جی این این سوشل

تفریح

میری زندگی میں کوئی پچھتاوا نہیں ہے،اداکارہ ہانیہ عامر

میں نے تعلقات سے جڑی ہر ایک چیز کا لطف اٹھایا

پر شائع ہوا

کی طرف سے

میری زندگی میں کوئی پچھتاوا نہیں ہے،اداکارہ ہانیہ عامر
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

اسلام آباد: اداکارہ ہانیہ عامر نے کہا کہ میری زندگی میں کوئی افسوس یا پچھتاوا نہیں ہے۔

ہانیہ عامر نے ایک پوڈ کاسٹ میں اپنے تعلقات ، ماضی میں ہونے والی غلطیوں اور وہ ٹرولز کو کیسے ہینڈل کرتی ہیں بارے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اب تک اپنی زندگی میں بالکل ویسا ہی کام کیے جیسا میں چاہتی تھی۔

میری زندگی میں کوئی افسوس یا پچھتاوا نہیں ہے۔ میں نے چیزیں اپنے سوچ یا عقل کے مطابق کیں۔ میں نے اپنے تعلقات سے اچھی طرح سے لطف اٹھایا۔ مجھے کسی تعلق کے بنانے کا ایک لمحہ بھی افسوس نہیں ہے۔ میں نے تعلقات سے جڑی ہر ایک چیز کا لطف اٹھایا، ہر چیزکا برا حصہ ہونا تھا، میں اس کے بارے میں کچھ نہیں کر سکتی تھی۔غلطیوں سے سیکھنے کے بارے میں بات کرتے ہوئے، کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ میں نے اپنی غلطیوں سے سیکھا ہے کہ کیا دکھانا ہے اور کیا چھپانا ہے۔ اب، میں وہی کرتی ہوں جو مجھے صحیح لگتا ہے۔

میرے لیے بہت سی چیزیں بالکل نارمل ہیں، اس لیے میں ان کے بارے میں پوسٹ کرتی ہوں۔ ہاں، میں نے سیکھا ہے کہ رومانوی رشتوں کی حفاظت کی جانی چاہیے کیونکہ وہ بہت نازک ہوتے ہیں۔ اپنے پرستاروں بارے بات کرتے ہوئے ہانیہ نے کہا کہ دوسرے سرے پر ایسا نہیں ہے کہ شیطان یا نفرت کرنے والےبیٹھے ہیں، وہ صرف آپ کے پرستار ہیں جو آپ سے محبت کرتے ہیں اور اپنے آپ میں سرمایہ کاری کرتے ہیں اگر کوئی رشتہ ٹوٹ جاتا ہے تو وہ ٹوٹ جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ نہیں پڑھتیں کہ نفرت کرنے والے ان کے پروفائل پر کیا لکھتے ہیں۔

پاکستان

وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کی  یونیورسٹی آف لندن کی پرو وائس چانسلرسے ملاقات

وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے معیار ی تعلیم، اساتذہ کی تربیت اور عالمی سطح پر وظائف فراہم کرنے پر  ان کی کوششوں کو سراہا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کی  یونیورسٹی آف لندن کی پرو وائس چانسلرسے ملاقات

بین الاقوامی درس و تدریس کے بارے میں  یونیورسٹی آف لندن کی پرو وائس چانسلر پروفیسر میری سٹیسنی  نے آج لاہور میں پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز سے ملاقات کی۔

وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے معیار ی تعلیم، اساتذہ کی تربیت اور عالمی سطح پر وظائف فراہم کرنے پر  ان کی کوششوں کو سراہا ۔

 انہوں نے پرو وائس چانسلر کو پنجاب میں تعلیم کے فروغ اور اساتذہ کی تربیت کے بارے میں بھی اپنے منصوبوں سے آگاہ کیا ، وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ نصاب تعلیم کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کی بنیاد پر جدید خطوط پر استوار کرنا چاہتی ہیں۔

 

مریم نواز نے اساتذ ہ کے لئے آن لائن تربیتی کورسز شروع کرنے پر بھی پروفیسر میری سٹیسنی سے تبادلہ خیال کیا  اورمعیاری تعلیم کی فراہمی اور ہر بچے کو ہنر سکھانے کے عزم کا اظہار کیا۔

 اس موقع پر پروفیسر میری سٹیسنی نے پنجاب کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ منتخب ہونے پر  مریم نواز کو مبارکباد دی اور تعلیم کےلئے  ان کے جذبے کی تعریف کی۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

الیکشن کمیشن نے ہمیں مخصوص نشستیں نہ دیں تو سپریم کورٹ جائیں گے، بیرسٹر علی ظفر

اگر ہماری سیٹیں چھین کر بانٹ دی گئیں تو صدر اور وزیر اعظم سمیت تمام الیکشن متنازع ہو جائیں گے،رہنما پی ٹی آئی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

الیکشن کمیشن نے ہمیں مخصوص نشستیں نہ دیں تو سپریم کورٹ جائیں گے، بیرسٹر علی ظفر

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ اگر ہماری سیٹیں چھین کر بانٹ دی گئیں تو صدر اور وزیر اعظم سمیت تمام الیکشن متنازع ہو جائیں گے، اُمیدہے آئین اور قانو ن کے مطابق فیصلہ ہوگا،اگر الیکشن کمیشن نے ہمیں مخصوص نشستیں نہ دیں تو سپریم کورٹ جائیں گے۔

مخصوص نشستوں سے متعلق الیکشن کمیشن کی جانب سے فیصلہ محفوظ ہونے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر علی ظفر نے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن میں مخصوص نشستوں کی سماعت ہوئی، ہماری سیاسی جماعتیں جمہوریت کی بات کرتی ہےلیکن عمل نہیں کرتی، آئین کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا، آئین میں جو حصہ دوسری جماعتوں کا ہے آپ وہ انہیں دے چکے ہیں اور پی ٹی آئی ارکان کو آئین کے مطابق حصہ دینا ہی دینا ہے۔

علی ظفر نے کہا کہ یہ چاہتے ہیں کہ ہماری مخصوص نشستیں خود میں تسلیم کرلیں، مخصوص نشستیں کوئی خیرات نہیں آئینی حق ہے، ہم نے کہا الیکشن کمیشن یہ معاملہ خالی بھی نہیں چھوڑسکتا، جنہیں نشستیں مل گئی انہیں دوبارہ نہیں مل سکتیں، دوران سماعت کہا گیا کہ سنی اتحاد کونسل ایک سیاسی جماعت تو ہے لیکن انہوں نے پارلیمنٹ میں کوئی سیٹ نہیں جیتی ، اس لئے آزاد ارکان کی اس جماعت میں شمولیت کے بعد بھی کوئی مخصوص نشستیں نہیں دی جا سکتی،ہم نے آرٹیکل 51 دکھایا کہ ارکان کسی بھی پارٹی میں شامل ہوسکتے ہیں،آئین میں کہیں یہ قدغن نہیں لگائی کہ اسی سیاسی جماعت میں شامل ہو سکتے ہیں جو پارلیمنٹ میں ہو۔

رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ دوسری بحث یہ کی کہ سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستوں سے متعلق کوئی لسٹ الیکشن کمیشن میں جمع نہیں کرائی جس کے جواب میں ہم نے کہا کہ قانون میں کہا لکھا ہے کہ لسٹ بعد میں جمع نہیں کرائی جا سکتی۔اگر مخصوص نشستیں چھین کر دوسری جماعتوں میں بانٹی گئیں تو وہ سپریم کورٹ جائیں گے لیکن اگر ایسی بانٹ ہوئی تو صدر کا الیکشن، چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر کے الیکشن سمیت تمام الیکشن متنازع ہو جائیں گے۔

پی ٹی آئی رہنما علی ظفر کا مزید کہنا تھا کہ خط میں کہیں نہیں لکھا کہ ہمیں مخصوص سیٹیں نہیں چاہیئے، اس خط کا مخصوص نشستوں سے کوئی تعلق نہیں بنتا۔  سنی اتحاد کونسل کے سربراہ کا خط انہیں دکھایا نہیں گیا لیکن انہیں معلوم ہوا ہے کہ وہ خط رول 206 کے تحت لکھا گیا تھا، جب الیکشن کمیشن نے رسمی کارروائی کے لیے سنی اتحاد کونسل سے پوچھا کہ انہوں نے مخصوص نشستوں کے لیے ترجیحی فہرست فراہم نہیں کی تو جواب میں سنی اتحاد کونسل نے کہا کہ انہوں نے الیکشن نہیں لڑا اور اس فہرست کی ضرورت نہیں۔

اس موقع پر پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر گوہر نے کہا کہ آئین کے مطابق پی ٹی آئی کے 293 اراکین نے سنی اتحاد جوائن کیا، قومی اسمبلی سے پی ٹی آئی کے 86 اراکین نے سنی اتحاد جوائن کیا، پنجاب سے 107، خیبرپختونخوا سے 91 جبکہ سندھ اسمبلی سے 9 ایم پی ایز نے جوائن کیا۔

اس سے قبل سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں الاٹ کرنے سے متعلق درخواستوں پر فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے اے ایس پی شہر بانو نقوی کی ملاقات

آرمی چیف کی شہربانو کی بے لوث لگن اور ایک غیر مستحکم صورتحال کو دور کرنے میں پیشہ ورانہ مہارت کی تعریف

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے اے ایس پی شہر بانو نقوی کی ملاقات

آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے اے ایس پی شہر بانو نقوی کی ملاقات، آرمی چیف کی شہربانو کی بے لوث لگن اور ایک غیر مستحکم صورتحال کو دور کرنے میں پیشہ ورانہ مہارت کی تعریف کی، نڈر افسر نے 26 فروری 2024 کو لاہور کے اچھرہ بازار کے مشکل ماحول سے ایک خاتون کو نکالا۔

آرمی چیف نے اسلام کے حسن سلوک اور احسان کے ابدی پیغام پر بھی روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا کہ تحفظات اور شکایات کے حل کےلئے قانونی راستے میسر ہوتے ہوئے قانون کو ہاتھ میں نہیں لینا چاہیے۔ بدعت کی بنیاد پر من مانی کارروائیاں معاشرے کے نقطہ نظر کو کمزور کرتی ہیں۔

آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا کہ پاکستانی خواتین زندگی کے تمام شعبوں میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ آزادی کے بعد سے، پاکستانی خواتین نے اپنی قابلیت، استقامت اور عزم کی وجہ سے اندرون اور بیرون ملک خود کو ممتاز کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ خواتین پاکستان کے معاشرے کا ایک انمول حصہ ہیں اور ان کا احترام ہمارے مذہب کے ساتھ ساتھ ہمارے معاشرتی اقدار میں بھی شامل ہے۔

جنرل عاصم منیر نے سماجی ہم آہنگی کی اہمیت اور عدم برداشت کو روکنے کے لیے ملک گیر اتفاق رائے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے قانون کی حکمرانی پر زور دیا اور تحفظات اور شکایات کے حل کے لیے قانونی راستے دستیاب ہونے پر قانون کو ہاتھ میں نہ لینے کا مشورہ دیا۔ یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ بدعت کی بنیاد پر من مانی کارروائیاں معاشرے کے نقطہ نظر کو کمزور کرتی ہیں

آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے پاکستان کے شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں کو سراہا۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll