Advertisement
پاکستان

سوال ہے کہ الیکشن کمیشن تاریخ آگے کر سکتا ہے یا نہیں،چیف جسٹس آف پاکستان

اگر الیکشن کمیشن کا اختیار ہوا تو بات ختم ہوجائے گی،عمر عطاء بندیال

GNN Web Desk
شائع شدہ 3 years ago پر Mar 28th 2023, 7:40 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
سوال ہے کہ الیکشن کمیشن تاریخ آگے کر سکتا ہے یا نہیں،چیف جسٹس آف پاکستان

سپریم کورٹ آف پاکستان میں پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے عام انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت جاری ہے۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس امین الدین خان اور جسٹس جمال مندوخیل پر مشتمل پانچ رکنی لارجر بنچ کیس کی سماعت کر رہا ہے۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ کارروائی کو لمبا نہیں کرنا چاہتے، سادہ سا سوال ہے کہ الیکشن کمیشن تاریخ آگے کر سکتا ہے یا نہیں؟، اگر الیکشن کمیشن کا اختیار ہوا تو بات ختم ہوجائے گی۔

جسٹس عمر عطاء بندیال کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتوں کو فریق بنانے کیلئے ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے نکتہ اٹھایا تھا، جمہوریت کیلئے قانون کی حکمرانی لازمی ہے، قانون کی حکمرانی کے بغیر جمہوریت نہیں چل سکتی، سیاسی درجہ حرارت اتنا زیادہ ہوگا تو مسائل بڑھیں گے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ کے دو ججز نے پہلے فیصلہ دیا، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اس وقت سوال فیصلے کا نہیں الیکشن کمیشن کے اختیار کا ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالتی فیصلہ اگر چار تین کا ہوا تو کسی حکم کا وجود ہی نہیں جس کی خلاف ورزی ہوئی، عدالتی حکم نہیں تھا تو صدر مملکت تاریخ بھی نہیں دے سکتے تھے، یکم مارچ کے عدالتی حکم کو پہلے طے کر لیا جائے، موجودہ کیس میں استدعا ہی فیصلے پر عملدرآمد کی ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ بنچ کے ارکان درخواست میں اٹھائے گئے سوال کا جائزہ لینے بیٹھے ہیں، آپ کا انحصار تکنیکی نکتے پر ہے، سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار درخواست تک محدود نہیں ہوتا، اس وقت مقدمہ تاریخ دینے کا نہیں منسوخ کرنے کا ہے، جمہوریت کے لئے انتخابات ضروری ہیں۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ جائزہ لینا ہے کہ دی گئی تاریخ کی قانونی حیثیت ہے یا نہیں؟، الیکشن کمیشن یا کوئی اور کون ہوتا ہے جو ڈکٹیشن دے کہ اسمبلی تحلیل کر سکتے ہیں یا نہیں؟۔

انہوں نے اٹارنی جنرل کے دلائل پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ دو ججز کے فیصلے کا اس مقدمہ سے تعلق نہیں ہے، فیصلہ کتنی اکثریت کا ہے اس کا جائزہ بعد میں لیا جا سکتا ہے، فی الحال سنجیدہ معاملات سے توجہ نہ ہٹائی جائے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ موجودہ کیس میں استدعا ہی اُس فیصلے پر عملدرآمد کی ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ بنچ کے ارکان درخواست میں اٹھائے گئے سوال کا جائزہ لینے بیٹھے ہیں، آپ کا انحصار تکنیکی نکتے پر ہے، سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار درخواست تک محدود نہیں ہوتا۔

جسٹس عمر عطاء بندیال نے مزید کہا کہ فیصلے پر عملدرآمد ہوچکا ہے، اٹارنی جنرل نے دلیل دی کہ موجودہ درخواست کے قابل سماعت ہونے کا بھی نکتہ اٹھانا ہے۔

اس موقع پر اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے فل کورٹ بنانے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ درخواست ہے کہ یہ اہم معاملہ ہے اور بنچ مناسب سمجھے تو فل کورٹ بنا دے۔

 چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ تکنیکی بنیادوں پر معاملہ خراب نہ کریں، سپریم کورٹ کے یکم مارچ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوچکا ہے، اس معاملے کو دوبارہ اٹھا کر عدالت میں پیش نہ کیا جائے‘۔

جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ یکم مارچ کا سپریم کورٹ کا فیصلہ کتنے ارکان کا ہے یہ سپریم کورٹ کا اندرونی معاملہ ہے، یہ بتائیں کہ کیا 90 روز میں انتخابات کرانا آئینی تقاضا نہیں ہے؟ کیا الیکشن کمیشن انتخابات کی تاریخ منسوخ کر سکتا ہے؟۔

سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ ’کیا بجٹ میں انتحابات کے لیے فنڈز مختص ہیں۔ اگر فنڈز نہیں ہیں۔ تو فنڈز لینے کا طریقہ کار آئین میں درج ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ معاملہ کلیئر کرنے پر جسٹس جمال مندوخیل کا مشکور ہوں، لوگ آٹے کیلئے لائنوں میں لگے ہوئے ہیں، تحریک انصاف اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ملکی حالات کو بہتر کیا جائے، تمام قومی اداروں کا احترام لازمی ہے۔

پی ٹی آئی کی جانب سے وکیل علی ظفر نے کہا کہ ہر ادارے کو اپنی آئینی حدود میں کام کرنا ہے، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کی اعلیٰ قیادت سے بھی ایسے رویے کی توقع ہے، پی ٹی آئی کو پہل کرنی ہوگی کیونکہ عدالت سے رجوع انہوں نے کیا ہے، ملک میں اس وقت تشدد اور عدم برداشت ہے، معاشی حالات دیکھیں آٹے کے لئے لائنیں لگی ہوئی ہیں، آپس میں دست و گریبان ہونے کے بجائے ان لوگوں کا سوچیں۔

علی ظفر نے کہا کہ انتخابات تاخیر کا شکار ہوئے تو بحران مزید بڑھے گا۔

Advertisement
دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ

دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ

  • 7 گھنٹے قبل
پنجاب حکومت کا آئندہ مالی سال ٹیکس فری بجٹ پیش کرنے کا فیصلہ

پنجاب حکومت کا آئندہ مالی سال ٹیکس فری بجٹ پیش کرنے کا فیصلہ

  • ایک دن قبل
پاکستان نے طویل مدتی تنازعات کے پھیلاؤ کے اثرات کے خطرات سے خبردارکردیا

پاکستان نے طویل مدتی تنازعات کے پھیلاؤ کے اثرات کے خطرات سے خبردارکردیا

  • 8 گھنٹے قبل
معروف مزاحیہ اداکار رفیع خاور المعروف ننھا کی برسی آج منائی جا رہی ہے

معروف مزاحیہ اداکار رفیع خاور المعروف ننھا کی برسی آج منائی جا رہی ہے

  • 8 گھنٹے قبل
ملائیشیا،16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندی

ملائیشیا،16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندی

  • ایک دن قبل
لبنان میں سیز فائر کی خلاف ورزی،ایران کا امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ معطل ، مذاکرات سے انکار

لبنان میں سیز فائر کی خلاف ورزی،ایران کا امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ معطل ، مذاکرات سے انکار

  • ایک دن قبل
صدرِ زرداری نے وفاقی شرعی عدالت کے قائم مقام چیف جسٹس کی تقرری کی منظوری دے دی

صدرِ زرداری نے وفاقی شرعی عدالت کے قائم مقام چیف جسٹس کی تقرری کی منظوری دے دی

  • ایک دن قبل
سیز فائر کے باوجود امریکی جارحیت کا سلسلہ جاری، ایرانی ٹھکانوں فضائی  پر حملے،ایران کا بھرپور جواب

سیز فائر کے باوجود امریکی جارحیت کا سلسلہ جاری، ایرانی ٹھکانوں فضائی پر حملے،ایران کا بھرپور جواب

  • ایک دن قبل
چین کے ساتھ کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے، وزیراعظم 

چین کے ساتھ کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے، وزیراعظم 

  • ایک دن قبل
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، فتنہ الہندوستان کے 17 دہشتگرد ہلاک

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، فتنہ الہندوستان کے 17 دہشتگرد ہلاک

  • ایک گھنٹہ قبل
اوگرا نے ایک دفعہ پھر ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا، نوٹیفکیشن جاری 

اوگرا نے ایک دفعہ پھر ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا، نوٹیفکیشن جاری 

  • ایک دن قبل
اٹلی:4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار

اٹلی:4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار

  • 5 گھنٹے قبل
Advertisement