جی این این سوشل

جرم

 پاکستانی خاتون 12سال کی جبری مشقت کے بعد رہا

تین افراد نے 12 سال تک گھریلو مشقت پر مجبور کیا

پر شائع ہوا

کی طرف سے

 پاکستانی خاتون 12سال کی جبری مشقت کے بعد رہا
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

ورجینیا: پاکستانی خاتون کو 12سال کی جبری مشقت کے بعد رہا کیا گیا 
رچمنڈ: ایک پاکستانی خاتون کو مڈلوتھین خاندان کے تین افراد نے 12 سال تک گھریلو مشقت پر مجبور کیا جنہیں جرم کرنے کی سزا سنائی گئی۔80 سالہ زاہدہ امان کو فیڈرل جیل میں 12سال، 48 سالہ محمد ریحان چوہدری کو فیڈرل جیل میں 10 سال اور 55 سالہ محمد نعمان چوہدری کو مشرقی ضلع ورجینیا کی فیڈرل جیل میں پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی۔

مزید برآں،
 عدالت نے امان اور ریحان چوہدری کو حکم دیا کہ وہ متاثرہ کو تقریبا 250,000 ڈالر کی واپسی کی اجرت اور مدعا علیہان کے مجرمانہ طرز عمل کے نتیجے میں ہونے والے دیگر مالی نقصانات کی ادائیگی کریں۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق مقتولہ نے 2002 میں امان کے بیٹے اور مدعا علیہان نعمان اور ریحان چوہدری کے بھائی سے شادی کی۔ اس کے بعد وہ ملزمان کے گھر رہنے لگی۔ اگلے 12 سالوں میں، تینوں مدعا علیہان نے اسے گھریلو خدمات انجام دینے پر مجبور کیا۔ 

 جسمانی طور پر زیادتی کا بھی نشانہ بنایا گیا، یہاں تک کہ اسے لکڑی کے تختے سے مارا اس کے ہاتھ پاں باندھ کر اسے اس کے بچوں کے سامنے سیڑھیوں سے نیچے گھسیٹ لیا۔اس کے علاوہ، اگرچہ متاثرہ، پاکستانی نژاد، امریکہ میں عارضی امیگریشن سٹیٹس رکھتی تھی، مدعا علیہ امان نے متاثرہ کی امیگریشن دستاویزات لے لیں۔

 

پاکستان

پی ٹی آئی کے متعدد اراکین کا اپنے قائد سے محبت کا انوکھا اندار

علی محمد خان سمیت متعدد اراکین کی عمران خان کے چہرے کا ماسک پہن کر قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

پی ٹی آئی کے متعدد اراکین  کا اپنے قائد   سے محبت کا انوکھا  اندار

قومی اسمبلی کے سولہویں اجلاس میں کئی ارکان ایوان میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کا ماسک پہن کر پہنچ گئے۔

 قومی اسمبلی کے اجلاس میں پی ٹی آئی رہنما  شیر افضل مروت اور علی محمد خان نے  اپنے قائد عمران خان کا روپ اختیار کرلیا۔

 پی ٹی آئی نے اپنے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ  پر ارکان کی ماسک پہنے تصویر شیئر کی جس کے کیپشن میں لکھا کہ "عمران تو ہو گا کیونکہ قوم نے مینڈیٹ صرف عمران خان کو ہی دیا ہے"۔

علی محمد خان نےسماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر جاری پیغام میں اپنے چاہنے والوں سے سوال کیا کہ "کون بچائے گا پاکستان؟" ساتھ ہی اپنی تصویر شیئر کی۔

 موجودہ قومی اسمبلی کا ایوان 336 ارکان پر مشتمل ہے، قومی اسمبلی کی 266 نشستوں پر براہِ راست انتخابات کے ذریعے ارکان منتخب ہوتے ہیں، باقی ارکان مخصوص نشستوں پر ایوان کا حصہ بنتے ہیں.

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی صورتحال

منگلا ڈیم کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1050 فٹ ہے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی صورتحال

اسلام آباد: واپڈانے مختلف دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج کے اعدادوشمار جاری کر دیئے ہیں۔

جمعرات کو جاری کر دہ اعدادوشمار کے مطابق دریائے سندھ میں تربیلاکے مقام پر پانی کی آمد 14 ہزار100 کیوسک اور اخراج 35 ہزار کیوسک، دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر پانی کی آمد7 ہزار 800کیوسک اور اخراج7 ہزار 800کیوسک، خیرآباد پل پر پانی کی آمد 14 ہزار 200کیوسک اور اخراج 14 ہزار 200 کیوسک،دریائے جہلم میں منگلاکے مقام پر پانی کی آمد 12 ہزار500 کیوسک اور اخراج 40 ہزار کیوسک، دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد 6 ہزار900 کیوسک اور اخراج 2 ہزارکیوسک ہے۔

تربیلاڈیم کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1402 فٹ ،ڈیم میں پانی کی موجودہ 1440.78 فٹ ، ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 1550فٹ اور قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 0.829ملین ایکڑ فٹ ہے۔

منگلا ڈیم کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1050 فٹ ، ڈیم میں پانی کی موجودہ سطح 1112.35 فٹ ،ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 1242فٹ اور قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 0.615 ملین ایکڑ فٹ ہے۔

چشمہ بیراج کا کم از کم آپریٹنگ لیول 638.15 فٹ،بیراج میں پانی کی موجودہ سطح 640.30 فٹ ، بیراج میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 649 فٹ اور قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 0.029 ملین ایکڑ فٹ ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

دنیا

حماس کو اگلی فلسطینی حکومت کا حصہ نہیں ہونا چاہئے، فلسطیی وزیر خارجہ

اس وقت ایک ایسی حکومت کی ضرورت ہے جو دنیا کو قابل قبول ہو، ریاض المالکی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

حماس کو اگلی فلسطینی حکومت کا حصہ نہیں ہونا چاہئے، فلسطیی وزیر خارجہ

فلسطینی اتھارٹی کے وزیر خارجہ ریاض المالکی نے بڑے کھلے الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ انہیں ماسکو میں فلسطینی جماعتوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں کسی معجزے کا امکان نہیں ہے، جس کے تحت اگلی حکومت میں حماس بھی شامل ہو سکتی ہو۔ کیونکہ اس وقت ایک ایسی حکومت کی ضرورت ہے جو دنیا کو قابل قبول ہو۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق انہوں نے کہا حماس کو بھی اس بات کا اچھی طرح علم ہے کہ وہ اگلی حکومت کا حصہ نہیں بن سکے گی۔ اب ٹیکنوکریٹس کی حکومت کی ضرورت ہے۔ ٹیکنو کریٹس کی ایسی حکومت جو کسی ایسے گروپ کے بغیر ہو جو اسرائیل کے ساتھ ایک بڑی تلخ جنگ لڑ رہا ہو، یہ وقت ایک مخلوط حکومت قائم کرنے کا نہیں ہے کیونکہ اس صورت میں حماس کی شمولیت کی وجہ سے بہت سے ملک ہماری حکومت کا بائیکاٹ کر دیں گے۔ جیسا کہ پہلے بھی ہو چکا ہے۔

ریاض المالکی نے مزید کہا  ہم نہیں چاہتے کہ دوبارہ وہی صورت حال بن جائے ، ہم دنیا کے لیے قابل قبول بننا چاہتے ہیں تاکہ ہم دنیا کے ساتھ مل کر کام کر سکیں ۔  ہم کسی معجزے کی توقع نہیں کر رہے کہ ماسکو میں کوئی معجزہ ہو جائے گا۔

واضح رہے فلسطینی اتھارٹی کے وزیر اعظم نے پیر کے روز اپنی حکومت سے استعفیٰ دیدیا تھا مگر صدر محمود عباس نے اگلی حکومت کی تشکیل تک انہیں اور ان کی حکومت کو کام جاری رکھنے کے لیے کہا تھا۔ فلسطینی اتھارٹی دنیا کی بڑی طاقتوں اور اسرائیل کے انداز میں سوچتی ہے کہ غزہ کی جنگ کے بعد فلسطینیوں کی نئی حکومت بننی چاہیے جو غزہ اور رام اللہ دونوں کا کنٹرول رکھتی ہو۔

تاہم ریاض المالکی نے کہا  ہماری اس وقت ترجیح یہ ہے کہ بین الاقوامی برادری ہمارے ساتھ جڑی رہے تاکہ فلسطینیوں کو ہنگامی طور پر ریلیف ملتا رہا اور پھر دیکھا جا سکے کہ غزہ کی تعمیر نو کیسے کرنی ہے۔ ہاں بعد ازاں جب صورت حال بہتر ہو گی تو ہم اور طرح سوچ سکتے ہیں۔ مگر ابھی ہمیں درپیش مسئلے سے نکلنا ہے۔ کہ اس پاگل جنگ کو کیسے روکیں فلسطینی عوام کا تحفظ کیسے کریں۔'

انہوں نے کہا کہ اس وجہ سے وہ سمجھتے ہیں کہ حماس سمجھتی ہو گی کہ اسے حکومت کا حصہ کیوں نہیں ہونا چاہیے۔ بلکہ ایک ٹیکنوکریٹ حکومت کے تصور کی حماس بھی حمایت کرے گی۔ ایک ایسی حکومت جو ماہرین پر مشتمل ہو۔ جس میں ایسے افراد شامل ہوں جو ان حالات میں باگ دوڑ سنبھالنے اور ذمہ داری کو قبول کرنے کے لیے تیار ہوں کہ یہ ایک مشکل ترین وقت ہے۔ ہمیں اس میں قابل قبول عبوری حکومت بنا کر انتخابات کی طرف بھی بڑھنا ہوگا۔

 

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll