روس کے نو منتخب صدر پیوٹن نے نیٹو اور مغربی ممالک کو تیسری عالمی جنگ سے خبردار کر دیا
روس اور نیٹو کے درمیان براہ راست تصادم کا مطلب یہ ہوگا کہ کرہ ارض تیسری عالمی جنگ سےمحض ایک قدم دور ہے، ولادیمیر پیوٹن


روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے ابتدائی نتائج کے مطابق 5ویں بار صدارتی انتخاب جیت لیا۔
روس میں صدارتی انتخاب کیلئے ووٹنگ کا عمل مکمل ہوگیا اور تمام پولنگ سٹیشن بند کردیئے گئے۔روس میں صدارتی انتخاب کیلئے ووٹنگ 15سے17مارچ تک جاری رہی۔روسی میڈیا کے مطابق پولنگ سٹیشنز بند ہونے تک 11کروڑ 23 لاکھ ووٹرز میں سے 74 فیصد نے ووٹ ڈالا۔
ابتدائی نتائج کے مطابق پیوٹن نے 87.97 فیصد ووٹوں کےساتھ روسی صدارتی انتخاب جیت لیا۔ پیوٹن 1999 سے روس پر حکمرانی کر رہے ہیں۔
روس کے نومنتخب صدر ولادی میر پوٹن نے کہا ہے کہ ان کے ملک اور نیٹو کے درمیان براہ راست تصادم کا مطلب یہ ہوگا کہ کرہ ارض تیسری عالمی جنگ سےمحض ایک قدم دور ہے اوران کا ملک یوکرین میں امن کے لئے مذاکرات کے حق میں ہے لیکن یہ امن مغرب کو یوکرین کے لئے ہتھیار تیار کرنے کے لئے درکار وقفے کی غرض سے نہیں ہونا چاہیے ۔
صدر پوٹن نے یہ بیان روس میں حال ہی میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کرنے کے بعد دیا ہے۔بظاہر ان کا یہ بیان فرانس کے صدر ایمانویل میکروں کے اس بیان کا ردعمل ہے جس میں فرانسیسی صدر نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ وہ مستقبل میں یوکرین کے اندر زمینی فوجیوں کی تعیناتی کو خارج از امکان قرار نہیں دے سکتے۔
روسی صدر اکثر مغربی ممالک کو جوہری جنگ کے خطرات بارے متنبہ کرتے رہے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے کبھی یوکرین میں جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی ضرورت محسوس نہیں کی ۔فرانسیسی صدر میکروں کے بیان اور روس اور نیٹو کے درمیان تصادم کے خطرات اور امکانات کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں روسی صدر نے کہا کہ جدید دنیا میں سب کچھ ممکن ہے۔اور اگر ایسا ہوا تو یہ بات واضح ہے کہ اس سے تیسری عالمی جنگ ایک قدم دور رہ جائے گی لیکن انہیں ایسا نہیں لگتا کہ کسی کو بھی اس میں دلچسپی ہو سکتی ہے۔
روسی صدر نے مزید کہا کہ نیٹو کے فوجی اہلکار یوکرین میں پہلے ہی موجود ہیں اور روس نے میدان جنگ میں لڑنے والے فوجیوں کو انگریزی اور فرانسیسی دونوں زبانیں بولتے سنا ہے۔ یہ کوئی اچھی صورتحال نہیں خاص طور پر نیٹو فوجیوں کے لئے، اس لئے کہ وہ وہاں بڑی تعداد میں مر رہے ہیں۔ یوکرین کےعلاقے خارکیو پر قبضے بارے روسی صدر نے کہا کہ اگر یوکرین کی طرف سے حملے جاری رہے تو روس اپنے علاقے کے دفاع کے لیے یوکرین کے مزید علاقوں میں ایک بفر زون تشکیل دے گا اور اس طرح کا علاقہ اتنا بڑا ہو سکتا ہے کہ غیر ملکی ساختہ اسلحے کو روسی علاقے تک پہنچنے سے روکا جا سکے۔
روسی صدر نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ فرانسیسی صدر یوکرین میں جنگ کو بھڑکانے کی کوشش روک دیں اور امن قائم کرنے میں کردار ادا کریں ایسا لگتا ہے کہ فرانس کردار ادا کر سکتا ہے۔ ابھی بھی سب کچھ ختم نہیں ہوا ہے۔ میں یہ بار بار کہہ رہا ہوں اور میں دوبارہ یہ کہوں گا کہ ہم امن مذاکرات کے حق میں ہیں لیکن صرف اس لیے نہیں کہ دشمن کے پاس گولہ بارود ختم ہو رہا ہے اور نہ اس لئے کہ مغرب کو یوکرین کے لئے اسلحہ تیار کرنے کے لئے ڈیڑھ سال کا وقفہ درکا ر ہے۔
انہوں نے روس کے صدارتی انتخاب پر امریکا اور مغربی ممالک کی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکی انتخابات جمہوری نہیں ہیں۔ انہوں نے امریکی صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ریاستی طاقت کے استعمال پر بھی تنقید کی۔ امریکا میں جو کچھ ہو رہا ہے اس پر پوری دنیا ہنس رہی ہے۔یہ جمہوریت نہیں، محض تباہی ہے

خواجہ آصف عوام سے معافی مانگیں، شعیب صدیقی
- 2 دن قبل
ڈرون حملے میں کارگو جہاز غرق
- 16 گھنٹے قبل
براڈ پیک پربرفانی تودہ گرنے سے لاپتہ کوہ پیماؤں میں سے 8 کی لاشیں مل گئیں، 2 کی تلاش جاری
- 2 دن قبل

سینئرجج جبری ریٹائر، وجہ سامنے آگئی
- 16 گھنٹے قبل
پاکستان اور چین کی دوستی آزمودہ اور وقت کی ہر کسوٹی پر ہمیشہ پوری اتری ہے: چیف آف ڈیفنس فورسز عاصم منیر
- 20 گھنٹے قبل
کپتان کا لاپتا پالتو کتا آخرمل ہی گیا
- 2 دن قبل
لڑاکا طیارہ گر کر تباہ
- 21 گھنٹے قبل
طلبہ کی موجیں: 4 اگست کو تعلیمی ادارے بند رہیں گے
- 20 گھنٹے قبل
بڑی خوشخبری: اہم عرب ملک کی نئی ایئرلائن کا پاکستان کے لیے براہِ راست پروازیں شروع کرنے کا اعلان
- 20 گھنٹے قبل
رکن قومی اسمبلی ملک محمد اقبال چنڑ انتقال کرگئے
- 21 گھنٹے قبل

ایل پی جی مہنگی ہو گئی، فی کلو قیمت جانیے
- 2 دن قبل

کراچی کے مختلف علاقوں میں زلزلہ
- 2 دن قبل



