Advertisement
پاکستان

سوشل میڈیا پرعدلیہ مخالف مہم کی تحقیقات قانون کے مطابق ہوئی، مرتضی سولنگی

عدلیہ کےخلاف مہم کےخلاف جےآئی ٹی میں 100 کے قریب انکوائریز ہوچکی ہیں، نگران وزیر اطلاعات

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 years ago پر Jan 29th 2024, 12:58 am
ویب ڈیسک کے ذریعے
سوشل میڈیا پرعدلیہ مخالف مہم کی تحقیقات قانون کے مطابق ہوئی، مرتضی سولنگی

نگراں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مرتضیٰ سولنگی نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پرعدلیہ مخالف مہم کی تحقیقات قانون کے مطابق ہوئی ہیں اور ایف آئی اے قانون کے مطابق کام کررہا ہے۔

اسلام آباد میں ڈی جی ایف آئی اے کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ عدلیہ کےخلاف مہم کےخلاف جےآئی ٹی بنائی گئی، 100 کے قریب انکوائریز ہوچکی ہیں۔ اعلیٰ عدلیہ کے خلاف تضحیک آمیز اور بہتان تراشی پر مہم جاری تھی، جس پر وفاقی وزارت داخلہ نے 16 جنوری کو  اس معاملے پر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی تھی۔

مرتضیٰ سولنگی کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت اظہار رائے کی آزادی لامحدود نہیں بلکہ اس پر مناسب پابندیاں موجود ہیں، سپریم لا آف لینڈ میں درج ہے کہ مسلح افواج اور عدلیہ کے خلاف آئین اور قانون کے دائرہ سے باہر مہم نہیں چلا سکتی۔اس معاملے پر بات تنقید کی نہیں، بات تضحیک اور کردار کشی کی ہو رہی ہے، پچھلے دنوں اعلیٰ عدلیہ کے خلاف جو مہم چلائی گئی وہ کسی طور پر بھی تنقید کے زمرے میں نہیں آتا، تنقید کو تہذیب کے دائرہ میں رکھیں اور بہتان تراشی سے گریز کرنا چاہیے۔

مرتضیٰ سولنگی نے بتایا کہ جے آئی ٹی کا پہلا اجلاس 17 جنوری اور دوسرا اجلاس 23 جنوی کو منعقد ہوا اور اب اب تک سوشل میڈیا کے تقریباً 600 اکاﺅنٹس کی تحقیقات کی بنیاد پر تقریباً 100 انکوائریز رجسٹرڈ کردی گئی ہیں۔ ہم آئین اورعدالتوں کا احترام کرتے ہیں، اب تک کی کارروائی قانون کےمطابق ہوئی، تنقید کو تہذیب کے دائرے میں رکھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بہتان تراشی اور تذلیل سے اجتناب کرنا چاہئے، جےآئی ٹی اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ قانون سازی پارلیمان کا اختیار ہے، کسی کو نوٹس دینا متعلقہ اداروں کا اختیار ہے، ایف آئی اے قانون کے مطابق کام کررہا ہے۔

Advertisement
Advertisement