Advertisement
پاکستان

آئی ایم ایف کی کڑی شرائط پوری کردیں جن میں سے کچھ کا تعلق چین سے تھا، وزیر اعظم

عاشی اشاریوں میں بتدریج بہتری آرہی ہے، آئی ایم ایف سے معاہدے میں سعودی عرب، چین اور یو اے ای نے اہم کردار ادا کیا جس پر ان کے شکرگزار ہیں، شہباز شریف

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 years ago پر Sep 25th 2024, 2:07 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
آئی ایم ایف کی کڑی شرائط پوری کردیں جن میں سے کچھ  کا تعلق چین سے تھا، وزیر اعظم

وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کی کڑی شرائط پوری کردیں، آئی ایم ایف کی کچھ شرائط کا تعلق چین سے تھا۔

نیویارک میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام پائیدار ترقی کے اہداف پر ایس ڈی جی مومنٹ کے موضوع پر مباحثہ ہوا، جس میں وزیر اعظم شہباز شریف نے پینل میں بیٹھ کر اظہار خیال کیا۔

شہباز شریف نے کہا کہ ملک میں تعلیم کے فروغ کے لیے پرعزم ہیں، پنجاب میں اپنی 10 سالہ حکومت کے دوران تعلیمی شعبے میں بڑی تبدیلی لائے، پنجاب میں تعلیم کے فروغ کے لیے کئی اقدامات کیے اور معاشرے کے پسماندہ طبقات کو بااختیار بنایا جو اپنے بچوں کو تعلیم سے آراستہ نہیں کر سکتے تھے، تعلیم کے لیے دانش اسکول بنائے جبکہ طلبا کو ہنر مند بنانے کے لیے ووکیشنل ٹریننگ کا اہتمام کیا گیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پاکستان میں 2022 میں تباہ کن سیلاب آیا، پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے، جس سے معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا، سیلاب زدہ علاقوں کی بحالی کیلیے خاطر خواہ اقدامات کیے۔

انہوں نے کہا کہ مشکل وقت میں چین نے دوبارہ ہاتھ پکڑا اور ماضی کی طرح تعاون کیا، معاشی اشاریوں میں بتدریج بہتری آرہی ہے، آئی ایم ایف سے معاہدے میں سعودی عرب، چین اور یو اے ای نے اہم کردار ادا کیا جس پر ان کے شکرگزار ہیں۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہم نے نائن الیون کے بعد دہشت گردی کا سامنا کیا، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 88 ہزار پاکستانی شہید ہوئے، ہم نے اس ناسور کو شکست دی، ہمیں اس سے اربوں ڈالر کا نقصان ہوا، ہمیں اس شیطانی سرکل سے نکلنے کے لیے ادھار اور قرضے لینا پڑتے ہیں، یہ موت کا پھندا ہے اور ہم اس سے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں تو اس کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔

 

Advertisement
Advertisement