جی این این سوشل

کھیل

پاک بنگلہ دیش سیریز ، بابر اعظم ، رضوان اور شاہین آفریدی کو ڈراپ کئے جانے کا امکان

بنگلہ دیش کے خلاف ہوم سیریز میں نئے کھلاڑیوں کو موقع دیئے جانے کا قوی امکان ہے

پر شائع ہوا

کی طرف سے

پاک بنگلہ دیش سیریز ، بابر اعظم ، رضوان اور شاہین آفریدی کو ڈراپ کئے جانے کا امکان
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

قومی کرکٹ ٹیم کی بنگلہ دیش کے خلاف ہوم سیریز میں نئے کھلاڑیوں کو موقع دیئے جانے کا قوی امکان ہے۔ 

بنگلہ دیش کے خلاف پاکستانی اسکواڈ کے لیے سلیکشن کمیٹی نے ٹیسٹ ٹیم کے کپتان شان مسعود اور کوچ جیسن گلیسپی کے ساتھ مشاورت شروع کر دی ہے۔

چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے بنگلہ دیش کے خلاف نئےکھلاڑیوں کو موقع دینے کی بات کی ہے جس کے بعد قوی امکان ہے کہ بنگلہ دیش کے خلاف ہوم سیریز میں نئے اور نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دیا جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فاسٹ بائولنگ میں شاہنواز دھانی، عامر جمال، خرم شہزاد، میر حمزہ اور نسیم شاہ کی موجودگی میں حارث رؤف کے نام پر غور نہیں کیا جائیگا جبکہ شاہین آفریدی کو بھی آرام دیئے جانے کا قوی امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق بابر اعظم کے حوالے سے بھی انہی خطوط پر گفتگو ہو رہی ہے جبکہ ٹیسٹ کپتان شان مسعود ہوم سیریز میں وکٹ کیپر محمد رضوان کی جگہ سابق کپتان سرفراز احمد کے ساتھ جانے کی خواہش رکھتے ہیں۔

پاکستان

مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کا اجلاس ایک بار پھر ملتوی

وزیر اعظم شہباز شریف نے کل سی سی آئی کا اجلاس طلب کیا تھا، لیکن وزیراعظم اور دیگر ارکان کی مصروفیات کی وجہ سے اجلاس ملتوی کر دیا گیا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کا اجلاس ایک بار پھر ملتوی

لاہورـ: مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کا اجلاس ایک بار پھر ملتوی ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے کل سی سی آئی کا اجلاس طلب کیا تھا، لیکن وزیراعظم اور دیگر ارکان کی مصروفیات کی وجہ سے اجلاس ملتوی کر دیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس کی نئی تاریخ کا جلد اعلان کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل 10 جولائی کو بھی سی سی آئی کا اجلاس ملتوی کیا گیا تھا۔

کل کے ملتوی ہونے والے اجلاس میں کئی اہم امور پر غور و خوض کیا جانا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سی سی آئی کے اجلاس کی نئی تاریخ کا جلد اعلان کیا جائے گا۔ 

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

 عوام کی ترقی، صحت اور تعلیم پر کبھی سیاست نہیں ہونی چاہیے، وزیراعظم

 جناح میڈیکل سینٹرکی سہولیات سےدیگرعلاقوں کےلوگ بھی مستفیدہوں گے، یہ منصوبہ صرف اسلام آباد اور راولپنڈی کےلیے نہیں ہے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

 عوام کی ترقی، صحت اور تعلیم پر کبھی سیاست نہیں ہونی چاہیے، وزیراعظم

وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ عوام کی ترقی، صحت اور تعلیم پر کبھی سیاست نہیں ہونی چاہیے۔

اسلام آباد جناح میڈیکل کمپلیکس کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آج ہم سب کو اللہ کے حضور سجدہ شکر بجالانا چاہیے، اسلام آباد میں آج جناح میڈیکل سینٹر کا سنگ بنیاد رکھا ہے، یہ منصوبہ نوازشریف کی مخلوط حکومت کا تحفہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ جناح میڈیکل سینٹرکی سہولیات سےدیگرعلاقوں کےلوگ بھی مستفیدہوں گے، یہ منصوبہ صرف اسلام آباد اور راولپنڈی کےلیے نہیں ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ جناح میڈیکل سینٹر میں نرسنگ اسکول اور لیبارٹریز بنیں گی، غریب کا علاج 100 فیصد ہوگام، غریب کاحق ہےکہ صحت اورتعلیم کی سہولت ان کی دہلیز پر دی جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا کی جدید ترین سہولیتیں اس ہسپتال میں ہوں گی، عوام کی ترقی کے معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔

شہباز شریف نے کہا کہ جناح میڈیکل سینٹر موذی امراض کا سینٹر ہے، جب سے ہماری حکومت آئی پہلے دن سے اس پر کام شروع کیا، چیئرمین حبیب بینک،پرنس رحیم آغا خان کے صاحبزادے نے تمام تکنیکی معاونت دی ہے، امریکا میں ان کے کنسلٹنٹ سے میٹنگ ہوئی جنہوں نے آغا خان ہسپتال بنایا، پرنس رحیم آغا خان کی پاکستان سے والہانہ محبت ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ آغا خان فاؤنڈیشن نے کنسلٹنسی مفت دی ہے، اس ہسپتال کیلئے 600کنال زمین مختص کی گئی ہے، یہ وہی ماڈل ہے جس کا پورے پاکستان میں میرے قائد نوازشریف نے اجرا کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اشرافیہ اور صاحب حیثیت کو اللہ نے جائز حلال وسائل دیئے ہیں، اشرافیہ اور صاحب حیثیت دنیا میں کہیں سے بھی علاج کراسکتے ہیں، غریب آدمی علاج کیلئے کہاں جائے گا؟ ہم نے سرکاری ہسپتالوں میں مفت سٹی سکین مشینیں لگائیں، ہم نے لیبارٹری ٹیسٹ پر بھی 10روپے فیس رکھی۔

شہباز شریف نے کہا کہ غریب آدمی کا حق ہے کہ اس کی دہلیز پر تعلیم اور علاج مفت پہنچایا جائے، ایک منصف نے سازش کرکے پی کے ایل آئی کو تباہ کرنے کی بھرپور کوشش کی، پی کے ایل آئی بننے سے پہلے مریض جگر کے علاج کیلئے ہندوستان جاتے تھے، گردے کی پیوند کاری کیلئے لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں، آج پی کے ایل آئی میں گردے کے امراض میں مبتلا مریضوں کا مفت علاج ہوتا ہے، اب یہاں جناح میڈیکل سینٹرمیں مفت علاج ہوگا۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ 2011آپ کو یاد ہوگا 20،20گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہوتی تھی، میں نے کہا تھا اندھیرے ختم کردیں گے ،اس بات پر بہت مذاق اڑایا گیا، نوازشریف کی قیادت میں 2013سے18تک ملک میں 20،20گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ختم ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ میں نے منصوبے کی تعمیر کے ذمہ داروں کو کہا ہے مجھے یہ جناح میڈیکل سینٹرایک سال میں مکمل چاہیے، ایک سال بڑا چیلنجنگ ٹائم ہے، یہاں پر 24گھنٹے دن رات کام ہوگا، کل پاکستان کے شاندار آئی ٹی پارک کے دورے پر گیا تھا، ہدایت کی ہے آئی ٹی پارک کو ایک سال میں مکمل کریں، اس ہسپتال کیلئے جتنے وسائل چاہئیں ہم مہیا کریں گے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

پاکستان کی جرمنی میں اپنے قونصل خانے پر شرپسندوں کے حملے کی شدید مذمت

جرمن حکام سفارتی مشنز اور عملے کی حفاظت کو یقینی بنائیں اور شرپسندوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کریں، ترجمان دفتر خارجہ

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

پاکستان کی جرمنی میں اپنے قونصل خانے پر شرپسندوں کے حملے کی شدید مذمت

پاکستان نے جرمنی میں اپنے قونصل خانے پر شرپسندوں کے حملے کی شدید مذمت کی ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ جرمن حکام سفارتی مشنز اور عملے کی حفاظت کو یقینی بنائیں اور شرپسندوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کریں، جرمن حکام کی قونصل خانہ کے تقدس اور تحفظ میں ناکامی بھی قابل  مذمت ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ویانا کنونشن کے تحت قونصل خانوں  کی حفاظت میزبان حکومت کی ذمہ داری ہے، میزبان حکومت کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ سفارت کاروں کی سلامتی یقینی بنائے، کل کے واقعے سے قونصل خانے کے عملے کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہوا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ گزشتہ روز کے واقعے نے فرینکفرٹ میں پاکستانی قونصل خانے کی سلامتی خطرے میں ڈال دی، جرمنی کی حکومت کو اپنے شدید احتجاج سے آگاہ کر رہے ہیں، جرمن حکومت ویانا کنونشنز کے تحت اپنی ذمہ داریاں پورا کرے، جرمنی میں پاکستانی سفارتی مشنز اور عملے کی سلامتی یقینی بنائی جائے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز افغانی احسان فراموشی کی تمام حدیں پار کرگئے۔ پاکستان کے احسانات اورمہمان نوازی بھول گئے۔ جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں پاکستانی قونصل خانے پر حملہ کر دیا۔ پتھراؤ کیا، پرچم اتار کر بے حرمتی کی کوشش کی۔

 

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll