جی این این سوشل

کھیل

وہاب ریاض بطور مشیراسپورٹس اینڈ یوتھ افیئرز

کرکٹر نے چارج سنبھالنے کے بعد سیکرٹری اسپورٹس پنجاب اور ڈی جی اسپورٹس پنجاب سے ملاقات کی۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

وہاب ریاض بطور مشیراسپورٹس اینڈ یوتھ افیئرز
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

پاکستان کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بالر وہاب ریاض وزیراعلیٰ پنجاب کے مشیراسپورٹس اینڈ یوتھ افیئرز بن گئے۔قومی کرکٹر نے چارج سنبھالنے کے بعد سیکرٹری اسپورٹس پنجاب اور ڈی جی اسپورٹس پنجاب سے ملاقات کی۔

دونوں افسران نے مشیر برائے اسپورٹس اینڈ یوتھ افیئرز وہاب ریاض کوبریفنگ دی، ان کا کہنا تھا کہ اسپورٹس کی ترقی کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

وہاب ریاض کا کہنا تھا کہ اسپورٹس کی ترقی کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اور اسپورٹس کے فروغ کیلئے سب کو ساتھ لیکر چلیں گے۔

دنیا

ایران اور روس کے درمیان دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کے لیے 19 دستاویزات پر دستخط

ملک نے اب تک روسی کمپنیوں کے ساتھ ایران کی 8 آئل فیلڈز تیار کرنے کے معاہدے کیے ہیں

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

ایران اور روس کے درمیان دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کے لیے 19 دستاویزات پر دستخط

تہران: ایران اور روس نے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کے لیے 19 دستاویزات پر دستخط کیے ہیں۔ شنہوا کے مطابق ایرانی وزارت تیل سے وابستہ شنا نیوز ایجنسی نے رپورٹ میں بتایا کہ ان دستاویزات پر دستخط گزشتہ روز ایران کے دارالحکومت تہران میں دونوں ممالک کے مشترکہ اقتصادی تعاون کمیشن کے 17ویں اجلاس کے اختتام پر کیے گئے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان معاہدوں میں توانائی، صحت، تجارت اور تعلیم جیسے شعبوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔

ان دستاویزات پر دستخط کے بعد روسی نائب وزیر اعظم الیگزینڈر نوواک کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے وزیر تیل جواد اوجی نے کہا کہ ملک نے اب تک روسی کمپنیوں کے ساتھ ایران کی 8 آئل فیلڈز تیار کرنے کے معاہدے کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تیل اور گیس کے اضافی شعبوں کی ترقی کے حوالے سے بات چیت جاری ہے اور نئے معاہدوں پر جلد دستخط کیے جا سکتے ہیں۔ روسی نائب وزیر اعظم نے کہا کہ دونوں ممالک تیل، گیس اور پیٹرو کیمیکل کے شعبوں، کاروں کی تیاری اور خدمات کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو بڑھا سکتے ہیں۔

 

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

عدت میں نکاح کیس فیصلے کیخلاف عمران خان اور بشریٰ بی بی کی اپیل قابل سماعت قرار

سیشن عدالت نے فریقین کو 11مارچ کیلئے نوٹس جاری کردیئے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

عدت میں نکاح کیس فیصلے کیخلاف عمران خان اور بشریٰ بی بی کی اپیل قابل سماعت قرار

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نےغیر شرعی نکاح کیس فیصلے کیخلاف عمران خان اور بشریٰ بی بی کی اپیل قابل سماعت قرار دیدی،سیشن عدالت نے فریقین کو 11مارچ کیلئے نوٹس جاری کردیئے۔

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں بانی پی ٹی آئی عمران خان  اور  بشریٰ بی بی کی عدت میں نکاح کیس کے فیصلے کیخلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق 39 روز کے بعد نکاح قابل قبول ہو سکتا ہے،بشریٰ بی بی اور بانی پی ٹی آئی کا نکاح تقریباً70روز کے بعد ہوا،سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق اگر خاتون نے عدت مکمل ہونے کا بیان دے دیا تو مانا جائے گا۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ شریعت کے قوانین کے مطابق ایسے ذاتی معاملات کو ہمیشہ ذاتی رکھنا چاہئے،دوران عدت نکاح جیسے کیسز کو سیاسی انتقام لینے کیلئے عدالت کا کندھا استعمال کیا گیا، ہم بہت گر گئے ہیں ، ہم لوگ کسی شخص کے بیڈ روم تک پہنچ گئے ہیں،معاشرے میں شائستگی قائم رہنی چاہئے،ایسے کیسز نہیں دائر ہونے چاہئیں،عدت میں نکاح کیس کے اثرات بیرون ملک تک گئے ہیں،اس سے قبل محمد حنیف نامی شخص نے اسی طرح کی شکایت دائر کی تھی، عون چودھری جیسے افراد شکایت میں ملوث تھے،میں نے اپیل قابل سماعت ہونے پر کافی دلائل دے دیئے۔

سیشن جج نے عدت میں نکاح کیس کے فیصلے کیخلاف اپیل قابل سماعت قرار دیدی،سیشن عدالت نے فریقین کو 11مارچ کیلئے نوٹس جاری کردیئے۔

پڑھنا جاری رکھیں

دنیا

حماس کو اگلی فلسطینی حکومت کا حصہ نہیں ہونا چاہئے، فلسطیی وزیر خارجہ

اس وقت ایک ایسی حکومت کی ضرورت ہے جو دنیا کو قابل قبول ہو، ریاض المالکی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

حماس کو اگلی فلسطینی حکومت کا حصہ نہیں ہونا چاہئے، فلسطیی وزیر خارجہ

فلسطینی اتھارٹی کے وزیر خارجہ ریاض المالکی نے بڑے کھلے الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ انہیں ماسکو میں فلسطینی جماعتوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں کسی معجزے کا امکان نہیں ہے، جس کے تحت اگلی حکومت میں حماس بھی شامل ہو سکتی ہو۔ کیونکہ اس وقت ایک ایسی حکومت کی ضرورت ہے جو دنیا کو قابل قبول ہو۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق انہوں نے کہا حماس کو بھی اس بات کا اچھی طرح علم ہے کہ وہ اگلی حکومت کا حصہ نہیں بن سکے گی۔ اب ٹیکنوکریٹس کی حکومت کی ضرورت ہے۔ ٹیکنو کریٹس کی ایسی حکومت جو کسی ایسے گروپ کے بغیر ہو جو اسرائیل کے ساتھ ایک بڑی تلخ جنگ لڑ رہا ہو، یہ وقت ایک مخلوط حکومت قائم کرنے کا نہیں ہے کیونکہ اس صورت میں حماس کی شمولیت کی وجہ سے بہت سے ملک ہماری حکومت کا بائیکاٹ کر دیں گے۔ جیسا کہ پہلے بھی ہو چکا ہے۔

ریاض المالکی نے مزید کہا  ہم نہیں چاہتے کہ دوبارہ وہی صورت حال بن جائے ، ہم دنیا کے لیے قابل قبول بننا چاہتے ہیں تاکہ ہم دنیا کے ساتھ مل کر کام کر سکیں ۔  ہم کسی معجزے کی توقع نہیں کر رہے کہ ماسکو میں کوئی معجزہ ہو جائے گا۔

واضح رہے فلسطینی اتھارٹی کے وزیر اعظم نے پیر کے روز اپنی حکومت سے استعفیٰ دیدیا تھا مگر صدر محمود عباس نے اگلی حکومت کی تشکیل تک انہیں اور ان کی حکومت کو کام جاری رکھنے کے لیے کہا تھا۔ فلسطینی اتھارٹی دنیا کی بڑی طاقتوں اور اسرائیل کے انداز میں سوچتی ہے کہ غزہ کی جنگ کے بعد فلسطینیوں کی نئی حکومت بننی چاہیے جو غزہ اور رام اللہ دونوں کا کنٹرول رکھتی ہو۔

تاہم ریاض المالکی نے کہا  ہماری اس وقت ترجیح یہ ہے کہ بین الاقوامی برادری ہمارے ساتھ جڑی رہے تاکہ فلسطینیوں کو ہنگامی طور پر ریلیف ملتا رہا اور پھر دیکھا جا سکے کہ غزہ کی تعمیر نو کیسے کرنی ہے۔ ہاں بعد ازاں جب صورت حال بہتر ہو گی تو ہم اور طرح سوچ سکتے ہیں۔ مگر ابھی ہمیں درپیش مسئلے سے نکلنا ہے۔ کہ اس پاگل جنگ کو کیسے روکیں فلسطینی عوام کا تحفظ کیسے کریں۔'

انہوں نے کہا کہ اس وجہ سے وہ سمجھتے ہیں کہ حماس سمجھتی ہو گی کہ اسے حکومت کا حصہ کیوں نہیں ہونا چاہیے۔ بلکہ ایک ٹیکنوکریٹ حکومت کے تصور کی حماس بھی حمایت کرے گی۔ ایک ایسی حکومت جو ماہرین پر مشتمل ہو۔ جس میں ایسے افراد شامل ہوں جو ان حالات میں باگ دوڑ سنبھالنے اور ذمہ داری کو قبول کرنے کے لیے تیار ہوں کہ یہ ایک مشکل ترین وقت ہے۔ ہمیں اس میں قابل قبول عبوری حکومت بنا کر انتخابات کی طرف بھی بڑھنا ہوگا۔

 

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll