بلے کا نشان چھیننے کی کوشش عوام کے ساتھ زیادتی ہوگی، چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر


چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے کہا کہ پی ٹی آئی 5 سال الیکشن نہیں کرا سکی، وہ ذمہ دار ہے، انٹرا پارٹی الیکشن ہماری نظر میں درست نہیں، اپنی غلطیاں الیکشن کمیشن کے کھاتے میں ڈالنا کسی صورت درست نہیں، الیکشن کمیشن نے اس کے باوجود پی ٹی آئی کو انٹرا پارٹی الیکشن کروانے کا موقع دیا۔
الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی، پی ٹی آئی کے بانی رکن اور درخواست گزار اکبر ایس بابر پیش ہوئے۔
چیف الیکشن کمشنر نے پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کو نوٹس کی کاپی مل گئی؟ جس پر بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ جی نوٹس کی کاپی مل گئی۔
درخواست گزار اکبر ایس بابر نے کہا کہ پچھلی سماعت پر میرے وکیل نے دلائل دیئے تھے، عدالت سے استدعا ہے کہ پی ٹی آئی نے الیکشن کے حوالے سے جو کاغذات دیئے وہ ہمیں دیئے جائیں، جب ہمیں پی ٹی آئی کا جواب مل جائے گا تو ہم اچھے دلائل دے سکتے ہیں۔
دوران سماعت وکیل بیرسٹر علی ظفر نے اپنے دلائل میں کہا کہ ہم نے الیکشن کمیشن کی ہدایت پر 20 روز کے اندر انٹرا پارٹی الیکشن کروائے، ہم نہیں چاہتے کہ پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کو انتخابی نشان سے دور رکھا جائے، الیکشن قریب آرہا ہے چاہتے ہیں اس کیس کا جلد فیصلہ کیا جائے۔
چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ آپ نے بھی پانچ سال الیکشن نہیں کروائے جو ہماری نظر میں درست نہیں۔ وکیل علی ظفر نے کہا کہ ہم نے آپ کے حکم کے مطابق انتخابات کروائے، پشاور ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ سماعت چلتی رہے گی لیکن الیکشن کمیشن فیصلہ نہیں کر سکتا۔
ممبر الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ ہم نے تو کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا، جس پر گوہر علی خان نے کہا کہ کمیشن اس معاملے میں حتمی فیصلہ کر چکا، پہلے آپ درخواست گزاروں کا موقف سن لیں پھر ہم دلائل دیں گے، آپ اس معاملے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کر سکتے۔
چیئرمین پی ٹی آئی گوہر علی نے کہا کہ جس طریقے سے ہم نے انٹرا پارٹی الیکشن کرائے ویسے کسی نے نہیں کرائے، ہماری واحد پارٹی ہے جس کے پاس ووٹرز کا بہترین ڈیٹا موجود ہے۔ ہم پہلے تو بلے سے محروم نہیں ہوں گے اور پی ٹی آئی کبھی الیکشن سے پیچھے نہیں ہٹے گی، بڑے عرصے سے پی ٹی آئی کو زیر عتاب لایا جا رہا ہے، لہذا بلے کا نشان چھیننے کی کوشش عوام کے ساتھ زیادتی ہوگی۔
دوران سماعت پی ٹی آئی وکلا کی جانب سے انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق سرٹیفکیٹ جاری کرنے کی استدعا کی گئی۔ اس موقع پر ڈی جی لا الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہوئے۔ ڈی جی لا نے کہا کہ الیکشن ایکٹ کہتا ہے سات روز میں انٹرا پارٹی انتخابات کی تفصیلات الیکشن کمیشن کو جمع کرائی جائیں، الیکشن کمیشن مطمئن ہوگا تو سرٹیفکیٹ جاری کرے گا، اگر الیکشن کمیشن مطمئن ہی نہیں تو سرٹیفکیٹ کیسے جاری کرے۔
چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اس کیس کو چلانا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، پی ٹی آئی پانچ سال میں انٹرا پارٹی انتخابات نہیں کراسکی، پی ٹی آئی نے پانچ سال بعد جو انٹرا پارٹی الیکشن کروائے وہ ہماری نظر میں درست نہیں، اپنی غلطیاں الیکشن کمیشن کے کھاتے میں ڈالنا کسی صورت درست نہیں، الیکشن کمیشن نے اس کے باوجود پی ٹی آئی کو انٹرا پارٹی الیکشن کروانے کا موقع دیا۔
الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کے خلاف درخواستوں پر سماعت14 دسمبر تک ملتوی کردی اور آئندہ سماعت پر تمام درخواست گزاروں کو جواب جمع کرانے کی ہدایت کی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ہارورڈ بزنس سکول کے طلبہ کے وفد کی ملاقات
- 11 hours ago
ملک میں سونے کی قیمت میں بڑی کمی
- a day ago

فیلڈ مارشل کا دورہ ایران ٹرمپ یا امریکا کے نمائندے کی حیثیت سے نہیں تھا: ترجمان دفتر خارجہ
- a day ago
ملک کے بیشتر میدانی علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہنے کا امکان
- 11 hours ago
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا امن مشن کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے، طاہراشرفی
- a day ago
ناروے کے بادشاہ کا 89 سال کی عمر میں انتقال
- 11 hours ago
لارڈز ٹیسٹ کا دوسرا روز: انگلینڈ کے خلاف پاکستان ٹیم 110 رنز پر ڈھیر
- 5 hours ago
انسپکٹر جمشید پر بننے والی فلم کا پہلا ٹریلر جاری
- 5 hours ago

استاد حامد علی خاں کا نیا پنجابی گانا ریلیز
- a day ago

یاسرحسین کا لاہورمیں فیملی تھیٹرکوفروغ دینے پرزور
- a day ago

وزیراعظم کا پاکستان، سعودی عرب کے درمیان اقتصادی و زرعی تعاون بڑھانے پر زور
- 11 hours ago

پاکستان اور کویت کا باہمی دفاعی تعاون مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ
- a day ago

