشن کے نام اہم خط

رجسٹرارسپریم کورٹ نے خط میں لکھا کہ خط میں1953میں ایرانی حکومت کاتختہ الٹنےکاذکرکیاگیا ہے، خط میں بالفوراعلامیہ کے ذریعےاسرائیلی ریاست کے قیام کا تذکرہ بھی کیا گیا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

سپریم کورٹ رجسٹرار کابرطانوی ہائی کمیشن کے نام اہم خط

برطانوی ہائی کمیشن کو خط رجسٹرارسپریم کورٹ نے چیف جسٹس آف پاکستان کے حکم پرلکھا۔

تفصیلات کے مطابق خط کے متن کے مطابق ہائی کمشنرنےعاصمہ جہانگیرکانفرنس میں جمہوریت، کھلےمعاشرے کی بات کی، سپریم کورٹ آف پاکستان نے غلطیوں کاازالہ کیا ہے، ضرورت اس امرکی ہے کہ برطانیہ بھی غلطیوں کاازالہ کرے۔

رجسٹرارسپریم کورٹ نے خط میں لکھا کہ خط میں1953میں ایرانی حکومت کاتختہ الٹنےکاذکرکیاگیا ہے، خط میں بالفوراعلامیہ کے ذریعےاسرائیلی ریاست کے قیام کا تذکرہ بھی کیا گیا۔

رجسٹرارنے خط پاکستان میں برطانیہ کے ہائی کمشنرجین میریٹ کےنام بھجوایا جس میں کہا گیا کہ عاصہ جہانگیرکانفرنس میں آپکی تقریرمیں جمہوریت کی اہمیت کواجاگرکیا گیا۔ آپ کی تقریرمیں انتخابات اورکھلے معاشرےکی اہمیت کواجاگرکیاگیا۔

خط کے متن کے مطابق برطانوی حکومت کی طرف سے دکھائی جانے والی دلچسپی خوش آئند ہے، انتخابات بروقت نہیں ہوسکے تھے کیونکہ صدر، الیکشن کمیشن متفق نہیں تھے، پاکستان میں اسمبلیوں کی مدت پوری ہونے کے 90 دن کےاندرانتخابات ضروری تھے ، خط میں لکھا گیا کہ صدر، ای سی متفق نہیں تھے الیکشن کی تاریخ کا اعلان کرنے کا اختیارکس کو ہے، سپریم کورٹ نے یہ معاملہ صرف 12 دن میں حل کردیا، 8 فروری2024کوپورے پاکستان میں عام انتخابات ہوئے۔ الیکشن لڑنےکے خواہشمندبہت لوگوں کو تاحیات  پابندی کاسامناکرناپڑتاتھا۔

خط یہ بھی کہا گیا کہ سپریم کورٹ کی طرف سےانہیں ایماندار’’صادق وامین‘‘ نہیں سمجھاجاتاتھا، بنچ نے پہلے کے فیصلے کوکالعدم قراردیتے ہوئے کہا یہ آئین وقانون کےمطابق نہیں۔ انٹراپارٹی الیکشن آمریت روکنے، سیاسی جماعتوں میں جمہوریت کی ضرورت ہے۔

رجسٹراسپریم کورٹ کی جانب سے خط میں لکھا گیا کہ جمہوری اصول کی تعمیل کویقینی بنانےکےلیےقانون میں شرط رکھی گئی ہے، انٹراپارٹی الیکشن نہیں کراتی تو پارٹی انتخابی نشان کیلئے اہل نہیں ہوگی۔ ایک جماعت نے خود قانون کےلیے ووٹ دیا اس نے انٹرا پارٹی الیکشن نہیں کرائےتھے۔

چیف جسٹس آف پاکستان کی جانب سے خط میں یہ بھی کہا گیا کہ سپریم کورٹ نےاس بات کااعادہ کیاقانون نےکیاکہاہے، اس فیصلے کے حوالے سے آپ کی تنقید بلاجوازتھی، موجودہ چیف جسٹس کےعہدہ سنبھالنے کے بعد مقدمات براہ راست نشر ہونے لگے۔

برطانوی ہائی کمشنر کو لکھے گئے خط کے متن کے مطابق پاکستان کی تاریخ میں پہلی بارعوامی اہمیت کےمقدمات براہ راست نشر ہونے لگے۔ چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے مقدمات لائیو نشرکرنے کی اجازت دی، پاکستانی عوام سپریم کورٹ کی کارروائی کو مکمل طورپردیکھ سکتےہیں۔

خط کے متن میں مزید کہا گیا کہ مقدمات لائیو نشرکرنے سے عوام کوبھی شفافیت اورفیصلوں سے متعلق علم ہوگا، انٹراپارٹی الیکشن، پارٹی نشانات سے متعلق فیصلہ بھی براہ راست نشر کیا گیا بھی براہ راست نشرکیا گیا تھا۔

 

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll