مہنگائی کنٹرول کرنے کیلئے پالیسی ریٹ کے علاوہ کوئی اور ٹول نہیں ہے، ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک


سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں وزارتِ خزانہ نے انکشاف کیا ہے کہ شرح سود میں ایک فیصد اضافے سے قرض کے حجم میں 600 ارب روپے کا اضافہ ہو جاتا ہے۔
سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس ہوا جس میں ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ مرکزی بینک کے پاس مہنگائی کنٹرول کرنے کیلئے پالیسی ریٹ کے علاوہ کوئی اور ٹول نہیں ہے، پالیسی ریٹ بڑھنے سے کاروباری اداروں کے ڈیفالٹ کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے، تاہم ابھی تک ایسی صورت حال نہیں ہے اور امید ہے کہ معیشت بحالی تیز تر ہو گی۔
ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک نے کمیٹی کو بتایا کہ سیاسی طور ایکسپوزڈ پرسنز کیلئے اسٹیٹ بینک سمیت ہر بینک میں ایک فوکل پرسن کی تعیناتی کی گئی ہے، بینک عالمی قوانین کے تحت سیاسی افراد کی زیادہ چھان بین کرتے ہیں تاکہ ان پر کوئی پابندی نہ لگے۔
ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا شرح سود بڑھانے کی وجہ سے 26 ہزار ارب روپے بینکوں میں ڈیپازٹ ہوئے۔ ڈیپازیڑز پروٹیکشن کارپوریشن کے تحت 94 فیصد ڈیپازیڑز محفوظ ہیں۔
ممبر کسٹمز پالیسی نے بتایا کہ سولر پینل کی درآمد پر 21 بینکوں سے تفصیلات مانگی ہیں ایک امپورٹر نے 14 ارب روپے اور دوسرے نے 11 ارب روپے کیش بینکوں میں جمع کروائے اگر بینک پہلے ریڈ فلیگ لہرا دیتے تو اس کو پہلے روک لیتے سات کمپنیوں نے پانچ سالوں میں 70 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کی۔
اس پر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ یہ سارا کام اس وقت ہوا جب ملک میں ایل سی کھولنے پر پابندی تھی۔
ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کہا کہ جب اسٹیٹ بینک نے درآمد کی اجازت دینا شروع کی تو اس میں یہ مشکوک درآمدات نظر آئیں یہ تجارتی منی لانڈرنگ تھی بینکوں نے انکے خلاف 37 دفعہ مشکوک ٹرانزیکشن رپورٹ جاری کی اگر 20 لاکھ سے زیادہ کیش رقم جمع کروائی جائے تو بینک اس کو ایف ایم یو کو رپورٹ کرتا ہے ان درآمدات کے ذریعے رقم باہر بھجوائی جا رہی تھیں۔
ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ سولر کی درآمدات زیرو ریٹیڈ تھیں اسکو انھوں نے رقم باہر بھجوانے کیلئے استعمال کیا۔
سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ سیاسی شخصیات کیلئے بینک اکاؤنٹس کھولنا مشکل ہوتا جارہا ہے، رکاوٹ ڈالنے والے افسران و افراد کے خلاف کارروائی کرنا ہوگی۔ اب بینک اتنے منافع بخش ہو گئے ہیں کہ ان کو کسی کی پروا نہیں۔ شرح سود میں اضافے سے گندم، دالیں، سبزیاں اور گھی کم از کم 30 فیصد مہنگے ہوئے۔
سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ بینکوں کو اب حکومت کی شکل میں بہترین صارف مل گیا ہے۔ ملک میں کاروبار کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
ایڈیشنل سیکرٹری فنانس ڈویژن نے بتایا کہ ایک فیصد پالیسی ریٹ بڑھنے سے حکومت کا قرضہ 600 ارب روپے بڑھ جاتا ہے۔

شہر قائد میں منکی پاکس وائرس کا ایک اور کیس سامنے آ گیا
- 9 گھنٹے قبل

پاکستان اور چین کے بزنس ٹو بزنس تعلقات میں وسعت کے لیے ترجیحی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں،وزیراعظم
- 12 گھنٹے قبل

اسحاق ڈار کا سعودی وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ،لبنان میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر اظہارِ تشویش
- 12 گھنٹے قبل

جنگ بندی مذاکرات:امریکی نائب صدر، ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر اور وزیر خارجہ آج پاکستان پہنچیں گے
- 12 گھنٹے قبل

وزیر اعظم سے فیلڈ مارشل کی ملاقات،ایران و امریکا ثالثی کے حوالے سے تبادلہ خیال
- 7 گھنٹے قبل

ایک روز کے اضافے کے بعد سونا ہزاروں روپے سستا، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- 11 گھنٹے قبل
.jpg&w=3840&q=75)
وزیر اعظم سےایمانوئل میکرون کا رابطہ،مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی اورثالثی پر پاکستان کی تعریف
- 9 گھنٹے قبل

پاک انٹرنیشنل بزنس فورم کا پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے حالیہ ایران-امریکہ مذاکرات کا خیرمقدم
- 12 گھنٹے قبل

وزیراعظم کی زیرصدارت اعلیٰ سطحی اجلاس، سیاسی و عسکری قیادت کا مذاکرات کامیاب بنانے کا عزم
- 10 گھنٹے قبل

بیروت: سیز فائر کے باوجود بھی اسرائیلی حملے، 254 افراد شہید، عالمی رہنماؤں کی جنگ بندی برقرار رکھنے کی اپیل
- 10 گھنٹے قبل

شہبازشریف کا لبنانی وزیراعظم سے ٹیلیفونک رابطہ ،اسرائیلی جارحیت کی مذمت اور لبنان سے اظہارِ یکجہتی
- 5 گھنٹے قبل

سیز فائر کی خلاف ورزی : پاکستان کا عالمی برادری سے اسرائیلی جارحیت کے خاتمے کیلئے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ
- 11 گھنٹے قبل













