جی این این سوشل

کھیل

ٹی 20 ورلڈ کپ: سری لنکا نے نیدر لینڈ کو 83 رنز سے ہرا دیا

نیدرلینڈز نے سری لنکا کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا تھا جس پر سری لنکا کی ٹیم نے مقررہ اوورز میں 6 وکٹ پر 201 رنز بنائے

پر شائع ہوا

کی طرف سے

ٹی 20 ورلڈ کپ: سری لنکا نے نیدر لینڈ کو 83 رنز سے ہرا دیا
ٹی 20 ورلڈ کپ: سری لنکا نے نیدر لینڈ کو 83 رنز سے ہرا دیا

آئی سی سی ٹی 20ورلڈ کپ کے گروپ میچ میں سری لنکا نے نیدرلینڈز کو 83 رنز سے ہرا دیا۔

نیدرلینڈز نے سری لنکا کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا تھا جس پر سری لنکا کی ٹیم نے مقررہ اوورز میں 6 وکٹ پر 201 رنز بنائے۔

بعدازاں ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے نیدرلینڈز کی ٹیم 16.4 اوورز میں 118 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔

سری لنکا پہلے ہی ٹورنامنٹ سے باہر ہوچکا ہے اور اس کے لیے آج کا میچ محض رسمی کارروائی تھا۔

یاد رہے کہ اس گروپ سے جنوبی افریقا اور بنگلادیش نے اگلے مرحلے کے لیے کوالیفائی کرلیا ہے۔

پاکستان

توشہ خانہ کیس، عمران خان اور بشریٰ بی بی کا گرفتاری کے خلاف عدالت سے رجوع

بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو سیاسی انتقام کے لیے جعلی مقدمات میں بغیر جواز گرفتار کیا گیا، موقف

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

توشہ خانہ کیس، عمران خان اور بشریٰ بی بی کا  گرفتاری کے خلاف عدالت سے رجوع

بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی نے توشہ خانہ کیس میں گرفتاری کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔ بیرسٹر سلمان صفدر اور خالد یوسف چوہدری کے ذریعے درخواست دائر کی گئی ہے۔

درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو سیاسی انتقام کے لیے جعلی مقدمات میں بغیر جواز گرفتار کیا گیا، سیاسی مخالف وفاقی اور پنجاب حکومت بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو زیر حراست رکھنا چاہتے ہیں۔

دونوں ملزمان کو طلبی کے نوٹسز کے خلاف درخواستیں زیر سماعت ہونے کے دوران گرفتار کیا گیا، اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست زیر سماعت ہونے کے دوران گرفتاری بدنیتی کا ثبوت ہے۔

درخواست گزاروں کے مطابق سیاسی مخالفین نیب کو مسلسل سیاسی انتقام کے لیے استعمال کر رہے ہیں، اعلیٰ عدالتیں اپنے فیصلوں میں زور دے چکیں کہ محض مقدمہ درج ہونے پر گرفتار نہیں کیا جا سکتا۔

استدعا کی گئی کہ گرفتاری غیر قانونی ہے رہا کرنے کے احکامات کیے جائیں اور آئندہ کسی بھی مقدمے میں گرفتاری ہائیکورٹ کے احکامات سے مشروط کی جائے۔
 

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

جسٹس (ر) مقبول باقر نے بھی ایڈہاک جج بننے سے معذرت کرلی

ذاتی مصروفیات کی وجہ سے ایڈہاک جج کا عہدہ قبول نہیں کرسکتا، مقبول باقر

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

جسٹس (ر) مقبول باقر نے بھی ایڈہاک جج بننے سے معذرت کرلی

سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مشیر عالم کے بعد جسٹس (ر) مقبول باقر نے بھی ایڈہاک جج بننے سے معذرت کرلی۔

سابق نگران وزیراعلیٰ سندھ جسٹس (ر) مقبول باقر کا کہنا تھا کہ ذاتی مصروفیات کی وجہ سے ایڈہاک جج کا عہدہ قبول نہیں کرسکتا۔ ایڈہاک جج بننا قانونی عمل ہے اس میں کوئی عیب نہیں۔

واضح رہے کہ 16 جولائی کو سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مشیر عالم نے ایڈہاک جج بننے سے معذرت کرلی، اپنے فیصلے سے جوڈیشل کمیشن کو خط لکھ کر آگاہ کردیا۔

سابق جسٹس مشیر عالم نے جوڈیشل کمیشن کے نام خط میں لکھا تھا کہ اللہ نے انھیں ان کی حیثیت سے زیادہ عزت دی ہے، ایڈہاک جج کی نامزدگی کے بعد سوشل میڈیا پر جو مہم شروع کی گئی، اس سے شدید مایوسی ہوئی ہے۔ وہ موجودہ حالات میں بطور ایڈہاک جج کام کرنے سے معذرت چاہتے ہیں۔

چیف جسٹس نے ایڈہاک ججز کی تقرری کے لیے 4 ریٹائرڈ ججز کے نام تجویز کیے تھے، ان ججز میں جسٹس ریٹائرڈ مشیر عالم کا نام بھی شامل تھا، دیگر ججز میں جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر ، جسٹس ریٹائرڈ مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس ریٹائرڈ طارق مسعود کے نام شامل ہیں۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ میں ایڈہاک ججز کی تقرری کے لیے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 19 جولائی کو طلب کر رکھا ہے۔

 

پڑھنا جاری رکھیں

دنیا

فلسطینی ریاست کے قیام کے خلاف اسرائیلی پارلیمنٹ میں قرارداد منظور

قرارداد میں فلسطینی ریاست کے قیام کےخلاف 68 اراکین پارلیمنٹ نے ووٹ دیا جب کہ  9 اراکین نے قرار داد کی مخالفت کی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

فلسطینی ریاست کے قیام کے خلاف اسرائیلی پارلیمنٹ میں قرارداد منظور

اسرائیلی پارلیمنٹ کینسیٹ نے فلسطینی ریاست کے قیام کو مسترد کردیا۔

اسرائیلی پارلیمنٹ نے مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے دو ریاستی منصوبے کےخلاف قراردار منظور کی اور اسرائیل کی تاریخ میں پہلی بار پارلیمنٹ نے ایسی قرارداد منظور کی ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق قرارداد میں فلسطینی ریاست کے قیام کےخلاف 68 اراکین پارلیمنٹ نے ووٹ دیا جب کہ  9 اراکین نے قرار داد کی مخالفت کی، اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائرلپید کی پارٹی نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

کینسیٹ کی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی ریاست اسرائیل کے وجود اور اسرائیلی شہریوں کے لیے خطرے کےطور پر رہے گی۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق قرارداد سے اسرائیلی اور عرب ممالک میں امن کے لیے سفارتی کوششوں کا دھچکا لگا ہے۔ 

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll