انٹرنیٹ کی سست روی: پشاور ہائیکورٹ نے وزارت داخلہ اور وزارت آئی ٹی سے جواب طلب کر لیا
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ انٹرنیٹ سست ہونے سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے اور لوگوں کا کاروبار متاثر ہو رہا ہے


پشاور ہائی کورٹ نے انٹرنیٹ کی سست روی پر وزارتِ داخلہ اور وزارتِ آئی ٹی سے جواب طلب کر لیا۔
پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس وقار احمد اور جسٹس کامران حیات میاں خیل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے ملک میں انٹرنیٹ سروس کی سست روی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ انٹرنیٹ سست ہونے سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے اور لوگوں کا کاروبار متاثر ہو رہا ہے۔
جسٹس وقار احمد نے سوال کیا کہ آپ کا مطلب ہے کہ حکومت مان نہیں رہی کہ انٹرنیٹ سست کیا گیا ہے؟
جس پر درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ احتجاج کے وقت حکومت انٹرنیٹ کو ڈاؤن کرتی ہے اور پہلے سے کہتی بھی ہے۔
بعد ازاں عدالت نے وزارت داخلہ اور وزارت آئی ٹی کو انٹرنیٹ کی سست رفتار سے متعلق تفصیل آئندہ سماعت پر پیش کرنے کا حکم دیا

پنجاب حکومت نے ’پرواز کارڈ‘ لانچ کر دیا ، ہزار نوجوانوں کو بیرون ملک روزگار کیلئے بلا سود قرض ملے گا
- 16 hours ago

بجٹ کے معاملے پرحکومت اور اتحادی جماعت پیپلزپارٹی کے درمیان ڈیڈلاک برقرار
- 2 days ago

پاکستان محفوظ اور غذائیت سے بھرپور خوراک کی فراہمی کے مشترکہ اور بامقصد ہدف کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتا ہے، وزیراعظم
- 2 days ago

ایرانی پاسداران انقلاب کا ہرمز سے ایک امریکی کارگو جہاز کو قبضے میں لینے کا دعویٰ
- 2 days ago

تمام مسائل اور تنازعات کے حل کا سب سے مؤثر طریقہ مذاکرات ہیں،علامہ طاہر اشرفی
- 16 hours ago

وزیراعظم کی گلگت بلتستان میں پرامن اور شفاف انتخابات پر عوام کو مبارکباد
- 16 hours ago

گلگت بلتستان انتخابات:پولنگ کا وقت ختم، ووٹوں کی گنتی جاری، غیر حتمی نتائج آنا شروع ہوگئے
- 2 days ago

معاہدے سے پہلے ایرانی اثاثے بحال نہیں ہوں گے، ڈونلڈٹرمپ کا سخت ردعمل
- 2 days ago

وزیراعظم کی سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار کی رہائش گاہ آمد، خوشدامن کے انتقال پر اظہارِ افسوس
- 16 hours ago

محسن نقوی کی ایرانی وزیر خارجہ سےملاقات،امن مذاکرات کے حوالے سے تبادلہ خیال
- 2 days ago

گلگت بلتستان انتخابات:چیف الیکشن کمشنر کا اہم بیان سامنے آ گیا
- 2 days ago

جو کچھ ہو رہا ہے سب امریکا کی پلاننگ ہے،واشنگٹن اسرائیل کی پشت پناہی بند کرے، اسماعیل بقائی
- 16 hours ago











.jpg&w=3840&q=75)

