جی این این سوشل

علاقائی

مریم نواز سے سپین کے سفیر کی ملاقات، مختلف امور پر تبادلہ خیال

ہسپانوی سفیر نے پنجاب میں مضبوط اقتصادی شراکت داری کو فروغ دینے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا

پر شائع ہوا

کی طرف سے

مریم نواز سے سپین کے سفیر کی ملاقات، مختلف امور پر تبادلہ خیال
مریم نواز سے سپین کے سفیر کی ملاقات، مختلف امور پر تبادلہ خیال

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے سپین کے سفیر ہوزے انتونیو ڈی اوری (Josè Antonio de Ory) اور اعزازی قونصل برائے اسپین جلال صلاح الدین نے ملاقات کی، اس موقع پر پنجاب اور سپین کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، ثقافت اور سیاحت کے فروغ پر تبادلہ خیال ہوا۔

ملاقات کے دوران باہمی تعلقات کو مضبوط بنانے کی مشترکہ کاوشوں کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا، انفراسٹرکچر، قابل تجدید توانائی، لائیو سٹاک اور زراعت میں سرمایہ کاری کے امکانات پر بھی غور کیا گیا۔

وزیراعلیٰ مریم نواز نے کاروبار کی ترقی کیلئے سرمایہ کاروں کو سازگار ماحول فراہم کرنے کے حوالے سے پائیدار حکومتی اقدامات سے آگاہ کیا۔

ہسپانوی سفیر نے پنجاب میں مضبوط اقتصادی شراکت داری کو فروغ دینے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا کہ پاکستان اور سپین کے تجارتی حجم میں اضافے کا رجحان خوش آئند ہے۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ سپین کی بزنس کمیونٹی کیلئے ٹیکسٹائل، فوڈ پراسیسنگ، زراعت اور لائیو سٹاک میں سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں، غیر ملکی سرمایہ کاروں کو محفوظ سرمایہ کاری کیلئے بہترین ماحول فراہم کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سپین کے تجارتی حجم میں اضافے کا رجحان خوش آئند ہے، پنجاب حکومت سپین کے ساتھ سرمایہ کاری اور تجارتی حجم میں مزید اضافے کی خواہشمند ہے۔

پاکستان

وفاقی حکومت نے پیکا ایکٹ کے تحت ٹرائل کیلیے اسلام آباد میں خصوصی عدالتیں تشکیل دے دیں

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز، سول جج ایسٹ اینڈ ویسٹ کو ٹرائل کا اختیار دیا گیا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

وفاقی حکومت نے پیکا ایکٹ کے تحت ٹرائل کیلیے اسلام آباد میں خصوصی عدالتیں تشکیل دے دیں

وفاقی حکومت نے پیکا ایکٹ کے تحت ٹرائل کیلیے اسلام آباد میں خصوصی عدالتیں تشکیل دے دیں۔ 

پیکا ایکٹ کے ملزمان کا تحت ٹرائل کے معاملے پر بڑی پیشرفت اُس وقت سامنے آئی جب وفاقی حکومت نے پیکا ایکٹ کے تحت ٹرائل کیلئے اسلام آباد میں خصوصی عدالتیں تشکیل دیدی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکرٹری اطلاعات پی ٹی آئی روف حسن اور دیگر کا ٹرائل پیکا ایکٹ کے نئی قائم عدالتوں میں ہونے کا امکان ہے۔

عدالتوں کی تشکیل کے بعد ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز، سول جج ایسٹ اینڈ ویسٹ کو ٹرائل کا اختیار دے دیا گیا ہے، دیگر صوبوں میں متعلقہ ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کی مشاورت سے ججز نامزد ہوں گے۔دوسری جانب وزارت قانون نے وضاحت کی ہے کہ جسٹس بابر ستار کے حکم کی روشنی میں پیکا ایکٹ ملزمان کے ٹرائل کیلئے عدالتیں تشکیل دی گئیں ہیں، جسٹس بابر ستار نے 6 جون 2024 کو وفاقی حکومت سے پیکا ایکٹ کے تحت عدالتوں کے عدم قیام پر جواب مانگا تھا۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز، سول جج ایسٹ اینڈ ویسٹ کو ٹرائل کا اختیار دیا گیا، دیگر صوبوں میں متعلقہ ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کی مشاورت سے ججز نامزد ہوں گے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

حکومت پاکستان کو جی ایس پی پلس کی تعمیل کو یقینی بنانا چاہیے، جرمن سفیر

ٹیکسٹائل ملوں نے توانائی کے جاری عالمی بحران کے دوران صاف ستھرا ماحول اور پائیدار ترقی کے اہداف کے نفاذ اور جیواشم ایندھن سے دور رہنے کے لیے بہت بڑا کردار ادا کیا ہے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

حکومت پاکستان کو جی ایس پی پلس کی تعمیل کو یقینی بنانا چاہیے، جرمن سفیر


لاہور:  جرمن سفیر مسٹر الفریڈ گراناس نے پاکستان اور جرمنی کے مابین دوطرفہ تجارت میں توسیع، ٹیکسٹائل کے شعبوں میں باہمی استعداد کار بڑھانے اور تجارت اور سرمایہ کاری کے آپشنز کی نشاندہی کے لیے کاروباری وفود کے دوطرفہ تبادلے پر زور دیا ہے۔

انہوں نے بدھ کو آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) لاہور کے دفتر کے دورے کے دوران کیا ہے۔ ان کے ساتھ جنین روہور، فرسٹ سیکرٹری اکنامک اینڈ پولیٹیکل اور ڈاکٹر سیبسٹین پاسٹ، ہیڈ آف ڈیولپمنٹ کوآپریشن بھی تھیں۔ اپٹما نارتھ کے چیئرمین کامران ارشد نے ایسوسی ایشن کے دیگر سینئر ممبران کے ہمراہ ان کا استقبال کیا۔

جرمن سفیرنے کہا کہ حکومت پاکستان کو جی ایس پی پلس کی تعمیل کو یقینی بنانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی برآمد کنندگان کو جرمنی میں سپلائی چین کے ضوابط کو سمجھنے کی بھی ضرورت ہے تاکہ برآمدات میں اضافہ ہو۔ان کے مطابق جرمن ترقیاتی تعاون پاکستان میں ایک ہیلپ ڈیسک قائم کرے گا۔ اپٹما نارتھ کے چیئرمین کامران ارشد نے مکمل لاجسٹک سپورٹ کے ساتھ اپٹما لاہور کے احاطے کی پیشکش کی۔ جرمنی کے ویزوں کے اجراء میں تاخیر کے حوالے سے سفیر نے کاروباری ویزوں کے حصول کے طریقہ کار کی تفصیل سے وضاحت کی ۔

انہوں نے یقین دلایا کہ اگر درخواست دہندگان کی طرف سے مقررہ طریقہ کار پر عمل کیا جائے تو کاروباری مقاصد کے لیے ویزے دو ہفتے کے وقت کے ساتھ جاری کیے جائیں گے۔

قبل ازیں اپنے خطبہ استقبالیہ میں چیئرمین اپٹما نے کہا کہ یورپی یونین کی جانب سے جی ایس پی پلس میں مزید 10 سال کی توسیع سے پاکستان کو معاشی طور پر بہت زیادہ فوائد حاصل ہوں گے اور انسانی حقوق، مزدوروں کے حقوق، ماحولیات، گڈ گورننس اور شفافیت وغیرہ میں بہتری آئے گی۔

انہوں پاکستان اور جرمنی کے درمیان 45 ملین یورو کے تکنیکی تعاون کے معاہدے کو دوطرفہ تجارت بڑھانے پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے ٹیکسٹائل کے شعبوں میں باہمی استعداد کار بڑھانے اور یورپی یونین کے نئے ڈیجیٹل پروڈکٹ پاسپورٹ کی ضروریات کے بارے میں تربیت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔انہوں نے اپٹما کے اراکین کو ویزوں کے فوری اجراء کے لیے ایک طریقہ کار تیار کرنے پر بھی زور دیا۔ان کے مطابق،جی ایس پی پلس کی سہولت نے پاکستانی برآمدات تک رسائی کی اجازت دی ہے تاکہ وہ اپنے حریفوں جیسے کہ بنگلہ دیش، سری لنکا وغیرہ سے مقابلہ کر سکیں، جس سے پاکستان یورپی یونین میں اپنی 4 مصنوعات میں سے 78 فیصد ڈیوٹی فری برآمد کرنے کا اہل بناتا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ اس سہولت نے 2013 سے 2024 تک یورپی یونین کو پاکستان کی برآمدات میں 73 فیصد اور جرمنی کو 40 فیصد اضافہ کیا ہے۔انہوں نےجرمن سفیر کو بتایا کہ اپٹما کے اراکین جی ایس پی پلس کے 27 کنونشنز کی مکمل پاسداری کر رہے ہیں اور نئے کنونشنز کی تعمیل کے لیے بھی کوششیں کر رہے ہیں۔

ٹیکسٹائل ملوں نے توانائی کے جاری عالمی بحران کے دوران صاف ستھرا ماحول اور پائیدار ترقی کے اہداف کے نفاذ اور جیواشم ایندھن سے دور رہنے کے لیے بہت بڑا کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ صنعت نے ترجیحی ریشوں جیسے آرگینک، بی سی آئی کاٹن اور ری سائیکل شدہ پالئیےسٹر کے استعمال پر بھی توجہ مرکوز کی ہے اور فضلہ اور پانی کی صفائی کے پلانٹ لگانے، سبز ماحول اور سماجی طور پر ذمہ دار صنعت کو مغربی دنیا کے ساتھ مستقبل میں تعاون کے قابل بنانا ہے۔

اپٹما کے سابق چیئرمین عبدالرحیم ناصر نے جی ایس پی پلس کو پاکستان کے لیے ایک بڑا پلس قرار دیتے ہوئے پاکستان میں کارپوریٹ فارمنگ کو سپورٹ کرنے کے لیے بائیو ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

پنجاب حکومت کا سانحہ 9 مئی کے ملزمان کی ضمانت منسوخی کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع

درخواست میں انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی کے جج کو فریق بنایا گیا ہے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

پنجاب حکومت کا  سانحہ 9 مئی کے ملزمان کی ضمانت منسوخی کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع

پنجاب حکومت نے سانحہ 9 مئی کے ملزمان کی ضمانت منسوخی کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا۔

درخواست میں انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی کے جج کو فریق بنایا گیا ہے۔ پنجاب حکومت کی پراسیکیوٹر جنرل کے توسط دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ فہرست میں موجود ملزمان کو نوٹس جاری کئے جائیں اور ان کی ضمانت مسترد کی جائے۔

سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی فہرست میں بانی پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی اور شیخ رشید احمد سمیت 57 ملزمان کے نام شامل ہیں ۔ ان ملزمان کی ضمانت انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی نے منظور کی۔

پنجاب حکومت نے یہ فیصلہ لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تو عدالت عالیہ نے پنجاب حکومت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے جرمانہ عائد کردیا تھا۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll