حکومت چاہے تو ایکس کو فوری طور پر بحال کر سکتی ہے لیکن ایکس نے پی ٹی اے کی شکایات پر بہت کم عمل کیا ہے، چیئرمین پی ٹی اے


اسلام آباد: چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمان نے کہا ہے کہ حکومت وی پی این کی وائٹ لسٹنگ کررہی ہے جس کے بعد غیرمجاز وی پی این پاکستان میں نہیں چل سکیں گے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ اجلاس میں انٹرنیٹ اور ٹیلی کمیونیکیشن کے معاملات پر چیئرمین پی ٹی اے نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ وی پی اینز کو بلاک کرنے سے کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے لیکن حکومت غیر مجاز وی پی اینز کو روکنے کے لیے ان کی وائٹ لسٹنگ کر رہی ہے۔
دوسری جانب چیئرمین پی ٹی اے نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے صارفین میں 70 فیصد کمی ہوئی ہے جو کہ وی پی اینز پر پابندیوں کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت چاہے تو ایکس کو فوری طور پر بحال کر سکتی ہے لیکن ایکس نے پی ٹی اے کی شکایات پر بہت کم عمل کیا ہے۔
پی ٹی اے نے بتایا کہ ملک میں 56 فیصد آبادی کو انٹرنیٹ کی سہولت میسر ہے۔ سیٹیلائٹ پالیسی مکمل ہو چکی ہے اور 5G نیلامی اگلے سال مارچ یا اپریل میں ہونے کا امکان ہے۔
پی ٹی اے نے گزشتہ سال مختلف مواقع پر موبائل سروسز بند کیں۔
انہوںنے بتایا کہ حکومت سوشل میڈیا پر غیر قانونی مواد کو روکنے کے لیے کوشاں ہے۔
پھر ناقص کارکردگی: تیسرے ٹیسٹ میں پاکستان انگلینڈ کیخلاف پہلی اننگزمیں133 رنز بناکر آؤٹ
- 2 days ago
بنگلادیش میں خسرہ وبا شدت سے پھیل گئی
- 2 days ago
وزیراعلیٰ پنجاب کی صاحبزادی ماہ نور صفدر کے نکاح کی تقریب کی تاریخ کا اعلان
- a day ago
اداکارہ ہنی خان نے خود پر ہونیوالی تنقید کا جواب دے دیا
- a day ago
پٹرولیم قیمتوں میں اضافہ مسترد، سینیٹر ڈاکٹر زرقا کا اضافہ فوری واپسی کا مطالبہ
- a day ago

پاکستان کا سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور خوشحالی کے لیے حمایت کا اعادہ
- 11 hours ago
پنجاب کی جیلوں میں کرپشن کے خلاف کریک ڈاؤن، 16 افسران و اہلکار معطل
- a day ago
وفاقی تعلیمی بورڈ: انٹرمیڈیٹ پارٹ ون اور ٹوکے نتائج کا اعلان
- 2 days ago

ملک میں سونے فی تولہ قیمت میں معمولی کمی
- 17 hours ago

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافہ
- a day ago

پاکستان کی سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمت
- 2 days ago
کرکٹرزامام الحق اور محمد رضوان کےموبائل فونز ظبط، وجہ سامنے آگئی
- 17 hours ago








