Advertisement
پاکستان

پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس سپریم کورٹ میں چیلنج

ترمیمی آرڈیننس کو آئین سے متصادم قرار دیا جائے اور اس کے تحت ہونے والے تمام اقدامات کو کالعدم قرار دیا جائے، استدعا

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 years ago پر Sep 24th 2024, 4:44 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس سپریم کورٹ میں چیلنج

پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا، درخواست میں استدعا کی گئی کہ ترمیمی آرڈیننس کو آئین سے متصادم قرار دیا جائے۔

چوہدری احتشام الحق ایڈووکیٹ نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواست دائر کر دی، دائر درخواست میں سیکرٹری وزارت قانون، سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ اور سیکرٹری کابینہ کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست گزار نے استدعا کی کہ ترمیمی آرڈیننس کو آئین سے متصادم قرار دیا جائے اور آرڈیننس کے تحت ہونے والے تمام اقدامات کو کالعدم قرار دیا جائے جب کہ درخواست پر فیصلے تک پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس کو معطل کیا جائے۔ سپریم کورٹ بھی قرار دے چکی کہ آرڈیننس صرف ہنگامی حالات میں ہی جاری ہوسکتا۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ آرڈینینس کو ذریعے عوام کے حقوق کی خلاف ورزی کی جارہی ہے، آرٹیکل 9 میں عوام کو آزاد عدلیہ سے رجوع کرنے کی آزادی ہے جب کہ آرٹیکل 10 اے کے تحت فئیرٹرائل عوام کے آئینی حقوق میں شامل ہے۔آرڈینینس سے اضافی اختیارات دیے جارہے جس کا روٹین میں استعمال پارلیمنٹ کے اختیارات کو کم کررہا ہے، آرڈینینس سے آزاد عدلیہ کے اختیارات اور سپریم کورٹ کے فیصلوں پر منفی اثر پڑےگا۔

اس سے قبل سندھ ہائیکورٹ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں آرڈیننس کے ذریعے ترمیم کے خلاف تحریک انصاف کی درخواست قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

واضح رہے کہ 20 ستمبر کو صدر مملکت آصف زرداری کے دستخط بعد سپریم کورٹ ترمیمی پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس 2024 نافذ ہو گیا۔قبل ازیں وزیر اعظم شہباز شریف اور وفاقی کابینہ نے سپریم کورٹ ترمیمی پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس 2024 منظور کیا تھا۔

Advertisement