جی این این سوشل

ٹیکنالوجی

گوگل ایپس بند ہونے کا خطرہ ٹل گیا ، پاکستان ادائیگیوں پر رضامند

صارفین کیلئے خوشخبری آگئی ، گوگل کوادائیگیاں شیڈول کے مطابق کی جاسکیں گی، پیڈ گوگل ایپس بند نہیں ہوں گی۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

گوگل ایپس بند ہونے کا خطرہ  ٹل گیا ،    پاکستان ادائیگیوں پر رضامند
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

حکومت پاکستان نے اس حوالہ سے کریڈ ٹ کارڈ کے ذریعے ادائیگیوں کے بجائے ایپس  کےتحت ادائیگیوں کی اجازت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔

وزارت خزانہ نے وزیر آئی ٹی سید امین الحق کی تجویز مانتے ہوئے گوگل کو ادائیگیوں کے حوالے سے رضا مندی ظاہر کردی ۔ 

وزارت آئی ٹی کی طرف سے آج (جمعرات) کو جاری کردہ اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر انفارمیشن وٹیکنالوجیز سید امین الحق نے کہا ہے کہ گوگل کوادائیگیاں شیڈول کے مطابق کی جاسکیں گی، پیڈ گوگل ایپس بند نہیں ہوں گی۔

اس حوالے سےوزیر آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن امین الحق سے معاون خصوصی برائے خزانہ طارق باجوہ نے رابطہ کیا اور بتایا کہ سٹیٹ بینک کو اس حوالے سے ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔

امین الحق نے کہا کہ فی الحال ایک ماہ تک پالیسی پر عملدرآمد مؤخر کردیا گیا ہے ۔ ٹیلی کام آپریٹرز کو ادائیگیوں کے طریقہ کار پر عملدرآمد کیلئے ایک ماہ کا وقت دیا گیاہے۔

ایک ماہ کے اندر وزارت آئی ٹی، خزانہ اور سٹیٹ بینک باہمی مشاورت سے مستقل لائحہ عمل مرتب کریں گے۔

انہوں نے کہ ٹیلی کام آپریٹرز نے وزارت آئی ٹی سے معاملے پر معاونت کی اپیل کی تھی جس کے پیش نظروزیرخزانہ اسحاق ڈار کو ادائیگیاں کرنے اور ٹائم فریم دینے کیلئے مراسلہ لکھا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ بروقت فیصلے پر وزیرخزانہ اسحاق ڈار اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی طارق باجوہ کے شکر گزار ہیں۔

گزشتہ ماہ وفاقی وزیر آئی ٹی امین الحق نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو خط لکھ کر اسٹیٹ بینک کی جانب سے گوگل کو ادائیگی روکنے کے خدشات کا اظہار کیا تھا۔

واضح رہے کہ یہ بات سامنے آئی تھی کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے بین الاقوامی سروس فراہم کرنے والوں کو 34 ملین ڈالر کی ادائیگی منسوخ کرنے کے بعد موبائل صارفین یکم دسمبر 2022 سے پاکستان میں گوگل پلے اسٹور کی سروسز ڈاؤن لوڈ نہیں کر سکیں گے۔

پاکستان

نوازشریف چند ہفتوں میں وطن واپس آئیں گے،مریم نواز

ٹکٹ کنفرم ہونے تک نوازشریف کی واپسی کی حتمی تاریخ نہیں دے سکتے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

نوازشریف چند ہفتوں میں وطن واپس آئیں گے،مریم نواز

بہالپور: مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر اور نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ نوازشریف آنے والے چند ہفتوں میں وطن واپس آئیں گے، ٹکٹ کنفرم ہونے تک نوازشریف کی واپسی کی حتمی تاریخ نہیں دے سکتے۔

مریم نواز نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے حکومت سے نکلتے ہی تنقید شروع کردی،عمران خان کو اقتدار کی کرسی تک پہنچنے کیلئے بیساکھیوں کی ضرورت تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان اگر معاہدے کی پاسداری کرتے تو عوام پر بوجھ نہ آتا، آئی ایم ایف کا معاہدہ عمران خان نے کیا تھا۔

مسلم لیگ ن کی رہنما نے کہا کہ آئی ایم ایف معاہدے نے حکومت کے ہاتھ باندھے ہوئے ہیں،اگر آئی ایم ایف معاہدے پر عمل درآمد نہیں کیا تو ملک ڈیفالٹ ہوسکتا ہے،اگر حکومت چاہے بھی تو عوام کوریلیف نہیں دے سکتی۔

 عوام کو پتہ ہے کہ 4سال ملک کس کے پاس تھا،اگر ملک میں آج مہنگائی ہے تو عمران خان کی وجہ سے ہے،ہم پی ٹی آئی کارویہ نہیں اپنا ئیں گے، ن لیگ بیساکھیوں کا سہارانہیں لے گی۔

انہوں نے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ تمام طبقات کو رضاکارانہ طور پر آگے آنا چاہیے۔

بہاولپور،کارکن کی طر ح کام کرکے مجھے تسلی ہوئی ہے ، صرف حقائق پر بات کرینگے، ہمارا بیانیہ حقائق پر مبنی ہے، صحافیوں کیساتھ آج بھی کھڑی ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:

مریم نواز کی میڈیا سے گفتگو کے دوران ایک خاتون نے شور مچا دیا، پاس بلانے پر کہا کہ  مریم نواز کی سیکرٹری نے مجھے تھپڑ مارا اور دھکے دیئے، 25 سال سے مسلم لیگ ن کی کارکن ہوں۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

آئی ایم ایف کا بیوروکریسی کے اندرون و بیرون ملک تمام اثاثے پبلک کرنے کا مطالبہ ، حکومت مشکل میں

اسلام آباد : انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ نے پاکستان سے سرکاری افسران کے اثاثہ جات پبلک کرنے کے لئے قانونی ترامیم کا مطالبہ کردیا اور ساتھ ہی ان کی بیرون ملک اثاثوں کی تفصیلات بھی مانگ لیں۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

آئی ایم ایف کا بیوروکریسی کے اندرون و بیرون ملک تمام اثاثے پبلک کرنے کا مطالبہ ، حکومت مشکل میں

نجی ٹی وی کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات مزید مشکلات سے دوچار ہے۔ آئی ایم ایف نے بیوروکریسی کے اثاثے پبلک کرنے کے لیے قانونی ترامیم کا بھی مطالبہ کر دیا اور سرکاری افسران کے اثاثے پبلک کرنے پر بضد ہے۔

ذرائع ایف بی آر کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے سرکاری افسران کے اثاثے پبلک کرنے کیلئے اتھارٹی کے قیام کا مطالبہ کردیا ہے۔ بیورکریسی کے بیرون ملک اثاثوں کی تفصیلات بھی آئی ایم ایف نے مانگ لی ہیں اور بیورو کریسی کے بیرون ملک منقولہ اور غیرمنقولہ اثاثوں کو پبلک کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کے علاوہ آئی ایم ایف نے شفافیت اور احتساب کیلئے الیکٹرونک ایسٹ ڈیکلریشن سسٹم قائم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ بینک میں اکاؤنٹس کھلوانے سے پہلے بیورو کریسی کے اثاثے چیک کیے جائیں گے۔ 

بیوروکریسی کے اکاؤنٹس کھولنے کیلئے بینک ایف بی آر سے معلومات لے سکیں گے جبکہ بینک اکاؤنٹس کھولنے کیلئے 17 سے 22 گریڈ کے افسران کو تمام معلومات دینا ہوں گی۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

عمران خان نا اہلی کیس: سماعت کیلیے لارجر بنچ تشکیل دینے کا فیصلہ

اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان نا اہلی کیس کی سماعت کے لیے لارجر بنچ بنانے کا فیصلہ سنا دیا۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

عمران خان نا اہلی کیس: سماعت کیلیے لارجر بنچ تشکیل دینے کا فیصلہ

اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان کی  مبینہ بیٹی ٹیریان جیڈ کو ظاہر نہ کرنے پر نااہلی کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے عمران خان کی نااہلی کی درخوست پر سماعت کیلئے لارجر بینچ تشکیل دینے کا فیصلہ سنادیا۔

چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ عمران خان کا اعتراض ہے کہ وہ اب پبلک آفس ہولڈر نہیں، الیکشن کمیشن سے کنفرم کرنا ہے کہ موجودہ پوزیشن کیا ہے۔

الیکشن کمیشن سے ڈی نوٹیفائی ہونے کا نوٹیفکیشن منگوا لیتے ہیں۔ درخواست گزار نے عمران خان کا 2018 والا بیان حلفی چیلنج کیا تھا۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے  عمران خان کے وکلا سے مکالمہ کیا کہ آپ کی جانب سے بینچ پر اعتراض اٹھایا گیا ہے؟

2018میں کیس سننے سے معذرت ذاتی وجوہات پر نہیں کی تھی۔اس وقت درخواست گزار نے مخصوص بینچ کے سامنے لگانے کی استدعا کی تھی۔

چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ آپ نے اعتراض اٹھایا تو بینچ کی تشکیل نو کر دیتے ہیں۔ہم لارجر بینچ کے سامنے معاملہ رکھیں گے۔

خیال رہے کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے اپنی مبینہ بیٹی ٹیریان سے متعلق کیس میں تحریری جواب عدالت میں جمع کروایا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ یہ مقدمہ سننے کی مجاز ہی نہیں۔

جو جج پہلے یہ کیس سننے سے معذرت کر چکا ہے وہ دوبارہ کیسے اس کیس کو سن سکتا ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll