جی این این سوشل

تفریح

بھارتی اداکار و ماڈل ثاقب خان کا شوبز چھوڑ کر دین کے راستے پر چلنے کا اعلان

ممبئی: بالی ووڈ کے نوجوان اداکار اور ماڈل ثاقب خان نے شوبز چھوڑ کر دین کے راستے پر چلنے کا اعلان کردیا،انہوں نے کہا کہ ’میرے پاس اس وقت شوبز کا بہت سا کام اور متعدد پروجیکٹ کی آفرز ہیں مگر اس میں اللہ کی مرضی نہیں ہے یقیناً اس نے میرے لیے بہتر انتخاب کیا ہوگا۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

بھارتی اداکار و ماڈل ثاقب خان کا شوبز چھوڑ کر دین کے راستے پر چلنے کا اعلان
بھارتی اداکار و ماڈل ثاقب خان کا شوبز چھوڑ کر دین کے راستے پر چلنے کا اعلان

راؤڈیز سے شہرت حاصل کرنے والے کشمیری نژاد اداکار و ماڈل ثاقب خان نے انسٹاگرام پر ایک طویل پوسٹ شیئر کی جس میں انہوں نے اعلان کیا کہ وہ شوبز کا پیشہ ترک کرکے روحانیت کے راستے پر گامزن ہورہے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ اب وہ مستقبل میں ماڈلنگ اور اداکاری نہیں کرینگے۔

انھوں نے اس موقع پر اپنے نئے سفر کے حوالے سے کچھ تصاویر اور ویڈیوز بھی شیئر کیے ہیں۔ انکا یہ فیصلہ اداکارہ ثنا خان کی جانب سے چند ماہ قبل اسی رستے پر چلنے کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔ 

ثاقب خان نے اپنے انسٹا ہینڈلر پر لکھا۔ اسلام و علیکم بھائیوں اور بہنوں، امید ہے آپ سب خیریت سے ہونگے۔ آج کی میری پوسٹ میرے شوبز چھوڑنے سے متعلق اعلان پر مبنی ہے۔ اب میں آئندہ ماڈلنگ اور اداکاری نہیں کروں گا۔

 
 
 
 
 
View this post on Instagram
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by S A K I B K H A N (@saqibkhan_64)

ثاقب خان نے مزید تحریر کیا کہ ایسا نہیں ہے کہ ان کے پاس کام نہیں تھا اور وہ شوبز چھوڑ رہے ہیں، میرے پاس اس وقت بھی بہت پروجیکٹس موجود ہیں، لیکن اللّٰہ تعالیٰ کی مرضی نہیں تھی، ضرور کچھ اچھا اور بہتر سوچا ہوگا اللّٰہ نے میرے لیے، انشا اللّٰہ، کیونکہ وہی سب بہتر منصوبہ ساز ہے۔انھوں نے کہا کہ جہاں تک ممبئی میں جدوجہد کا تعلق ہے تو یہاں بقا کی جنگ لڑنا بہت مشکل ہوتا ہے لیکن مجھے فخر ہے کہ میں نے ایک سال کے مختصر دورانئے میں اچھی شہرت اور فین فالوونگ حاصل کی۔ 

 

واضح رہے کہ گزشتہ برس بالی ووڈ کی مشہور اداکارہ ثنا خان اور زائرہ وسیم نے شوبز انڈسٹری چھوڑنے کا اعلان کیا۔شوبز کی دنیا کو چھوڑنے کے ایک ماہ بعد ثنا خان نے ایک عالم دین سے شادی کر لی تھی۔

 

پاکستان

سلمان اکرم راجہ کا پنجاب میں الیکشن ٹریبونلز فعال بنانے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع

الیکشن کمیشن کا لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے تعینات ججز کو نا ماننے کے پیچھے قانونی جواز نہیں، موقف

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

سلمان اکرم راجہ کا پنجاب میں الیکشن ٹریبونلز  فعال بنانے کے لیے  سپریم کورٹ سے رجوع

پنجاب میں الیکشن ٹریبونلز کو فعال بنانے کے لیے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے  4 جولائی کے عدالتی حکم پر نظرثانی کی درخواست دائر کر دی۔

درخواست گزار کی جانب سے مؤقف اپنایا گیا ہے کہ 4 جولائی کو جاری فیصلے میں الیکشن کمیشن کو چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سے مشاورت کرنے کی ہدایت کی گئی، سپریم کورٹ نے مشاورت کے حوالے سے کوئی گائیڈ لائنز مہیا نہیں کیں، چیف جسٹس کی جانب سے کسی بھی جج کی تعیناتی کو سب سے معتبر تصور کیا جاتا ہے۔

درخواست گزار نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے ٹریبونلز کیلئے تعینات ججز کا فیصلہ درست تھا، الیکشن کمیشن کا لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے تعینات ججز کو نا ماننے کے پیچھے قانونی جواز نہیں، سپریم کورٹ کے دو ججز نے الیکشن کمیشن کا موقف غلط قرار دیا کہ ان کے پاس ٹریبونلز کیلئے ججز منتخب کرنے کا اختیار ہے۔

درخواست میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کرنا درست نہیں، سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے ٹریبونلز کیلئے تعینات ججز کی نامزدگی معطل نہیں کی، لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے ٹریبونلز کیلئے نامزد ججز ہی موجود ہیں، الیکشن کمیشن لاہور ہائیکورٹ سے نامزد ججز پر مشاورت کرے اور وجوہات پیش کرے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں کام جاری رکھنے والے الیکشن ٹریبونلز کو بحال کیا جائے، مشاورت کا مطلب الیکشن کمیشن نامزد ججز پر ٹھوس وجوہات پیش کرے، الیکشن کمیشن کے پاس لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے نامزد ججز کی تعیناتی کو نہ ماننے کا اختیار نہیں۔

درخواست میں مزید کہا گیا کہ پنجاب میں الیکشن ٹریبونلز میں کام کرنے والے ججز کے دائرہ کار کا تعین کرنے کا اختیار لاہور ہائیکورٹ کے پاس ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

توشہ خانہ ریفرنس ، عمران خان اور بشریٰ بی بی کا مزید 7 روز کا جسمانی ریمانڈ منظور

اسلام آباد کی احتساب عدالت نےدونوں کے جسمانی ریمانڈ میں 29 جولائی تک توسیع کر دی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

توشہ خانہ ریفرنس ، عمران خان اور بشریٰ بی بی کا مزید 7 روز کا جسمانی ریمانڈ منظور

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے توشہ خانہ کے نئے ریفرنس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کا مزید 7 روز کا جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔

احتساب عدالت کے جج محمد علی وڑائچ نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ کے نئے ریفرنس سے متعلق اڈیالہ جیل میں سماعت کی۔بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو 8 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر عدالت پیش کیا گیا۔نیب ٹیم نے ملزمان کی تفتیش سے متعلق پیشرفت رپورٹ عدالت میں پیش کی اور نیب کے تفتیشی افسر کی جانب سے ملزمان کے مزید 14 روزہ ریمانڈ کی استدعا کی گئی۔

احتساب عدالت بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کا توشہ خانہ کے نئےکیس میں مزید 7 روز کا جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا، عدالت نے دونوں کے جسمانی ریمانڈ میں 29 جولائی تک توسیع کر دی۔

واضح رہے کہ 14 جولائی کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نے توشہ خانے کے نئے ریفرنس میں سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کا 8 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا تھا۔

اس سے ایک روز قبل (13 جولائی) گزشتہ روز نیب نے عمران خان اور ان کی اہلیہ کو عدت نکاح کیس میں ضمانت ملنے کے فوری بعد توشہ خانہ کے ایک نئے ریفرنس میں گرفتار کرلیا تھا۔

نیب کی انکوائری رپورٹ کے مطابق نیا کیس 7 گھڑیوں سمیت 10 قیمتی تحائف خلاف قانون پاس رکھنے اور بیچنے سے متعلق ہے۔

قبل ازیں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب اور پی ٹی آئی کے دیگر رہنما اڈیالہ جیل کے گیٹ پہنچے تو انہیں سابق وزیر اعظم اور ان کی اہلیہ کی نئے ریفرنس میں گرفتاری کا بتایا گیا تھا۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

190 ملین پاؤنڈز کیس،عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف کیس کی سماعت ملتوی

بشری بی بی کے وکیل نے پرویز خٹک اور زبیدہ جلال پر جرح مکمل کرلی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

190 ملین پاؤنڈز کیس،عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف کیس کی سماعت ملتوی

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈز کیس کی سماعت جمعے تک ملتوی کردی جبکہ ملزمہ بشری بی بی کے وکیل نے پرویز خٹک اور زبیدہ جلال پر جرح مکمل کرلی، اس کے علاوہ نیب کے ڈپٹی ڈائریکٹر عمیر راتھر کا بیان بھی قلمبند کر لیا گیا۔

احتساب عدالت اسلام آباد کے جج محمد علی وڑائچ نے 190 ملین پاؤنڈز کیس کی اڈیالہ جیل راولپنڈی میں سماعت کی۔سماعت کے دوران بانی عمران خان اور بشریٰ بی بی کو جیل سے عدالت میں پیش کیا گیا، ملزمان کی جانب سے چوہدری ظہیر عباس اور سلمان صفدر عدالت میں پیش ہوئے جبکہ نیب کی جانب سے امجد پرویز اور سردار مظفر عباسی سمیت لیگل ٹیم عدالت کے روبرو حاضر ہوئے۔

سماعت کے دوران سابق وفاقی وزیر پرویز خٹک اور زبیدہ جلال پر ملزمہ بشریٰ بی بی کے وکیل نے جرح مکمل کرلی، اس کے علاوہ نیب کے ڈپٹی ڈائریکٹر عمیر راتھر کا بیان بھی قلم بند کر لیا گیا۔

سماعت کے دوران پرویز خٹک کی جانب سے عدالت میں تحریری درخواست دائر کی گئی، جس میں مؤقف اپنایا گیا کہ میرے بیان میں شامل کیا جائے کہ میں نے اس وقت کے سابق وزیراعظم عمران خان کے اصرار پر بند لفافے اور ایڈیشنل ایجنڈے کی منظوری دی، سابق وزیراعظم نے کابینہ اجلاس میں ایڈیشنل ایجنڈے کے طور پر لائے گئے لفافے کو پڑھے اور بحث کیے بغیر منظور کرنے پر اصرار کیا تھا۔

انہوں نے درخواست میں کہا کہ میرے بیان میں یہ شامل نہیں کیا گیا، عدالت سے درخواست ہے میرے بیان میں یہ مؤقف بھی شامل کیا جائے۔

بعد ازاں عدالت نے ریفرنس کی سماعت جمعہ تک ملتوی کر دی۔

واضح رہے کہ ریفرنس میں مجموعی طور پر 34 گواہان کے بیانات قلم بند کیے جا چکے ہیں اور مجموعی طور پر 33 گواہان پر جرح مکمل کی جا چکی ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll