آئین نے اختیارات کو اداروں کے درمیان تقسیم کیا ہے

اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف منگل کو قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں۔
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ سال ہم اپوزیشن میں تھے، مختلف نظریاتی جماعتوں نے فیصلہ کیا کہ ہمیں ریاست کو بچانا ہے۔ اتحادی جماعتوں نے ریاست کو بچانے کے لیے سیاست داغ دی۔
انہوں نے کہا کہ اس آئین نے اداروں کے درمیان اختیارات کی تقسیم کی ہے۔ اس نے ایک سرخ لکیر قائم کر دی کہ کوئی بھی اس لکیر کو عبور نہیں کر سکے گا لیکن تاریخ کے واقعات ہم سب کے سامنے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ آج آئین کا مذاق اڑایا جا رہا ہے، موجودہ آئینی مقننہ اور عدلیہ کے اختیارات کو بکھرا جا رہا ہے۔
سابق وزیر اعظم عمران خان اور پاکستان کے موجودہ غیر مستحکم حالات کا ذکر کرتے ہوئے شہباز شریف نے مزید کہا کہ وہ کسی ادارے کے سامنے پیش نہیں ہو رہے چاہے انہیں کتنے ہی نوٹس مل جائیں، رات کے اندھیرے میں مختلف عدالتوں میں توسیع مل جاتی ہے۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ 'آج عمران تکبر کی باتیں کرتے ہیں اور قانون اور آئین کو ردی کی ٹوکری میں ڈالتے ہیں، کسی نے نوٹس نہیں لیا، یہ وہ حالات ہیں جو پاکستان کو اس مقام تک لے آئے'۔
یہ وہی شخص ہے جس نے اسی پارلیمنٹ پر دھاوا بولا، اس کے پیروکاروں نے سپریم کورٹ کے باہر گندے کپڑے لٹکائے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت کے نتیجے میں انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) سے جو معاہدہ ہوا وہ میں نے نہیں کیا، موجودہ حکومت نے وعدہ خلافی نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ اس اتحادی حکومت نے بڑی مشکل سے پاکستان کو ڈیفالٹ ہونے سے بچانے کی دن رات کوشش کی، انہوں نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف ہم سے وہ ضمانتیں بتدریج واپس لے رہا ہے جن کی ہم یقین دہانی کر رہے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے تمام شرائط پوری کر لیں، اب دوست ممالک سے وعدے پورے کرنے کا کہا جا رہا ہے، ہم بھی وہ کر رہے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ سابقہ حکومت کے نتیجے میں 4 سالوں میں پاکستان کے قرضوں میں 70 فیصد اضافہ ہوا۔
خارجہ محاذ پر اس نے جو تباہی مچائی ہے ہم بیان نہیں کر سکتے، برادر ممالک کو کس طرح ناراض کیا، جو ہوا اس پر ہم ڈٹے ہوئے ہیں، وہ ایک غیر سنجیدہ آدمی تھا، اس نے چین کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا۔
اب اسی عمران نیازی نے امریکہ میں لابنگ کمپنیوں کی خدمات حاصل کر رکھی ہیں، پاکستان کے خلاف ڈرامہ رچایا جا رہا ہے، کچھ لوگوں سے بیانات دئیے جا رہے ہیں، انہیں ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا کیا حق ہے؟
اٹلی:4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
- 2 hours ago

لبنان میں سیز فائر کی خلاف ورزی،ایران کا امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ معطل ، مذاکرات سے انکار
- a day ago
پاکستان نے طویل مدتی تنازعات کے پھیلاؤ کے اثرات کے خطرات سے خبردارکردیا
- 6 hours ago

چین کے ساتھ کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے، وزیراعظم
- a day ago

صدرِ زرداری نے وفاقی شرعی عدالت کے قائم مقام چیف جسٹس کی تقرری کی منظوری دے دی
- a day ago

پنجاب حکومت کا آئندہ مالی سال ٹیکس فری بجٹ پیش کرنے کا فیصلہ
- a day ago

پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان شراکت داری اور باہمی تعاون کے فروغ پر اتفاق
- a day ago

سیز فائر کے باوجود امریکی جارحیت کا سلسلہ جاری، ایرانی ٹھکانوں فضائی پر حملے،ایران کا بھرپور جواب
- a day ago

ملائیشیا،16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندی
- a day ago

اوگرا نے ایک دفعہ پھر ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا، نوٹیفکیشن جاری
- a day ago
معروف مزاحیہ اداکار رفیع خاور المعروف ننھا کی برسی آج منائی جا رہی ہے
- 6 hours ago
دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
- 4 hours ago







