Advertisement
تجارت

جولائی میں بجلی کی پیداواری لاگت 9 روپے رہی تو بل 80 روپے سے کیوں آرہا ہے، گوہر اعجاز

بنیادی مسئلہ اس کپیسٹی پیمنٹس کا ہے جو بغیر بجلی پیدا کئے ادا کی جا رہی ہے، سابق نگران وزیر تجارت

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 years ago پر Aug 19th 2024, 1:36 am
ویب ڈیسک کے ذریعے
جولائی میں بجلی کی پیداواری لاگت 9 روپے رہی  تو بل 80 روپے سے کیوں آرہا ہے، گوہر اعجاز

سابق نگراں وزیر تجارت گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ جولائی میں بجلی کی پیداواری لاگت 9 روپے 3 پیسے رہی، اس کے باوجود 40 سے 80 روپے فی یونٹ کے حساب سے بجلی کے بل کیوں جاری کیے جارہے ہیں۔

ڈاکٹر گوہر اعجاز نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ جولائی میں بجلی کی کل اوسط پیداوار 20 ہزار میگاواٹ تھی جس میں سے 35 فیصد بجلی یعنی 7000 میگاواٹ ہائیڈل ذرائع سے حاصل کی گئی۔

سابق نگراں وزیر نے سوال اٹھایا کہ جولائی میں بجلی کی پیداواری لاگت 9 روپے تین پیسے فی یونٹ رہی، جب ایندھن کی قیمت 9.03 روپے فی یونٹ ہے تو بل کیسے 40، 60، یا 80 روپے فی یونٹ تک پہنچ رہے ہیں؟

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان صرف اس بجلی کی ادائیگی کر سکتا ہے جوحقیقت میں پیدا ہوتی ہے۔ ملک کے پاس 43,000 میگاواٹ سے زیادہ بجلی کی پیداوارکی صلاحیت ہے، لیکن بنیادی مسئلہ مجموعی بد انتظامی کے ساتھ پیدا نہ ہونے والی بجلی کے استعدادی چارجز کی ادائیگی ہے، کیپسٹی چارجز سے رہائشی، تجارتی، صنعتی، اور زرعی تمام صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔

گوپر اعجاز نے کہا کہ پنجاب حکومت کا 500 یونٹس کے صارفین کو 2 ماہ کے لیے 14 روپے فی یونٹ ریلیف دینا قابل تعریف ہے، لیکن وفاقی حکومت کو تمام صارفین رہائشی، کمرشل، صنعتی اور زرعی کو انصاف دینا ہے۔

Advertisement