جی این این سوشل

علاقائی

ڈی سی اسلام آباد نے توہین عدالت کیس کا فیصلہ چیلنج کر دیا

اسلام آباد ہائی کورٹ نے شہریار آفریدی کی گرفتاری کیلئے ایم پی او آرڈر جاری کرنے پر عرفان نواز میمن کو توہینِ عدالت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے 6 ماہ قید کی سزا سنائی ہے

پر شائع ہوا

کی طرف سے

ڈی سی اسلام آباد نے توہین عدالت کیس کا فیصلہ چیلنج کر دیا
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

ڈی سی اسلام آباد عرفان نواز میمن نے توہین عدالت کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے سنائی گئی سزا کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

ڈی سی اسلام آباد عرفان نواز میمن اور دیگر نے توہین عدالت کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے سنگل بینچ کا حکم چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے،ڈی سی اسلام آباد عرفان نواز میمن اور ایس ایس پی آپریشنز جمیل ظفر نے بائیو میٹرک کروا لیا۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ مئی 2023 میں ایس ایس پی آپریشنزکی فراہم کردہ معلومات پر ایم پی او کے تحت نظر بندی کے احکامات جاری کئے، 2 جون 2023 کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے نظر بندی کے احکامات کو غیر قانونی قرار دے کر کالعدم قرار دے دیا۔

 اسلام آباد ہائی کورٹ نے آج شہریار آفریدی کی گرفتاری کیلئے ایم پی او آرڈر جاری کرنے پر توہینِ عدالت کیس میں ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان نواز میمن کو توہینِ عدالت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے 6 ماہ قید کی سزا سنائی، شہر یار آفریدی کی گرفتاری کیلئے ایم پی او آرڈر جاری کرنے پر ڈی سی اسلام آباد عرفان نواز میمن کے خلاف توہین عدالت کیس قائم ہوا تھا۔

 اسلام آباد ہائی کورٹ نے عدالتی فیصلے کی کاپی وزیرِ اعظم پاکستان کو بھجوانے کی ہدایت بھی کر دی،عدالتِ عالیہ نے اپیل کے لیے وقت دیتے ہوئے ایک ماہ تک سزا معطل بھی کر دی،اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ ڈی سی اسلام آباد عرفان نواز میمن 1 ماہ کے دوران فیصلے کے خلاف اپیل فائل کریں، 1 ماہ تک اگر عدالت سے فیصلہ معطل نہ ہوا تو انہیں جیل بھجوایا جائے۔

 عدالتِ عالیہ کی جانب سے ڈی سی اسلام آباد عرفان نواز میمن کو 6 ماہ قید کے ساتھ 1 لاکھ روپے جرمانے کی سزا کا بھی حکم سنایا گیا ہے،اسلام آباد ہائی کورٹ نے اسی معاملے پر ایس ایس پی آپریشنز جمیل ظفر کو 4 ماہ قید اور 1 لاکھ روپے جرمانے کی سزا جبکہ ایس ایچ او تھانہ کوہسار کو 2 ماہ قید اور 1 لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی ہے

پاکستان

اسلام آباد پولیس میں بھرتیوں کیلئے 40 ہزار امید وار اسلام آباد میں موجود

اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ میدواروں کیلئے ایمبولینسز اور ڈاکٹرز کی سہولت بھی موجود ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

اسلام آباد پولیس میں بھرتیوں کیلئے 40 ہزار امید وار اسلام آباد میں موجود

اسلام آباد : اسلام آباد پولیس میں بھرتیوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ 

تفصیلات کے مطابق 40 ہزار سے زائد امید وار اس وقت اسلام آباد پولیس کا ٹیسٹ دینے اسلام آباد موجود ہیں ۔ 

اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ میدواروں کیلئے ایمبولینسز اور ڈاکٹرز کی سہولت بھی موجود ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے ۔ 

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

چاہتا ہوں جب بھی مارشل لاء کا خطرہ ہو عدالتیں کھلی ہوئی ہوں، جسٹس اطہر من اللہ

کاش عدالتیں 5 جولائی کو بھی کھلی ہوتیں جب جنرل ضیاء نے منتخب وزیراعظم کوہٹایا تھا، سپریم کورٹ جج

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

چاہتا ہوں جب بھی مارشل لاء کا خطرہ ہو عدالتیں کھلی ہوئی ہوں، جسٹس اطہر من اللہ

سپریم کورٹ کے جج جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا ہے کہ چاہتا ہوں جب بھی مارشل لاء کا خطرہ ہو عدالتیں کھلی ہوئی ہوں، کاش عدالتیں 5 جولائی کو بھی کھلی ہوتیں جب جنرل ضیاء نے منتخب وزیراعظم کوہٹایا تھا

نیویارک بار سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ میں ٹی وی چینل کا نام لینا نہیں چاہ رہاجس نے عدم اعتماد کے وقت ایسا ماحول بنایا جیسے مارشل لاء لگنے والا ہے، میں چاہتا ہوں جب بھی مارشل لاء کا خطرہ ہو عدالتیں کھلی ہوئی ہوں۔ 

انہوں نے کہا کہ کاش عدالتیں 5 جولائی کو بھی کھلی ہوتیں جب ضیاء نے منتخب وزیراعظم کوہٹایا تھا، کاش عدالتیں 12 اکتوبر1999  کوکھلی ہوتیں جب مشرف نے منتخب وزیراعظم کوباہرپھینکا،اسلام آباد ہائی کورٹ بھی رات کو کھولی گئی کیونکہ ٹی وی چینل نے ایسا ماحول بنا دیا تھا کہ مارشل لاء لگنے والا ہے۔ کسی نے اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کو ہٹانےکی کوشش کی ہوتی تویہ امتحان اسلام آباد ہائیکورٹ کا ہوتا کہ وہ آئین کی بالادستی کےلیےکھڑی ہوتی ہے یا نہیں۔ 

جسٹس اطہر نے مزید کہا کہ جو لوگ 2022 تک میرے خلاف پروپیگنڈا کرتے تھے وہ اچانک تبدیل ہوگئے، آج پروپیگنڈا وہ کررہے ہیں جنہوں نے اس وقت اسلام آباد ہائیکورٹ سے فائدہ اٹھایا تھا، اس وقت انہیں ملک کی کوئی ہائیکورٹ ریلیف نہیں دے رہی تھی، یہ جج کا اصل امتحان ہوتا ہے جس سے جج اور عدالت پر عوام کا اعتماد بڑھتا ہے، تنقید سے جج کو خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔ 

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

وفاقی حکومت نے پیکا ایکٹ کے تحت ٹرائل کیلیے اسلام آباد میں خصوصی عدالتیں تشکیل دے دیں

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز، سول جج ایسٹ اینڈ ویسٹ کو ٹرائل کا اختیار دیا گیا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

وفاقی حکومت نے پیکا ایکٹ کے تحت ٹرائل کیلیے اسلام آباد میں خصوصی عدالتیں تشکیل دے دیں

وفاقی حکومت نے پیکا ایکٹ کے تحت ٹرائل کیلیے اسلام آباد میں خصوصی عدالتیں تشکیل دے دیں۔ 

پیکا ایکٹ کے ملزمان کا تحت ٹرائل کے معاملے پر بڑی پیشرفت اُس وقت سامنے آئی جب وفاقی حکومت نے پیکا ایکٹ کے تحت ٹرائل کیلئے اسلام آباد میں خصوصی عدالتیں تشکیل دیدی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکرٹری اطلاعات پی ٹی آئی روف حسن اور دیگر کا ٹرائل پیکا ایکٹ کے نئی قائم عدالتوں میں ہونے کا امکان ہے۔

عدالتوں کی تشکیل کے بعد ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز، سول جج ایسٹ اینڈ ویسٹ کو ٹرائل کا اختیار دے دیا گیا ہے، دیگر صوبوں میں متعلقہ ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کی مشاورت سے ججز نامزد ہوں گے۔دوسری جانب وزارت قانون نے وضاحت کی ہے کہ جسٹس بابر ستار کے حکم کی روشنی میں پیکا ایکٹ ملزمان کے ٹرائل کیلئے عدالتیں تشکیل دی گئیں ہیں، جسٹس بابر ستار نے 6 جون 2024 کو وفاقی حکومت سے پیکا ایکٹ کے تحت عدالتوں کے عدم قیام پر جواب مانگا تھا۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز، سول جج ایسٹ اینڈ ویسٹ کو ٹرائل کا اختیار دیا گیا، دیگر صوبوں میں متعلقہ ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کی مشاورت سے ججز نامزد ہوں گے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll