جی این این سوشل

دنیا

امریکا کا فلسطینی عوام کیلئے 40 کروڑ 4 لاکھ ڈالر کی امداد کااعلان

امریکا کا کہنا ہے کہ سنگین انسانی حالات کے جواب میں غزہ اور اس کے آس پاس کے علاقے میں فلسطینی شہریوں کو اضافی انسانی امداد فراہم کررہے ہیں

پر شائع ہوا

کی طرف سے

امریکا کا فلسطینی عوام کیلئے 40 کروڑ 4 لاکھ ڈالر کی امداد کااعلان
امریکا کا فلسطینی عوام کیلئے 40 کروڑ 4 لاکھ ڈالر کی امداد کااعلان

امریکا نے فلسطین کی انسانی حقوق کی تنظیموں کو 40 کروڑ چار لاکھ ڈالرامداد دینے کا اعلان کیاہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق اردن، مصر اور اقوام متحدہ کے اشتراک سے اردن میں غزہ میں امداد کی ترسیل بہتر بنانے کے لئے ایک کانفرنس منعقد ہو رہی ہے جس میں امریکانے 40 کروڑ چار لاکھ ڈالر کی اضافی امداد کا اعلان کیا ہے۔

امریکا کا کہنا ہے کہ سنگین انسانی حالات کے جواب میں غزہ اور اس کے آس پاس کے علاقے میں فلسطینی شہریوں کو اضافی انسانی امداد فراہم کررہے ہیں۔

وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نےاردن کی میزبانی میں انسانی امداد کی کانفرنس میں کہا کہ وہ فلسطینیوں کے لیے اضافی 404 ملین ڈالر کی نئی امداد کا اعلان کر رہے ہیں ، جو 1.8 ارب ڈالر سے زیادہ کی ترقیاتی، اقتصادی اور انسانی امداد کے علاوہ ہے جو امریکا نے 2021 سے فراہم کی ہے۔

اس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اردن کے شاہ عبداللہ نے کہا کہ غزہ میں فلسطینیوں کے لئے انسانی امداد فراہم کرنا ہماری انسانیت اور خلوص کا امتحان ہے۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم غزہ کو نظر انداز نہیں کر سکتے، اس سے ہاتھ نہیں اٹھا سکتے، وہ ہر ایک کی ترجیح ہونی چاہئیے کیونکہ تاریخ ہماری اسوقت کی کارکردگی کی بنیاد پر ہی ہمارے مقام کا تعین کرے گی۔

کانفرنس سے اپنے خطاب میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا اس وقت غزہ کے لئے انسانی امداد لے جانے والے تمام راستے استعمال کئے جانے چاہئیں اور انہوں زور دے کر کہا کہ تمام زمینی راستے قطعی نازک اہمیت کے حامل ہیں۔

پاکستان

عدت نکاح کیس، عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

فیصلہ 27 جون کو سنایا جائے گا جبکہ کیس میں سزا کے خلاف مرکزی اپیلوں پر سماعت 2 جولائی تک ملتوی کردی گئی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

عدت نکاح کیس، عمران خان اور بشریٰ بی بی کی  سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی عدت نکاح کیس میں سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ ،27 جون کو سنایا جائے گا جبکہ کیس میں سزا کے خلاف مرکزی اپیلوں پر سماعت 2 جولائی تک ملتوی کردی گئی۔

اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس کے جج افضل مجوکا نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی عدت میں نکاح کیس میں سزا  معطلی اورمرکزی ایپلوں پرسماعت کی جس سلسلے میں خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف نے دلائل دیئے۔

زاہد آصف نے سزا معطلی کی درخواست کی مخالفت کر تے ہوئے کہا کہ عدالت نے دیکھنا ہے کہ اپیل کنندگان کا کیس سزا معطلی کا ہے یا نہیں، اپیل کنندہ کے وکلا نے خاور مانیکا کیلئےجھوٹا شخص کے الفاظ استعمال کیے، عدالت نے دیکھنا ہے کہ مفتی سعید، خاورمانیکا، عمران خان اور بشری بی بی میں سے جھوٹا کون ہے؟

وکیل نے کہا کہ جو انٹرویو چلایا گیا ہے اس کے حقائق توڑ موڑ کر پیش کیے گئے، خاور مانیکا کے بیٹے نے اسی انٹرویو میں کہا بانی پی ٹی آئی کا نکاح بشریٰ بی بی سے نہیں ہوا،یہ جھوٹا الزام ہے۔

دوران سماعت جج افضل مجوکا نے خاور مانیکا کے وکیل سے کہا کہ اپیل کنندگان کہتے ہیں چلہ کروایا گیا جس کے بعد شکایت دائر ہوئی اس پر بتائیں، بدنیتی کا تعلق حالات و واقعات سے ہوتا ہے، کیا گرفتاری کے بعد ایسے حالات نہیں تھے؟ اس پر وکیل نے جواب دیا کہ جی نہیں ایسے حالات نہیں تھے ایک تحقیقاتی ادارے کی جانب سے تفتیش کے لیے گرفتار کیا گیا تھا۔

جج نے سوال کیا جب شکایت واپس لی گئی تو کیس بریت کا بنتا ہے جج صاحب نے کیا لکھا؟ کیا جو پہلے والی شکایت واپس لی گئی تو چارج فریم ہوا تھا کہ نہیں، اور اس کیس میں فراڈ کیا ہوا یہ بتائیں؟ کیا کوئی پریشر یا دھمکی تھی کہ خاور مانیکا اگر شکایت درج کریں گے تو نتائج ہوں گے؟

اس پر وکیل زاہد آصف نے کہا کہ میں نے وہ فیصلہ نہیں پڑھا مگر اس کی ضرورت نہیں تھی، دھرنا اور بانی پی ٹی آئی کے وزیراعظم بننے کے حالات سامنے ہیں، کیا ایک عام آدمی جو ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہا ہو وہ وزیراعظم سے ٹکر لے سکتا ہے؟

عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے اپنے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے بتایا کہ میں سزا معطلی کی درخواست پر 7 منٹ دلائل دوں گا، شکایت کنندہ کو اس سے کم وقت میں بھی دلائل دینے چاہیے، آج مرکزی اپیل اور سزا معطلی کی اپیل زیر سماعت ہے، میری ذمہ داری عدالت کو بتانا ہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کون ہیں؟

ان کا کہنا تھا کہ ان اپیلوں پر پہلے 15 سے زائد سماعتیں 3 ماہ میں ہوچکی ہیں، اس کیس میں کبھی شکایت کنندہ اور کبھی پراسیکیوشن نے کہا کیس پڑھنا ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کیس میں کچھ نہیں، مجھے اس بات کا اندازہ ہے کہ سزا معطلی کی درخواست پر دلائل کیسے دیتے ہیں۔

اس موقع پر وکیل زاہد آصف کا کہنا تھا کہ سلمان صفدر ایک قابل وکیل ہیں اور ہر جگہ ان کی تعریف کی۔

بعد ازاں سلمان صفدر نے کہا کہ اپیل کنندہ سابق وزیراعظم کی اہلیہ ہیں، الیکشن سے قبل عمران خان کو سزا سنائی گئی، عمران خان کے خلاف بے شمار کیسز بنائے گئے ہیں، عمران خان کے کیسز سے میں نے بہت کچھ سیکھا، ایسی یونیک پراسیکیوشن میں نے آج تک نہیں کی، متعدد کیسز عدالتوں نے اڑا دیئے، سائفر کیس ،توشہ خانہ کیس ،پھر نکاح کیس میں سزا دی گئی جیسے سینما کی اسکرین کا ٹائم، مجھے اس کیس کے شکایت کنندہ سے بھی ہمدردی ہے، سائفر کیس ہائیکورٹ میں زیر سماعت تھا تو عدالت نے کہا مرکزی اپیل سنیں یا سزا معطلی کی، میں نے کہا مرکزی اپیل ورنہ میرے لیے آسان تھا سزا معطلی پر دلائل دیتا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سائفر کیس کا ابھی تفصیلی فیصلہ نہیں آیا مگر اپیل دائر کردی گئی، ٹرائل میں ہمارے وکلا کو باہر نکالا گیا، دیر تک سماعتیں چلیں، ہائی کورٹ کے لیے آسان تھا کیس ریمانڈ بیک کرنا مگر نہیں ہوا، میرٹ پر فیصلہ ہوا، سائفر کے پاس توشہ خانہ کیس سامنے آیا، اس کیس میں بھی دوسرے طرف کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواست پر اعتراض نہیں کیا، مجھے امید ہے آج بھی دوسری طرف کے وکیل یہی کریں گے، سیشن جج شاہ رخ ارجمند کے پاس بھی مرکزی اپیلیں اور سزا معطلی کی درخواستیں آئی، جب فیصلہ آنا تھا تو ریفرنس بن جاتا ہے اس کے بعد کیس آپ کے پاس آتا ہے

بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل دیے کہ مجھے نہیں معلوم عدالت نے کیا فیصلہ کرنا ہے مگر جو بھی فیصلہ آیا میں سن کر چلا جاؤں گا، مجھے اختلاف ہوگا تو میں اپیل میں چلا جاوں گا، سلمان اکرم راجا نے ٹھیک کہا تھا کہ میں اس کیس میں پیش ہوتا رہا مجھے فیصلہ چاہیے، اگر اپیلیں ڈسٹرکٹ کورٹس میں زیر سماعت ہوں تب بھی ہائی کورٹ کے پاس سزا معطلی کے اختیارات ہیں، میری کوشش تھی بشریٰ بی بی عید سے پہلے گھر آجاتیں ، سلمان اکرم راجا صاحب کا کہنا تھا کہ وہی جج فیصلہ کریں جنہوں نے کیس سنا۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے عمران خان کے وکیل نے بتایا کہ جب ہم اسلام آباد ہائی کورٹ میں گئے تو ایک ایک چیز بتائی گئی، اسلام آباد ہائیکورٹ مکمل طور پر آگاہ ہے کہ نیچے کیا چل رہا ہے، شکایت کنندہ بار بار تاخیری حربے استعمال کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے 10 روز میں سزا معطلی اور 30 دن میں مرکزی اپیلوں پر فیصلے کا کہا ہوا ہے، جب سزا دینی ہو تب فٹا فٹ اور اپیل پر دھیرے دھیرے؟

بعد ازاں جج افضل مجوکا نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا جو  27 جون کو دن 3 بجے سنایا جائے گا۔ 

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

عزم استحکام کے حوالے سے وزیراعظم آفس کا وضاختی بیان

عزم استحکام کو غلط سمجھا جا رہا ہے اور اس کا موازنہ گزشتہ مسلح آپریشنز جیسے ضرب عضب اور راہ نجات وغیرہ سے کیا جا رہا ہے، وزیر اعظم آفس

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

عزم استحکام کے حوالے سے وزیراعظم آفس کا وضاختی بیان

عزم استحکام کے حوالے سے وزیراعظم آفس کی جانب سے وضاختی بیان جاری کر دیا گیا۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ عزم استحکام کو غلط سمجھا جا رہا ہے اور اس کا موازنہ گزشتہ مسلح آپریشنز جیسے ضرب عضب اور راہ نجات وغیرہ سے کیا جا رہا ہے، عزم استحکام کا مقصد نظرثانی شدہ قومی ایکشن پلان کے جاری نفاذ میں ایک نئی روح اور جذبہ پیدا کرنا ہے۔

عزم استحکام پاکستان میں پائیدار امن و استحکام کیلئے ایک کثیر جہتی، مختلف سکیورٹی اداروں کے تعاون اور پورے ریاستی نظام کا مجموعی قومی ویژن ہے۔ایسا آپریشن زیر غور نہیں جس میں آبادی کی نقل مکانی ہو۔ عزم استحکام پر غیر ضروری بحث کو ختم کرنا چاہیے۔

اعلامیہ کےمطابق ملک کے پائیدار امن و استحکام کے لیے حال ہی میں اعلان کردہ وژن جس کا نام عزم استحکام رکھا گیا ہے، گزشتہ مسلح آپریشنز میں ایسے معلوم مقامات جو نوگو علاقے بننے کے ساتھ ساتھ ریاست کی رٹ کو چیلنج کر رہے تھےسے دہشت گردوں کو ہٹا کر انہیں جہنم واصل کیا گیا۔ان کارروائیوں کے لیے مقامی آبادی کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی اور متاثرہ علاقوں سےدہشتگردی کی عفریت کی مکمل صفائی کی ضرورت تھی۔

اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس وقت ملک میں ایسے کوئی نوگو ایریاز نہیں ہیں ،دہشت گرد اداروں کی پاکستان کے اندر بڑے پیمانے پر منظم کارروائیاں کرنے یا انجام دینے کی صلاحیت کو گزشتہ مسلح آپریشنز سے فیصلہ کن طور پر شکست دی جا چکی ہے۔ آپریشن کا مقصد پہلے سے جاری کارروائیوں کو مزید متحرک کرنا ہے۔ جاری کارروائیوں کے ساتھ سیاسی ، سفارتی اور قانونی پہلو شامل ہوں گے۔

پڑھنا جاری رکھیں

کھیل

ڈیوڈ وارنر کا انٹرنیشنل کرکٹ کے تمام فارمیٹ سے ریٹائر

کرکٹ آسٹریلیا نے ڈیوڈ وارنر کی ریٹائرمنٹ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ڈیوڈ وارنر کا 15 سالہ انٹرنینشل کیرئیر اختتام کو پہنچ گیا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

ڈیوڈ وارنر کا انٹرنیشنل کرکٹ کے تمام فارمیٹ سے ریٹائر

آسٹریلیا کے ورلڈکپ سے باہر ہونے کے بعدآسٹریلوی بیٹر ڈیوڈ وارنر انٹرنیشنل  کرکٹ کے تمام فارمیٹ سے ریٹائر ہوگئے۔

کرکٹ آسٹریلیا نے ڈیوڈ وارنر کی ریٹائرمنٹ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ڈیوڈ وارنر کا 15 سالہ انٹرنینشل کیرئیر اختتام کو پہنچ گیا۔

ٹی 20ورلڈکپ سے باہر ہونے کے بعد بھارت کے خلاف میچ ڈیوڈ وارنر کا آخری میچ ثابت ہوا، وارنر نے ٹی 20ورلڈکپ کےبعد انٹرنینشل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا عندیہ دیا تھا۔

یاد رہے کہ ون ڈے کرکٹ ورلڈکپ کا فائنل ڈیوڈ وارنر کے ایک روزہ کیرئیر کا آخری میچ تھا، ڈیوڈ وارنر نے جنوری میں پاکستان کےخلاف کیرئیر کا آخری ٹیسٹ میچ کھیلا تھا۔

آسٹریلوی بیٹر ڈیوڈ وارنر نے 110 ٹی ٹوئنٹی میچز، 161 ون ڈے کرکٹ اور 112 ٹیسٹ میچز میں ملک کی نمائندگی کی۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll