انٹرنیٹ کی سست روی: پشاور ہائیکورٹ نے وزارت داخلہ اور وزارت آئی ٹی سے جواب طلب کر لیا
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ انٹرنیٹ سست ہونے سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے اور لوگوں کا کاروبار متاثر ہو رہا ہے


پشاور ہائی کورٹ نے انٹرنیٹ کی سست روی پر وزارتِ داخلہ اور وزارتِ آئی ٹی سے جواب طلب کر لیا۔
پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس وقار احمد اور جسٹس کامران حیات میاں خیل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے ملک میں انٹرنیٹ سروس کی سست روی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ انٹرنیٹ سست ہونے سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے اور لوگوں کا کاروبار متاثر ہو رہا ہے۔
جسٹس وقار احمد نے سوال کیا کہ آپ کا مطلب ہے کہ حکومت مان نہیں رہی کہ انٹرنیٹ سست کیا گیا ہے؟
جس پر درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ احتجاج کے وقت حکومت انٹرنیٹ کو ڈاؤن کرتی ہے اور پہلے سے کہتی بھی ہے۔
بعد ازاں عدالت نے وزارت داخلہ اور وزارت آئی ٹی کو انٹرنیٹ کی سست رفتار سے متعلق تفصیل آئندہ سماعت پر پیش کرنے کا حکم دیا

وزیراعظم سے گلوبل فنڈ کے اعلیٰ سطحی وفد کی ملاقات،صحت عامہ اور دیگر امور پر تبادلہ خیال
- 4 گھنٹے قبل

تین روز کی مسلسل کمی کے بعد سوناآج پھر مہنگا، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- 6 گھنٹے قبل

عوام کیلئے اچھی خبر،حکومت نے ملک بھر کیلئے بجلی کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کر دیا
- 6 گھنٹے قبل

امریکی عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کی ایچ ون بی پالیسی غیر قانونی قرار دے دی
- 7 گھنٹے قبل

کراچی اور لاہور گیریژن میں پاک فوج کے شہداء اورغازیوں کے اعزاز میں پروقار تقریب کاانعقاد
- 2 گھنٹے قبل

سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس کل طلب، وفاقی بجٹ 12 جون کو پیش کیے جانے کا امکان
- 6 گھنٹے قبل

بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر کی ائیرچیف ،نیول چیف اور فیلڈمارشل سے ملاقات، دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق
- 3 گھنٹے قبل

بلوچستان:سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی میں بھارتی حمایت یافتہ 14 خارجی دہشت گرد جہنم واصل
- 2 گھنٹے قبل

نئے اداکاروں کو پروڈیوسرز کیلئے آسانیاں پیدا کرنی چاہییں، اداکارہ بابرہ شریف
- 3 گھنٹے قبل

خسارے کا شکار ریاستی ملکیتی اداروں کی نجکاری حکومت کی اولین ترجیح ہے،وزیراعظم
- 7 گھنٹے قبل

پاکستان اور چین کے مضبوط اور گہرے تعلقات ہر آزمائش پر پورے اترے ہیں، عطاء اللہ تارڑ
- 8 گھنٹے قبل

فتنہ الخوارج، بھارت اور کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کا گٹھ جوڑ بے نقاب، ہوشربا انکشافات منظرعام پرآ گئے
- 8 گھنٹے قبل













