Advertisement
تجارت

گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد کی زیر صدارت 43 واں سارک فنانس گورنرز گروپ کا اجلاس

درپیش صبر آزما ماحول میں علاقائی تعاون کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے

GNN Web Desk
شائع شدہ 3 years ago پر May 3rd 2023, 8:49 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد کی زیر صدارت 43 واں سارک فنانس گورنرز گروپ کا اجلاس

اسلام آباد: بینک دولت پاکستان کے گورنر جمیل احمد نے کہاہےکہ سارک کے خطے کو متعدد چیلنج درپیش ہیں اور اسے بہت بلند مہنگائی، سست نمو، مالیاتی اور بیرونی توازن پر دباؤ، موسمیاتی تبدیلیوں، اور غربت میں اضافے کے لحاظ سے دشواریوں کا سامنا ہے۔

اس صورتِحال میں سارک فنانس فورم یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم متعلقہ میکرو اکنامک پالیسیوں پر ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھیں چنانچہ درپیش صبر آزما ماحول میں علاقائی تعاون کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے 43 ویں سارک فنانس گورنرز گروپ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے سارک فنانس کے علاقائی اجلاس میں سارک کے مرکزی بینکوں کے گورنروں اور دیگر مندوبین کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے خاص طور پر مہاپرشاد ادھیکاری، گورنر آف نیپال راشٹرا بینک، ڈاکٹر پی نندا لال ویراسنگھے، گورنر سینٹرل بینک آف سری لنکا، اور خطّے کے دوسرے مرکزی بینکوں سے تشریف لانے والے مندوبین سے اظہارِ تشکّر کیا۔

اپنے خیرمقدمی کلمات میں گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا کہ سارک کے خطے کو متعدد چیلنج درپیش ہیں اور اسے بہت بلند مہنگائی، سست نمو، مالیاتی اور بیرونی توازن پر دباؤ، موسمیاتی تبدیلیوں، اور غربت میں اضافے کے لحاظ سے دشواریوں کا سامنا ہے۔

اس صورتِ حال میں سارک فنانس فورم یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم متعلقہ میکرو اکنامک پالیسیوں پر ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھیں، چنانچہ درپیش صبر آزما ماحول میں علاقائی تعاون کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔

سٹیٹ بینک کے گورنر کے افتتاحی کلمات کے بعد مرکزی بینکوں کے گورنرز نے خطے کی میکرو اکنامک صورتحال، سارک فنانس فورم کے تحت مختلف اقدامات بشمول ڈیٹابیس، مالی شمولیت، مشترکہ مطالعوں اور استعداد کاری پر پیشرفت کا جائزہ لیا۔ گورنروں کے اجلاس کے علاوہ ایک سیشن دورانِ سال مکمل کیے گئے سارک فنانس مشترکہ تحقیقی مطالعوں پر منعقد کیا گیا۔

اس سیشن میں سٹیٹ بینک نے جنوب ایشیائی مرکزی بینکوں کی طرف سے غیر روایتی پالیسی آلات کے استعمال پر ایک اسٹڈی پیش کی۔ ایک اور اسٹڈی نیپال راشٹرا بینک کی طرف سے پیش کی گئی جس میں سارک خطّے میں ’’سنٹرل بینک ڈجیٹل کرنسی‘‘ (سی بی ڈی سی)کے امکانات جائزہ لیا گیا۔

Advertisement