Advertisement

پاکستان میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات اور بچاؤ کی تدابیر

حکومت پاکستان کو چاہیے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرے  اور بدلتے ہوئے موسمی نمونوں کے مطابق ڈھالنے کے لیےمزید  کوششیں کرے

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 years ago پر Aug 13th 2024, 2:38 am
ویب ڈیسک کے ذریعے
پاکستان میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات  اور بچاؤ کی تدابیر

موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پاکستان کا جغرافیہ اس کے گلے کی ہڈی بنتا جا رہا ہے اور انہی وجوہات کی بنا پر پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے شدید ترین اثرات کی زد میں آتا جا رہا ہے ۔

پاکستان ہی نہیں  بلکہ جنوبی ایشیا کا پورا خطہ اس وقت موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے نشانے پر ہے۔ دنیا بھر کے موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہونے والے دس ممالک میں پاکستان بھی سر فہرست ہے، موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہونے والے مما لک میں بشمول پاکستان، بنگلہ دیش، میانمار یعنی برما، نیپال، فلپائن، تھائی لینڈ اور ویت نام شامل ہیں ۔

موسمیاتی تبدیلیاں کیا ہیں ؟

بنیادی طور پر موسمیاتی تبدیلیوں  سے مراد اوسط درجہ حرارت میں طویل مدتی تبدیلیاں ہیں،یہ تبدیلیاں بنیادی طور پر انسانی صحت  پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ جیسےکسی ایک علاقے کی آب و ہوا اُس کے کئی سالوں کے موسم کا اوسط ہوتی ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی اس اوسط میں تبدیلی کو کہتے ہیں۔ پاکستان جو کہ بہت تیزی سے ماحولیاتی تبدیلیوں  کے دور سے گزر رہا ہے  اور پاکستان کے علاہ عالمی درجہ حرارت میں بھی  مسلسل اضافہ ہو  رہا ہے۔ جس کی وجہ سے زمین پر کچھ خطے خطرناک حد تک گرم ہورہے ہیں اور کچھ خطوں میں اوسط سے زیادہ سردی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات :

موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات مختلف ممالک میں مختلف ہوتے ہیں پاکستان کا شمار چونکہ ایشیائی خطے میں ہوتا ہے اس لیے پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں سے مہنگائی ، بے روز گاری اور زراعت پر گہرا اثر پڑتا ہے ۔

اقوام متحدہ کے اقتصادی اور سماجی کمیشن برائے ایشیا اور بحرالکاہل کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پاکستان اپنی سالانہ جی ڈی پی کے 9 فیصد سے ہاتھ دھو سکتا ہے۔

موسمیاتی تبدیلیوں  کا پاکستان کی معیشت پرخاصا گہرا  اثر پڑ رہا ہے، خاص طور پر زرعی شعبے میں جو ملک کی 40 فیصد افرادی قوت کو ملازمت دیتا ہے۔ ایک زرعی ملک ہونے کے ناطے پاکستان کی زیادہ تر آبادی دریاؤں کے ساحلوں پر آباد ہے موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث جیسے ضرورت سے  زیادہ بارشیں ہونا ، موسم میں تبدیلی رہنے کے باعث پاکستان کے یہ علاقے زیر آب آنے کا خدشہ رہتا ہے ، انہی مسائل کے باعث پاکستان کے ان علا قوں کو غیر محفوظ سمجھا جاتا ہے ، اسی لیے پاکستان اور جنوبی ایشیا کے ممالک کو موسمیاتی تبدیلیوں سے زیادہ خطرات لاحق ہیں ۔

پاکستانی کلائمٹ چینج کی ڈائریکٹر کا بیان : 

موسمیاتی تبدیلیوں  پر کام کرنے والی پاکستان کی 46 تنظیموں کے اتحاد سول سوسائٹی کولیشن فار کلائمٹ چینج کی ڈائریکٹر عائشہ خان کا کہنا ہے  کہ پاکستانی خطے کے جغرافیائی محل وقوع، سطح سمندر سے اونچائی، اور اس علاقے میں چلنے والی ہواؤں کے باعث یہ خطہ موسمیاتی تبدیلیوں کے عین  نشانے پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اب موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے کام کر رہا ہے ، پاکستان کے ہر صوبے میں ضرورت کے مطابق پودے لگائے جا رہے ہیں تا کہ ماحول کوسازگار بنایا جا سکے ۔ 

پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے کیسے نمٹ سکتا ہے ؟

ایک مخصوص اندازے کے مطابق پاکستان کا 5 فیصد رقبہ جنگلات پر محیط ہے ، جب کہ ایک سر سبز ملک کے لیے 25 سے 35 فیصد تک رقبے پر جنگلات کا ہونا ضروری ہے ، اسی لیے حکومت پاکستان کو زیادہ سے زیادہ  پودے لگاکر جنگلات میں اضافہ کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ حکومت پاکستان کو چاہیے کہ مختلف علاقوں میں چھوٹے بڑے ڈیم بنائے تاکہ بارش اور سیلاب کی صورت میں پانی کا ذخیرہ کیا جاسکے۔

حکومت پاکستان کو چاہیے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرے  اور بدلتے ہوئے موسمی نمونوں کے مطابق ڈھالنے کے لیےمزید  کوششیں کرے ۔

موسمیاتی تبدیلیوں سے کیسے بچا جائے ؟

پاکستان چونکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے پیش نظر متاثر ہونے والے پہلے دس ممالک میں شامل ہے ، موسمیاتی تبدیلیوں سے بچنا اب پاکستان میں رہنے والے ہر عمر کے لوگوں پر لازم ہو چکا ہے ۔ ہر پاکستانی شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ  موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بچنے کے لئے اپنے حصے کا کردارادا کرے  ۔ موسمی معاملات کے ماہر سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان میں موسمی تبدیلیوں پر قابو پانا ہے تو  گاڑیوں اور مشینوں کا استعمال کم کرنا ہو گا ، پیدل چلنا ہو گا ، ورزش کرنا ہو گی ، زیادہ سے زیادہ درخت لگانا انفرادی سطح پر ایسے اقدامات میں شامل ہے  جن کے ہمارے ماحول اور موسموں پر مجموعی مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

 

 

Advertisement
پمز آتشزدگی: وزیراعظم نے ایگزیکٹو ڈائریکٹرسمیت 8 افرادکو معطل کردیا، فوجداری کارروائی کی ہدایت

پمز آتشزدگی: وزیراعظم نے ایگزیکٹو ڈائریکٹرسمیت 8 افرادکو معطل کردیا، فوجداری کارروائی کی ہدایت

  • a day ago
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا پاکستان آرڈیننس فیکٹریز واہ کا دورہ، پیداواری صلاحیتوں کا جائزہ لیا

فیلڈ مارشل عاصم منیر کا پاکستان آرڈیننس فیکٹریز واہ کا دورہ، پیداواری صلاحیتوں کا جائزہ لیا

  • a day ago
وزیراعظم کا پاکستان، سعودی عرب کے درمیان اقتصادی و زرعی تعاون بڑھانے پر زور

وزیراعظم کا پاکستان، سعودی عرب کے درمیان اقتصادی و زرعی تعاون بڑھانے پر زور

  • 2 days ago
امریکی پابندیوں، بحری ناکہ بندی سے ایرانی تجارت 35 فیصد سکڑ گئی، صدر مسعود پزشکیان

امریکی پابندیوں، بحری ناکہ بندی سے ایرانی تجارت 35 فیصد سکڑ گئی، صدر مسعود پزشکیان

  • a day ago
ملک کے بیشتر میدانی علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہنے کا امکان

ملک کے بیشتر میدانی علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہنے کا امکان

  • 2 days ago
لاہور چیمبر کی ایکسپورٹ کمیٹی نے ایک سالہ کارکردگی پیش کردی

لاہور چیمبر کی ایکسپورٹ کمیٹی نے ایک سالہ کارکردگی پیش کردی

  • 10 hours ago
لارڈز ٹیسٹ کا دوسرا روز: انگلینڈ کے خلاف پاکستان ٹیم 110 رنز پر ڈھیر

لارڈز ٹیسٹ کا دوسرا روز: انگلینڈ کے خلاف پاکستان ٹیم 110 رنز پر ڈھیر

  • 2 days ago
فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ہارورڈ بزنس سکول کے طلبہ کے وفد کی ملاقات

فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ہارورڈ بزنس سکول کے طلبہ کے وفد کی ملاقات

  • 2 days ago
ملک میں سونا اچانک سستا، قیمت میں بڑی کمی

ملک میں سونا اچانک سستا، قیمت میں بڑی کمی

  • a day ago
پی کے 404: 37 سال سے لاپتہ طیارے کا راز برقرار

پی کے 404: 37 سال سے لاپتہ طیارے کا راز برقرار

  • a day ago
انسپکٹر جمشید پر بننے والی فلم کا پہلا ٹریلر جاری

انسپکٹر جمشید پر بننے والی فلم کا پہلا ٹریلر جاری

  • 2 days ago
ناروے کے بادشاہ کا 89 سال کی عمر میں انتقال

ناروے کے بادشاہ کا 89 سال کی عمر میں انتقال

  • 2 days ago
Advertisement