جی این این سوشل

کھیل

ٹی 20 ورلڈکپ کیلئے 15 رکنی قومی سکواڈ فائنل

پاکستانی سکواڈ میں 5 فاسٹ بائولرز، 4 آل رائونڈرز ، 3 وکٹ کیپرز،2 پیٹرز اور ایک سپنر شامل ہوں گے

پر شائع ہوا

کی طرف سے

ٹی 20 ورلڈکپ کیلئے 15 رکنی قومی سکواڈ فائنل
ٹی 20 ورلڈکپ کیلئے 15 رکنی قومی سکواڈ فائنل

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ کے لئے 15 رکنی سکواڈ کے نام فائنل کر لئے۔

ذرائع کے مطابق پاکستانی سکواڈ میں 5 فاسٹ بائولرز، 4 آل رائونڈرز ، 3 وکٹ کیپرز،2 پیٹرز اور ایک سپنر شامل ہوں گے۔

شاداب خان، صائم ایوب اور عثمان ٹیم میں شامل ہوں گے جبکہ حارث رؤف بھی ورلڈ کپ کے سکواڈ کا حصہ ہوں گے۔

بابر اعظم (کپتان)، فخر زمان، محمد رضوان، اعظم خان، عماد وسیم، افتخار احمد بھی سکواڈ میں شامل ہوں گے ، اسی طرح ابرار احمد، شاہین شاہ آفریدی، محمد عامر، نسیم شاہ، عباس آفریدی بھی پاکستانی سکواڈ کا حصہ ہوں گے جبکہ 3 ٹریول ریزروز میں سلمان علی آغا، حسن علی اور عرفان نیازی شامل ہوں گے۔

پاکستان

حقیقت ہے کہ آئی ایم ایف کیساتھ مل کر بجٹ بنانا پڑا، وزیر اعظم

آئی ایم ایف کا آج جواب آگیا تو کل ایوان میں بتائیں گے، امید ہے خوشخبری ہوگی، شہباز شریف

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

حقیقت ہے کہ آئی ایم ایف کیساتھ مل کر بجٹ بنانا پڑا، وزیر اعظم

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے یہ سچ ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مل کر بجٹ بنانا پڑا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف کا آج جواب آگیا تو کل ایوان میں بتائیں گے، امید ہے خوشخبری ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب کی آبادی کے مقابلے میں بجٹ زیادہ مختص کیا گیا ہے، ہماری حکومت نے جنوبی پنجاب میں باقی پنجاب سے دس فیصد زیادہ لیپ ٹاپ دیئے، جنوبی پنجاب میں وفاقی حکومت کے منصوبے پنجاب نے بنائے، پاکستان ورکس ڈیپارٹمنٹ کے خاتمے کا اعلان ہوچکا ہے۔

شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ پی ڈبلیوڈی میں بندربانٹ ہوتی تھی، پی ڈبلیوڈی محکمےکوختم کرنےکا فیصلہ کرلیا گیا ہے، پاکستان ورکس ڈیپارٹمنٹ میں ناقابل بیان کرپشن ہوتی ہے، وزیر خزانہ کی سربراہی میں ڈاؤن سائزنگ کے لئے کمیٹی بن چکی ہے، اخراجات میں کمی کے حوالے سے نتائج ایوان میں پیش کریں گے۔

آخر میں وزیر اعظم میاں شہبازشریف کا اپنی گفتگو سمیٹتے ہوئے مزید کہنا تھا کہ حکومت اخراجات میں کمی کررہی ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

موسم

مون سون کےپہلے اسپیل کا جلد پاکستان میں داخل ہونے کا امکان

آئندہ 24 گھنٹوں میں بحیرہ عرب اور خلیج بنگال کے راستے مون سون کا اسپیل پاکستان کے مشرقی علاقوں میں داخل ہو گا، محکمہ موسمیات

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

مون سون کےپہلے  اسپیل کا جلد پاکستان میں داخل ہونے کا امکان

مون سون کے اسپیل کا آئندہ 24 گھنٹوں میں پاکستان میں داخل ہونے کا امکان ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں میں بحیرہ عرب اور خلیج بنگال کے راستے مون سون کا اسپیل پاکستان کے مشرقی علاقوں میں داخل ہو گا۔ مون سون کے ممکنہ اسپیل کی بدولت 26 جون تا یکم جولائی تک ملک کے بیشتر حصوں میں بارشوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق 26 جون سے یکم جولائی تک کراچی اور حیدرآباد سمیت سندھ کے اندرونی علاقوں، جبکہ 27 جون تا 30 جون پنجاب کے بالائی اور زیریں علاقوں میں بارشوں کے واضح امکانات ہیں۔ 

محکمہ موسمیات کی جانب سے کہا گیا ہے کہ گزشتہ تین روز سے گرمی کی شدت جاری تھی، لیکن کل سے درجہ حرارت  42 ڈگری پر پہنچا ہے، ہوا میں نمی کا تناسب زیادہ ہونے کی وجہ سے گرمی 4 ڈگری  زیادہ محسوس کی گئی۔ ملک بھر میں سب سے زیادہ درجہ حرارت تربت میں  49 ڈگری جبکہ سبی، نواب شاہ اور دادو میں 47ڈگری سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا گیا۔ 

چیف میٹرولوجسٹ سردار سرفراز کا کہنا ہے کہ مون سون کے اسپیل سے قبل  پنجاب بھر کے میدانی علاقوں میں مزید  تین سے چار روز تک زیادہ  گرمی پڑنے کا امکان ہے۔ بھکر، ڈی جی خان اور رحیم یار خان  سمیت جنوبی پنجاب کے دیگر علاقوں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 48 سے 50 ڈگری تک بڑھ سکتا ہے

پڑھنا جاری رکھیں

علاقائی

کراچی میں لیاقت آباد کے علاقے میں کھدائی کے دوران عمارت گر گئی

کباڑی گلی میں بلڈنگ زمین بوس ہونے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا،ریسکیو حکام

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

کراچی میں لیاقت آباد کے علاقے میں کھدائی کے دوران عمارت گر گئی

کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں عمارت کے نیچے قائم دکان میں کھدائی کے دوران عمارت گرگئی۔واقعہ لیاقت آباد 10 نمبر میں بورے خان سینٹر پر زیر تعمیر عمارت کو حادثہ پیش آیا۔

ریسکیو حکام کے مطابق کباڑی گلی میں بلڈنگ زمین بوس ہونے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، عہدیداروں کے مطابق عمارت کے نیچے قائم دکان میں کھدائی کا کام چل رہا تھا۔

یاد رہے کہ لیاقت آباد 10 نمبر میں گلیاں انتہائی تنگ ہیں اور بیشتر رہائشی عمارتیں کثیرمنزلہ عمارتوں پر مشتمل ہیں۔ ایسے کسی بھی حادثے کی صورت میں امدادی سرگرمیاں جاری رکھنا قدرے مشکل ہوتا ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll