جی این این سوشل

کھیل

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان دوسرا ٹی 20 میچ آج ہو گا

پاکستانی وقت کے مطابق میچ رات ساڑھے 10 بجے شروع ہو گا

پر شائع ہوا

کی طرف سے

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان دوسرا ٹی 20 میچ آج ہو گا
پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان دوسرا ٹی 20 میچ آج ہو گا

پااکستان اور انگلینڈ کے درمیان 4 ٹی 20 میچز کی سیریز کا دوسرا میچ آج کھیلا جائے گا۔ دونوں ٹیموں کے درمیان میچ برمنگھم میں کھیلا جائے گا۔

پاکستانی وقت کے مطابق میچ رات ساڑھے 10 بجے شروع ہو گا۔ ورلڈکپ کی تیاریوں کے سلسلے میں پاکستان اور انگلینڈ بہترین کھیل پیش کرنے کیلئے پرعزم ہیں۔

قومی ٹیم کے ٹاپ آرڈر بیٹر فخر زمان کا کہنا ہے کہ ٹیم تگڑی ہے کسی بھی ٹیم کو ہرانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

یاد رہے کہ سیریز کا پہلا ٹی 20 میچ بارش کی نذر ہوگیا تھا، بارش کی وجہ سے ہیڈنگلے گراؤنڈ میں ٹاس بھی نہ ہو سکا تھا۔

پاکستان

شہید بےنظیر بھٹو کی آج 71ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے

سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی 71 ویں سالگرہ کے موقع پر صوبائی حکومت کے تحت تمام تر ضلعی ہیڈ کوآرٹرز میں تقریبات منعقد ہوں گی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

شہید بےنظیر بھٹو کی آج 71ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے

پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم اور پیپلز پارٹی کی شہید چیئرپرسن بے نظیر بھٹو کی آج 71 ویں سالگرہ منائی جارہی ہے۔

سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی 71 ویں سالگرہ کے موقع پر صوبائی حکومت کے تحت تمام تر ضلعی ہیڈ کوآرٹرز میں تقریبات منعقد ہوں گی۔

تقریبات میں پیپلز پارٹی کی شہید چیئرپرسن بے نظیر بھٹو کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا جبکہ کراچی میں جلسہ بھی منعقد کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو آج لیاری میں کارکنان کے ہمراہ والدہ کی سالگرہ منائیں گے۔

21 جون 1953 کو کراچی میں پیدا ہونے والی بے نظیر بھٹو عالمی اور ملکی سیاست میں اپنے والد ذوالفقار علی بھٹو کی طرح ایک منفرد اور نمایاں مقام رکھنے والی شخصیت تھیں۔

بے نظیر بھٹو نے ریڈ کلف کالج اور ہارورڈ یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم کے بعد آکسفورڈ یونیورسٹی سے سیاسیات، اقتصادیات اور فلسفے میں ڈگریاں حاصل کیں۔

شہید بے نظیر بھٹو اپنے والد شہید ذوالفقار علی بھٹو کی لاڈلی بیٹی ہونے کی وجہ سے بچپن میں ہی اپنے والد کے ساتھ غیرملکی دوروں پر جایا کرتی تھیں۔

1982 میں بے نظیر بھٹو پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن منتخب ہوئیں، جلاوطنی کے بعد وہ 1986 میں پہلی بار جب لاہور پہنچیں تو ان کا تاریخی استقبال ہوا اور انہوں نے ملک بھر کا دورہ کیا۔

1987 میں بے نظیر بھٹو کی شادی آصف علی زرداری سے ہوئی ۔ 1988 میں عام انتخابات کے دوران بے نظیر بھٹو نے تاریخی کامیابی حاصل کر کے پاکستان کی وزیراعظم کی حیثیت سے بھاگ دوڑ سنبھالی ۔

محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کو 7 اگست 1990 میں صدر اسحاق خان نے بدعنوانی اور کرپشن کے الزامات کی وجہ سے برطرف کر دیا جس کے بعد 1993 کے عام انتخابات میں ایک بار پھر پیپلز پارٹی اور بے نظیر ایک مرتبہ پھر وزیراعظم بن گئیں۔

1996 میں پیپلز پارٹی کے ہی صدر فاروق احمد خان لغاری نے بے امنی اور بد عنوانی، کرپشن کے باعث بے نظیر کی حکومت کو پھر سے برطرف کر دیا۔

بعدازاں 19 اکتوبر 2007 میں بے نظیر بھٹو کراچی واپس آئیں جہاں ان کے قافلے پر حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک ہو گئے تاہم حملے میں بے نظیر بھٹو محفوظ رہیں لیکن 27 دسمبر 2007 میں راولپنڈی کے لیاقت باغ میں قاتلانہ حملے میں شہید ہو گئی تھیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

وزیراعظم محمد شہباز شریف سے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی ملاقات

ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال اور صوبے کے مسائل بارے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

وزیراعظم محمد شہباز شریف سے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی ملاقات

وزیراعظم محمد شہباز شریف سے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی ملاقات کی۔

ملاقات کے دوران وزیر اعظم میاں شہبازشریف اور گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ملکی سیاسی صورتحال اور صوبے کے مسائل بارے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا ۔

وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے صوبہ خیبر پختونخوا سے متعلق امور پر بات چیت کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ خیبر پختونخوا کے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے وفاقی حکومت ہر ممکن مدد اور وسائل فراہم کرے گی۔

واضح رہے گزشتہ ماہ 30مئی کو بھی وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے گورنر خیبر پختونخوا کی ملاقات ہوئی تھی اور فیصل کریم کنڈی نے حکومت کی کاروبار و سرمایہ کار دوست پالیسیوں کی بدولت ملک میں بڑھتی ہوئی بیرونی سرمایہ کاری پر وزیر اعظم کو خراجِ تحسین پیش کیا تھا۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

لوڈ شیڈنگ پر عوامی در عمل کہیں قابو سے باہر نہ ہو جائے، علی امین گنڈا پور

وفاقی حکومت اپنے کئے ہوئے وعدے پورے نہیں کر رہی، وزیر اعلیٰ کے پی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

لوڈ شیڈنگ پر عوامی در عمل کہیں قابو سے باہر نہ ہو جائے، علی امین گنڈا پور

وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈا پور نے لوڈشیڈنگ سے متعلق اجلاس کے دوران کہا ہے کہ لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج کسی ایک سیاسی جماعت یا صوبائی حکومت کا نہیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ عوامی رد عمل قابو سے باہر ہو جائے، وفاقی حکومت کو اس سلسلے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

علی امین گنڈا پور کے زیر صدارت اجلاس میں چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹریزاوردیگر نے شرکت کی اور اجلاس میں بجلی لوڈشیڈنگ کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

بریفنگ کے دوران وزیراعلیٰ کے پی کو بتایا گیا کہ گزشتہ مہینےلاسزوالےعلاقوں سے1ارب روپےکی ریکوری ہوئی، صوبے میں پیسکوکی تنصیبات اور عملے کو سکیورٹی فراہم کی گئی ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ عیدالاضحیٰ میں زیرولوڈشیڈنگ وعدے پر عملدرآمد نہ ہوسکا، یکم مئی 2024 سےاب تک لوڈ شیڈنگ کےخلاف 81 مظاہرے ہوئے، اگر صورتحال میں بہتری نہ آئی توسنگین مسائل جنم لینے کا خدشہ ہے۔

اس موقع پر علی امین گنڈاپور نے کہا کہ وفاقی حکومت اپنے کئے ہوئے وعدے پورے نہیں کر رہی، ناروا لوڈشیڈنگ کی وجہ سے صوبے میں لوگوں کی زندگی اجیرن ہوگئی ہےغیراعلانیہ لوڈشیڈنگ سےعوامی رد عمل سخت سے سخت ہوتا جارہا ہے، صوبے میں لاسز کو ختم کرنے کے لئے بھر پور تعاون کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبے میں 12 گھنٹوں سے زیادہ لوڈشیڈنگ کسی صورت قبول نہیں ہوگی۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll