انٹرنیٹ کی سست روی: پشاور ہائیکورٹ نے وزارت داخلہ اور وزارت آئی ٹی سے جواب طلب کر لیا
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ انٹرنیٹ سست ہونے سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے اور لوگوں کا کاروبار متاثر ہو رہا ہے


پشاور ہائی کورٹ نے انٹرنیٹ کی سست روی پر وزارتِ داخلہ اور وزارتِ آئی ٹی سے جواب طلب کر لیا۔
پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس وقار احمد اور جسٹس کامران حیات میاں خیل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے ملک میں انٹرنیٹ سروس کی سست روی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ انٹرنیٹ سست ہونے سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے اور لوگوں کا کاروبار متاثر ہو رہا ہے۔
جسٹس وقار احمد نے سوال کیا کہ آپ کا مطلب ہے کہ حکومت مان نہیں رہی کہ انٹرنیٹ سست کیا گیا ہے؟
جس پر درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ احتجاج کے وقت حکومت انٹرنیٹ کو ڈاؤن کرتی ہے اور پہلے سے کہتی بھی ہے۔
بعد ازاں عدالت نے وزارت داخلہ اور وزارت آئی ٹی کو انٹرنیٹ کی سست رفتار سے متعلق تفصیل آئندہ سماعت پر پیش کرنے کا حکم دیا

شارجہ سے کراچی آنے والا کارگو طیارہ لاپتا، بحیرۂ عرب میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری
- ایک دن قبل

وزیراعظم شہباز شریف کا ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ
- 7 گھنٹے قبل
بلوچستان: آپریشن میں فتنۃ الہندوستان کے 19 دہشتگرد ہلاک، فورسز کے 11جوان بھی شہید
- ایک دن قبل
نئی آئی سی سی پلیئرز رینکنگ میں پاکستانی کھلاڑیوں کی مایوس کن کارکردگی، کیسے؟
- ایک دن قبل

مالی سال 2026: اوورسیز پاکستانیوں نے کتنی ترسیلات بھیجیں؟ دنگ کر دینے والی معلومات
- 10 گھنٹے قبل
ایران کے شہید رہنما آیت اللہ خامنہ ای کی آخری رسومات کا جلوس عراق میں داخل، ہزاروں افراد کا مارچ
- ایک دن قبل
پاکستان کے مشہور ٹی وی اداکار نے طلاق کی تصدیق کردی، اداکارہ سے راہیں جدا
- ایک دن قبل
78 معصوم بچوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، سندھ حکومت کا بڑا اعلان
- 9 گھنٹے قبل
.jpeg&w=3840&q=75)
بلوچستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت، تین حملوں میں 42 افراد شہید،ڈی جی آئی ایس پی آر
- ایک دن قبل
بڑی خوشخبری: پاکستان سمیت سات ممالک کے شہریوں کیلئے نیا سعودی ویزا متعارف
- 10 گھنٹے قبل
پاکستانی اداکار فردوس جمال نے بھارتی سپر سٹار شاہ رخ خان کی قابلیت کو چیلنج کر دیا، ایسا کیا کہ دیا؟
- 10 گھنٹے قبل

ملک میں سونے کی قیمتوں میں ہزارں روپے کی کمی، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- ایک دن قبل










