ان حملوں سے نقصانات کی فوری طور پر کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی


اسرائیلی جنگی طیاروں نے جنوبی لبنان پر بڑے پیمانے پر شدید حملے کئے ہیں ۔
یہ حملےعین اس وقت شروع کئے گئے جب حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ اپنے خطاب میں لبنان میں الیکٹرانک آلات کے دھماکوں میں درجنوں اموات اور ہزاروں افراد کے زخمی ہونے پر اپنے ردعمل کا اظہار کر رہے تھے۔ انڈیپنڈنٹ اردو اور بی بی سی کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں میں جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے راکٹ لانچرز، ہتھیاروں کے ذخائر اور دیگر تنصیبات سمیت ایک سو سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ حملے دو گھنٹے تک جاری رہے جو گزشتہ سال اکتوبر میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد شدید ترین تھے ۔
ان حملوں سے نقصانات کی فوری طور پر کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے کہا کہ اسرائیل نے جمعرات کی شام ملک کے جنوب میں کم از کم 52 حملے کیے اور یہ کہ لبنان نے شمالی اسرائیل میں فوجی مقامات پر بھی حملے کیے ہیں۔قبل ازیں حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ اب اسرائیل اپنے شمالی سرحدی علاقوں سے منتقل کئے گئے شہریوں کو واپس ان کے گھروں میں نہیں لا سکے گا۔ انہوں نے لبنان میں واکی ٹاکی اور پیجر حملوں کا ذمہ دار اسرائیل کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ پر ریڈیو ڈیوائسز اور پیجرز کے ذریعے حملے کر کے اسرائیل نے تمام ریڈ لائنز پار کر لی ہیں اور اسے اس اقدام پر سخت جوابی کارروائی اور منصفانہ سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔
انہوں نے اعلان کیا کہ لبنان میں مواصلاتی آلات کے دھماکوں کی تحقیقات کی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمیں ایک بڑا سکیورٹی اور عسکری دھچکا لگا جس کی حزب اللہ کی مزاحمت کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی اورنہ ہی لبنان کی تاریخ میں اس کی مثال ملتی ہے بلکہ اس قسم کے قتل عام، ٹارگٹ اور جرم کی شاید دنیا میں بھی کوئی مثال نہ ملے۔ ان حملوں سے اسرائیل نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ تمام کنٹرول، قوانین اور اخلاقیات سے ماورا ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ غزہ میں اسرائیلی جارحیت ختم ہونے تک لبنان محاذ سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ میں جگہ، وقت، مقام، تفصیلات کے بارے میں بات نہیں کروں گا لیکن آپ کو پتہ چل جائے گا کہ یہ کب ہوگا۔اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ کا کہنا ہے کہ جنگ اہم مرحلے میں داخل ہوگئی ہے جس میں اسرائیل کے پاس قیمتی مواقع ہیں لیکن اہم خطرات بھی لاحق ہیں۔ انہوں نے حزب اللہ کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا مقصد اسرائیل کی شمالی سرحد ی آبادیوں کے مکینوں کو ان کے گھروں کو محفوظ واپسی یقینی بنانا ہے۔
انڈیا ٹوڈے کے مطابق وائٹ ہاؤس کی ترجمان کرائن جین پیئر نے ایک بریفنگ میں بتایا کہ امریکا ممکنہ خطے میں کشیدگی میں اضافے پر فکر مند ہے۔ امریکی حکام نے کہا ہے کہ الیکٹرانک آلات میں دھماکوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے جس کا سفارتی حل ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کو منگل (17 ستمبر) کو لبنان میں فوجی آپریشن بارے مطلع کیا تھا لیکن اس نے اس کارروائی کی تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا تھا۔
واضح رہے کہ جس دن یہ کال کی گئی اسی دن لبنان میں پیجر ز میں دھماکوں سے بڑی تعدا میں لوگ جاں بحق و زخمی ہوئے۔امریکی حکام کے مطابق اس ہفتے لائیڈ آسٹن اور اسرائیلی وزیر دفاع یوایو گیلنٹ کے درمیان چار مرتبہ بات چیت ہوئی اور مذکورہ کال انہی میں سے ایک تھی۔امریکی حکام نے کہا کہ حملے کے بعد امریکی وزیر دفاع کو اسرائیل کی طرف سے بریفنگ دی گئی تھی۔ دریں اثنا برطانیہ نے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے ۔

پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتیں: وفاقی حکومت کا اسمارٹ لاک ڈاؤن لگانے کا 'فیصلہ'
- 16 hours ago

لبنانی وزیر داخلہ کی علاقائی امن کیلئے پاکستان کی خدمات کی تعریف
- 2 days ago

پاکستان کی سعودی عرب میں ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر ڈرون حملوں کی مذمت
- 4 days ago
پی ٹی آئی کے 24 ارکین اسمبلی بشمول سہیل آفریدی کے پاسپورٹ بلاک کرنے کا حکم
- 2 days ago

جمائما گولڈ اسمتھ نے معروف کاروباری شخصیت سے دوسری شادی کرلی
- 2 days ago

27 ستمبر کی کال سے قبل پی ٹی آئی کارکنوں کی گرفتاریاں جاری, پی ٹی آئی رہنماوں کی شدید مذمت
- 3 days ago

'مجھے دھمکیاں دی گئی ہیں'، میر رضا کیس میں پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ کا انکشاف
- 2 days ago

ماہ نور صفدر کے نکاح کی تقریب آج ہوگی، دلہا کون ہے؟
- 4 days ago

ریڈ لائن کی شوٹنگ کا آغاز، ستارے سیٹ پر پہنچ گئے
- 16 hours ago

ملک میں سونے کی قیمت میں پھر گراوٹ
- 20 hours ago

پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر سبسڈی حاصل کرنے کا طریقہ جانیے
- 2 days ago

بیرونِ ملک سفر کے لیے نادرا ویکسینیشن سرٹیفکیٹ لازمی، تاریخ کا اعلان
- 4 days ago


