جی این این سوشل

صحت

پنجاب کے ہر شہری کو خوشحال اور صحت مند دیکھنا چاہتے ہیں، وزیراعلیٰ پنجاب

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے فیلڈ ہسپتال اور کلینک آن وہیلز پراجیکٹ پر اظہار اطمینان کیا

پر شائع ہوا

کی طرف سے

پنجاب کے ہر شہری کو خوشحال اور صحت مند دیکھنا چاہتے ہیں، وزیراعلیٰ پنجاب
پنجاب کے ہر شہری کو خوشحال اور صحت مند دیکھنا چاہتے ہیں، وزیراعلیٰ پنجاب

وزیر اعلیٰ مریم نواز نے کہا ہے کہ پنجاب کے ہر شہری کو خوشحال اور صحت مند دیکھنا چاہتے ہیں، ہر سیکٹر میری ترجیح ہے مگر صحت کی سہولتوں کی بہتری پر پوری توجہ ہے، شدید گرمی کے باوجود عوام کو گھر کی دہلیز پر علاج کی سہولتیں مہیا کرنے والے ڈاکٹرز اور سٹاف قابل تحسین ہیں۔

 وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے فیلڈ ہسپتال اور کلینک آن وہیلز پراجیکٹ پر اظہار اطمینان کیا ہے۔

انہوںنے کہا کہ شہروں اور دیہات میں فیلڈ ہسپتال، کلینک آن وہیلز سے روزانہ ہزاروں مریض مستفید ہو رہے، کینسر، ٹی بی اور ہیپاٹائٹس کے مریضوں کو مفت ادویات گھر میں ملنے لگیں۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ فیلڈ ہسپتال اور کلینک آن وہیلز کے ذریعے ہزاروں مریضوں کے علاج کی سروسز خود مانیٹر کر رہی ہوں، ہیلتھ ریفارمز کے ثمرات دیکھ کر عوام کی مزید خدمت کرنے کا جذبہ تقویت پکڑ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جہاں ہیلتھ سہولتوں کا فقدان ہے وہاں سٹیٹ آف دی آرٹ فیسیلٹی پہنچا رہے ہیں، صوبے میں مراکز صحت اور ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن اور ری ویمپنگ جاری ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ صوبے کا پہلا سرکاری کینسر ہسپتال فنکشنل کرنے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں، ہر ضلع میں مکمل کارڈیالوجی اور پیڈز بلاک بنانے کے پراجیکٹ پر کام شروع کر دیا ہے، خدمت کا جذبہ ورثے میں ملا، اپنے عوام کے لئے ہر سہولت چاہتی ہوں۔

علاقائی

سموگ تدارک ، ہائیکورٹ کا دھواں چھوڑنے والی گاڑیاں فوری بند کرنے کا حکم

ہیٹ اسٹروک سے متعلق صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے رپورٹ عدالت میں پیش کر دی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

سموگ تدارک ، ہائیکورٹ کا دھواں چھوڑنے والی گاڑیاں فوری بند کرنے کا حکم

لاہور ہائی کورٹ نے دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کو فوری بند کرنے کا حکم دے دیا۔

سموگ اور ماحولیاتی آلودگی کے تدارک کے لیے دائر درخواستوں پر لاہور ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی۔

لاہور ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ ٹریفک پولیس دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی کرے، جبکہ موٹر وے پولیس فصلوں کی باقیات کو آگ لگانے کے واقعات پر کارروائیاں کریں۔

عدالت کا مزید کہنا تھا کہ موٹر وے کے گرد و نواح میں آگ کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں، وہاں قابو پایا جائے۔

ہیٹ اسٹروک سے متعلق صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے رپورٹ عدالت میں پیش کر دی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہیٹ اسٹروک سے متعلق آگاہی مہم شروع کردی ہے، چولستان میں 20 واٹر بوزر بھیجے دیے ہیں۔

بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ نے دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کو فوری بند کرنے کا حکم دے دیا اور سماعت آئندہ جمعہ تک ملتوی کردی۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

دورانِ عدت نکاح کیس، خاور مانیکا کے وکیل نے سماعت کے بغیر کارروائی ملتوی کرنے کی استدعا مسترد

شکایت دائر کرنے سے قبل خاورمانیکا 5 سال 11 ماہ خاموش رہے، وکیل عمران خان

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

دورانِ عدت نکاح کیس، خاور مانیکا کے وکیل نے سماعت کے بغیر کارروائی ملتوی کرنے کی استدعا مسترد

دورانِ عدت نکاح کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت کے دوران خاور مانیکا کے وکیل نے سماعت کے بغیر کارروائی ملتوی کرنے کی استدعا کر دی۔

اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں عدت میں نکاح کیس میں اپیلوں پر سماعت ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکا کر رہے ہیں۔ اس موقع پر بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ، بشریٰ بی بی کے وکیل عثمان گِل اور خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف عدالت میں پیش ہوئے۔

سماعت کے آغاز میں خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف نے سماعت کے بغیر کارروائی ملتوی کرنے کی استدعا کی۔ جس پر جج افضل مجوکا نے وکیل سے کہا کہ اس کیس کی سماعت ملتوی نہیں ہو سکتی، 25 جون کو مرکزی اپیلوں پر سماعت ہے، تب تک لازمی دلائل فائنل کرنا ہیں۔

بعد ازاں جج افضل مجوکا نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکیل سے استفسار کیا کہ دو سوالوں کے جواب دے دیں، اس کیس میں سزا مختصر نہیں ہے ، اس لیے مختصر دورانیے کی سزا سے متعلق عدالت کی معاونت کریں، سپریم کورٹ کی دو ججمنٹس ہیں ان میں سے ایک آپ کے حق میں ہے اور ایک آپ کے خلاف تو آپ کس ججمنٹ کو فالو کریں گے ؟

اس پر عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ہماری مخالفت میں کوئی بھی ججمنٹ موجود نہیں ہے، جج افضل مجوکا کا کہنا تھا کہ آپ کے خلاف ایک ججمنٹ موجود ہے، وکیل نے بتایا کہ جو اعلیٰ عدلیہ سے بعد میں فیصلہ آیا اس پر عدالت عمل کرے گی، 1985 کی آئینی ترمیم کے بعد صورتحال تبدیل ہوگئی ہے۔

وکیل سلمان اکرم راجا نے اپنے دلائل جاری کرتے ہوئے بتایا کہ شریعت کورٹ کے دائرہ اختیار میں دیا گیا فیصلہ فائنل اتھارٹی ہے ، شریعت کورٹ کے قیام سے پہلے کے فیصلوں کا حوالہ نہیں دیا جاسکتا ، یہ نہیں ہوسکتا کہ تقی عثمانی نے فیصلہ لکھا ہے تو اسے سائڈ پر رکھ دیں ، اسلام میں ایک اصول ہے کہ عورت کی ذاتی زندگی میں نہیں جھانکنا، خاتون کے بیان کو حتمی مانا جائے گا، عدت کے 39 دن گزر گئے تو اس کے بعد میں ہم نہیں جھانکیں گے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے میں عورت پر کوئی بھی ذمہ داری نہیں ڈالی گئی ، اعلیٰ عدلیہ نے سارا قصور پراسیکیوشن پر ڈالا کہ انہوں نے عورت کا بیان نہیں لیا، عدالت نے اس بنیاد پر مقدمہ خارج کردیا تھا کہ عدت کے 39 دن گزر گئے۔

اس پر جج افضل مجوکا نے کہا کہ اس عدالت کی جانب سے سپریم کورٹ کا فیصلہ غلط نہیں کہا جا سکتا ہے، وکیل عمران خان کا کہنا تھا کہ مسلم فیملی لاء میں عدت کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا ، چیئرمین یونین کونسل کو طلاق کا نوٹس جانے کے بعد 90 دن گزرنے چاہئیں ، اس کیس میں ہر کوئی مان رہا کہ طلاق تو بہرحال ہوگئی ہے، عدت کا تصور شرعی ہے۔

وکیل سلمان اکرم راجا نے بتایا کہ فراڈ کون کررہا ہے؟ کس کے ساتھ کررہا؟ دو فریقین موجود ہیں جن میں سے ایک فراڈ ہوگا، جج افضل مجوکا نے دریافت کیا کہ 496 بی میں تو سزا نہیں ہوئی؟

سلمان اکرم راجا نے بتایا کہ 496بی ختم کردیا گیا تھا، سزا کی بات نہیں، فردجرم بھی 496 بی میں عائد نہیں ہوا، 496 بی میں دو گواہان ہونے لازم ہیں جو سامنے نہیں آئے، خاور مانیکا کے مطابق 14 نومبر 2017 میں تین بار تحریری طلاق دی گئی، ہمارے مطابق اپریل 2017 میں بشریٰ بی بی، خاور مانیکا کی طلاق ہوئی، بشریٰ بی بی طلاق کے بعد اپنی والدہ کے گھر چلی گئیں، چار ماہ وہاں رہیں، بشریٰ بی بی کو دوران ٹرائل اپنا مؤقف سامنے نہیں رکھنے دیا گیا۔

عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ پورا مقدمہ شادی کے ایونٹ پر بنایا گیا ہے، اگر سیکشن 7 کی خلاف ورزی ہوتی بھی تب بھی کرمنل کیس نہیں چلایا جا سکتا ہے، جب چیئرمین یونین کونسل کو نوٹس نہیں ہوا تو طلاق کا آئیڈیا نہیں لگایا جا سکتا کہ کب ہوئی، ان کے مطابق 14 نومبر 2017 کو ہوئی اور ہمارا مؤقف ہے کہ طلاق اپریل 2017 کو ہوئی، ایک لمحے کے لیے کہانی 14 نومبر سے شروع کر لیتے ہیں ، 14 نومبر کو اگر دی ہے طلاق تو 90 دن والا تعلق ختم ہوتا ہے کیونکہ چیئرمین یونین کونسل کو نوٹس نہیں ہوئے، فیملی لا کے سیکشن 7 میں عدت کا کوئی ذکر نہیں ہے ، سپریم کورٹ نے 90 دنوں کا شادی سے تعلق ختم کردیا، نوٹس کا جواز ہی نہیں، عدالت نے دیکھنا ہے اسلامی شریعت عدت کے حوالے سے کیا کہتی ہے؟ شہنشاہ عالمگیر کے دور کے فتوے کو شریعت عدالت نے اپنا حصہ بنایا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اگر مرکزی اپیل پر فیصلہ کرنا ہو تو سزا معطلی پر فیصلہ نہ بھی کریں تو مسئلہ نہیں ہوتا، اس کیس میں ہائی کورٹ نے ڈائریکشن دی ہے کہ سزا معطلی اور مرکزی اپیلوں پر ٹائم فریم کے مطابق فیصلہ دینا ہے، شوہر کی وفات کے بعد عورت کو وراثت کی محرومی سے بچانے کے لیے عدالت نے عدت کا دورانیہ 90 دن ثابت کرنے کا فیصلہ کیا۔

سلمان اکرم راجا ایڈووکیٹ نے دلائل دیئے کہ قانون کا مقصد عورت کو سہارا دینا ہے، میں سزا معطلی کے ساتھ ساتھ اپیل پر بھی معاونت کرنا چاہوں گا، مجھے معلوم ہے آئندہ پندرہ روز میں عدالت نے سزا معطلی کی اپیل پر فیصلہ کرناہے۔بعد ازاں سلمان اکرم راجا نے مفتی سعید کے انٹرویو کی کاپی بذریعہ یو ایس بی عدالت میں جمع کروا دی۔

وکیل نے کہا کہ مفتی سعید نے اقرار کیا کہ نجی نیوز چینل کو انٹرویو دیا، یکم فروری کو گواہی شروع ہوئی، دو فروری کو ٹرائل کورٹ نے فیصلہ سنادیا۔

جج افضل مجوکا نے حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ 2 روز میں فیصلہ دے دیا؟ وکیل نے بتایا کہ ہم 14، 14 گھنٹے دو روز کھڑے رہے، ٹرائل کورٹ نے کہا آج ہی سب کریں، ٹرائل کورٹ نے کہا گواہ، دلائل، سب آج کریں، فیصلہ سنانا ہے، رات 12 بجے تک اڈیالہ جیل میں کھڑے رہے، ٹرائل کورٹ کا اعلان جنگ تھاکہ 3 فروری کو ہی فیصلہ سنانا ہے۔

وکیل سلمان اکرم راجا نے بتایا کہ آپ نے کبھی کسی وکیل کو کہا ہےکہ رات 11 بجے دلائل دیں؟

اس کے بعد خاور مانیکا کا انٹرویو کو کمرہ عدالت میں چلایا گیا۔عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ انٹرویو میں اینکر نے بھی سابقہ کا لفظ استعمال کیا، خاور مانیکا نے بھی سابقہ اہلیہ کہا، ٹرائل کورٹ میں خاورمانیکا نے جھوٹ بولاکہ انٹرویو دیتے وقت بشریٰ بی بی سابقہ اہلیہ نہیں تھیں، خاورمانیکا ایک جھوٹا شخص ہے، عدالت میں جھوٹ بولا۔

اس پر وکیل شکایت کنندہ زاہد آصف چوہدری نے کہا کہ خاورمانیکا کے ساتھ ذاتیات پر نہ اتریں، خاورمانیکا کہیں جھوٹے ثابت نہیں ہوئے ہیں۔

وکیل عمران خان نے بتایا کہ خاورمانیکا نے انٹرویو میں بانی پی ٹی آئی کو دعائیں دیں اور کہا روحانی تعلق تھا، شکایت دائر کرنے سے قبل خاورمانیکا 5 سال 11 ماہ خاموش رہے، خاور مانیکا کو گرفتار کیا گیا، 4 ماہ جیل رہے، 14 نومبر کو جیل سے باہر آئے، 25 نومبر کو شکایت دائر کی، جو لوگ چِلے پر جاتے ہیں ہمیں معلوم ہے ان کے ساتھ کیا ہوتا ہے، میں مفتی سعید کا جھوٹ بھی عدالت کے سامنے لانا چاہتا ہوں، مفتی سعید کے لیے میرے پاس جھوٹ کے علاوہ اور کوئی شائستہ لفظ نہیں۔

بعد ازاں بشریٰ بی بی کے وکیل عثمان گل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ میں نے اڈیالہ جیل جانا ہے، سماعت سوموار تک ملتوی کرنی ہے تو میں سوموار کو دلائل دوں گا، آج سلمان اکرم راجا اپنے دلائل دے رہے ہیں۔

اس پر جج نے ریمارکس دیے کہ سوموار کو سماعت کرنا ممکن نہیں ہے، منگل کو سماعت کریں گے۔

 

پڑھنا جاری رکھیں

دنیا

منشیات کی ترویج کا الزام، سعودی عرب میں 2 پاکستانی گرفتار

ملزمان کے قبضے سے 26 کلو گرام منشیات برآمد کر لی گئی، قانونی کارروائی کا آغاز

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

منشیات کی ترویج کا الزام، سعودی عرب میں 2 پاکستانی گرفتار

سعودی عرب میں انسداد منشیات حکام نے دارالحکومت ریاض سے 2پاکستانی باشندوں کو منشیات کی ترویج کےالزام میں گرفتار کرکے ان کے قبضے سے 26 کلو گرام منشیات برآمد کی گئی ہیں۔

جنرل ڈائریکٹوریٹ آف نارکوٹکس کنٹرول نے ریاض کے علاقے میں پاکستانی شہریت کے حامل دو باشندوں کو 26 کلو گرام منشیات میتھم فیٹامائن (شبو) کی ترویج پر گرفتار کیا ان کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی اور انہیں پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کر دیا گیا۔

سعودی عرب کے ادارہ برائے انسداد منشیات نے شہریوں پر غیرملکی تارکین وطن پر زور دیا ہے کہ وہ منشیات کے دھندے میں ملوث عناصر یا کسی غیر قانونی سرگرمی کی نشاندہی پر مکہ مکرمہ، ریاض، اور الشرقیہ کے علاقوں میں 911ہیلپ لائن اور ملک کے دیگر علاقوں میں 999 اور 996 پر مجاز حکام کو اطلاع دیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll