Advertisement

غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کیلئے شاید یہ آخری موقع ہو، بلنکن

ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں کہ کوئی ایسی کارروائیاں نہ ہوں جو کسی بھی طرح سے ہمیں اس معاہدے تک پہنچنے سے دور کردیں، امریکی وزیر خارجہ

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 years ago پر Aug 19th 2024, 9:03 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کیلئے شاید یہ آخری موقع ہو، بلنکن

واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے تک پہنچنے کے لیے یہ اب شاید آخری موقع ہے۔ بلنکن نے یہ ریمارکس اکتوبر میں غزہ تنازع شروع ہونے کے بعد سے مشرق وسطیٰ کے اپنے نویں دورے کے دوران پیر کو اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ سے ملاقات کے دوران دیے۔

غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کےمطابق انٹونی بلنکن نے کہا کہ ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں کہ کوئی ایسی کارروائیاں نہ ہوں جو کسی بھی طرح سے ہمیں اس معاہدے تک پہنچنے سے دور کردیں یا اس تنازع کو دیگر مقامات تک مزید شدت کے ساتھ پھیلا دیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ7 اکتوبر کے بعد سے یہ میرا اسرائیل، مشرق وسطیٰ کا نواں دورہ ہے اور یہ فیصلہ کن لمحہ ہے۔ غالباً یہ یرغمالیوں کو گھر پہنچانے، جنگ بندی کروانے اور سب کو بہتر طریقے سے پائیدار امن اور سلامتی کا راستہ پیش کرنے کا بہترین اور شاید آخری موقع ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوحہ میں مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کے بعد امریکا نے امید ظاہر کی تھی کہ ایک معاہدے تک پہنچا جا سکتا ہے۔ تاہم، حماس نے امریکی تجاویز کو فریب قرار دیتے ہوئے ان پر پیشرفت کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کا الزام عائد کیا ہے۔

حماس کے بیان میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو پر معاہدے کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے اور جنگ کو طول دینے کے لیے نئی شرائط اور مطالبات رکھنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ حماس نے مزید کہا کہ اسرائیل ثالثوں کی کوششوں کو ناکام بنانے اور معاہدے میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے مکمل طور پر ذمہ دار ہے۔

اسرائیلی قیادت اور حماس کے درمیان جاری اس تناؤ کے باوجود، بلنکن نے پیر کو اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ملاقات کے دوران امید ظاہر کی کہ مذاکرات میں پیش رفت ہوسکتی ہے۔ امریکی انتظامیہ کو امید ہے کہ اگلے ہفتے کے دوران کسی معاہدے تک پہنچا جا سکتا ہے، لیکن موجودہ صورتحال میں دونوں فریقوں کی طرف سے ہٹ دھرمی اور معاہدے کو روکنے کے الزامات نے معاہدے کی کامیابی کے امکانات کو مشکل بنا دیا ہے۔

اس تمام تناظر میں، عالمی برادری کی نظریں اس بات پر ہیں کہ آیا یہ دورہ اور جاری مذاکرات غزہ میں دیرپا امن قائم کرنے میں کامیاب ہو سکیں گے یا نہیں۔

Advertisement