انٹرنیٹ کی سست روی: پشاور ہائیکورٹ نے وزارت داخلہ اور وزارت آئی ٹی سے جواب طلب کر لیا
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ انٹرنیٹ سست ہونے سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے اور لوگوں کا کاروبار متاثر ہو رہا ہے


پشاور ہائی کورٹ نے انٹرنیٹ کی سست روی پر وزارتِ داخلہ اور وزارتِ آئی ٹی سے جواب طلب کر لیا۔
پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس وقار احمد اور جسٹس کامران حیات میاں خیل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے ملک میں انٹرنیٹ سروس کی سست روی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ انٹرنیٹ سست ہونے سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے اور لوگوں کا کاروبار متاثر ہو رہا ہے۔
جسٹس وقار احمد نے سوال کیا کہ آپ کا مطلب ہے کہ حکومت مان نہیں رہی کہ انٹرنیٹ سست کیا گیا ہے؟
جس پر درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ احتجاج کے وقت حکومت انٹرنیٹ کو ڈاؤن کرتی ہے اور پہلے سے کہتی بھی ہے۔
بعد ازاں عدالت نے وزارت داخلہ اور وزارت آئی ٹی کو انٹرنیٹ کی سست رفتار سے متعلق تفصیل آئندہ سماعت پر پیش کرنے کا حکم دیا

ڈھاکا ٹیسٹ:چوتھے دن کے اختتام تک بنگلا دیش نے 179 رنز کی برتری حاصل کرلی
- 3 hours ago
کاروباری ہفتے کے پہلے روز سونا ہزاروں روپے سستا،فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- 5 hours ago

پنجاب کے سرکاری اسکولوں میں موسمِ گرما کی تعطیلات کا اعلان کر دیا گیا
- 6 hours ago

وزیراعظم کی برا ٓمدات میں اضافےکیلئے چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کو سہولیات دینے کی ہدایات
- an hour ago

وفاقی وزیر ریلوے کی زیر صدارت ریلوے روٹس کی اپ گریڈیشن منصوبے کے حوالے سے جائزہ اجلاس
- 4 hours ago

بنوں حملے پر پاکستان کا سخت سفارتی ردعمل،فیصلہ کن جواب دینے کا حق رکھتے ہیں،دفتر خارجہ
- 4 hours ago

بانی پی ٹی آئی نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا
- an hour ago

امریکی صدر کے 13 سے 15 مئی تک چین کا سرکاری دورہ کریں گے،وائٹ ہاؤس
- 5 hours ago

سال 2025 کے مقابلے رواں سال لاہور میں جرائم میں نمایاں کمی، سی سی ڈی کا دعویٰ
- 5 hours ago

قابض افغان رجیم کی ریاستی دہشتگردی جاری ، پوست کے خاتمے کے نام پر نہتے شہریوں کا قتلِ عام
- 4 hours ago

اسحاق ڈار کا سعودی وزیر خارجہ سے رابطہ، مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال
- an hour ago

پی ایف یو سی کے زیر اہتمام معرکہ حق کے حوالے سے تصویری نمائش کا انعقاد،اسپیکر ملک احمد خان کی بطور مہمانِ خصوصی شرکت
- 5 hours ago













