Advertisement

پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی جدید ترین طریقہ علاج کرنے والا جنوبی ایشیا کا پہلا ادارہ بن گیا

پی آئی سی میں دِل کا دورہ پڑنے کے بعد بروقت علاج اور مزید نقصان سے بچانے کے لیے تھیراکس ڈیوائس کا کامیاب پروسیجر کیا گیا

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 years ago پر Sep 24th 2024, 4:12 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی جدید ترین طریقہ علاج کرنے والا جنوبی ایشیا کا پہلا ادارہ بن گیا

پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) جدید ترین طریقے سے دل کا علاج کرنے والا جنوبی ایشیا کا پہلا ادارہ بن گیا۔

پی آئی سی میں امراض قلب کا بین االاقوامی جدید طریقہ علاج کامیابی سے متعارف کرا دیا گیا ہے۔ پی آئی سی میں دِل کا دورہ پڑنے کے بعد بروقت علاج اور مزید نقصان سے بچانے کے لیے تھیراکس ڈیوائس کا کامیاب پروسیجر کیا گیا۔

ترجمان پی آئی سی رفعت انجم کے مطابق پشاور انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی سپر سیچوریٹیڈ آکسیجن طریقے سے دل کاعلاج کرنے والا جنوبی ایشیا کا پہلا ادارہ بن گیا ہے۔ پی آئی سی میں 3 روز میں 5 کامیاب آپریشن کیے گئے ہیں، جن میں 3 مرد اور 2 خواتین شامل ہیں۔

سربراہ کارڈیالوجی اور پی آئی سی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر عابد اللہ کے مطابق متاثرہ مریض کو دل کا دورہ پڑنے کے بعد اس طریقہ علاج کو استعمال کیا جاتا ہے۔ سپر سیچوریٹیڈ آکسیجن میں تھیراکس مشین کے ذریعے مریض کے دل کی چھوٹی شریانوں کو ہائی مقدار میں آکسیجن فراہم کی جاتی ہے۔

کارڈیالوجسٹ اور آپریشن ٹیم کے رکن ڈاکٹر علی رضا نے بتایا کہ ہارٹ اٹیک سے دل کے کمزور ہونے کا خطرہ موجود ہوتا ہے۔ اس طریقہ علاج سے امید ہے کہ دل کی صحت اور دل کے پٹھوں کی کمزوری کا خطرہ کم کیا جا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایس او ٹو طریقہ علاج ترقی یافتہ ممالک میں باقاعدگی سے استعمال کیا جاتا ہے۔

Advertisement