ارکان پارلیمان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی پر اپنا موثر اور فعال کردار ادا کریں


عمر نواز
بنیادی حقوق کے بارے میں بہت بات کی جاتی ہے لیکن کتنے افراد ہیں جو بینادی حقوق کے بارے میں سنتے تو ہیں لیکن کتنے جانتے ہیں کہ بنیادی حقوق کیا ہوتے ہیں اور ان کی کیا اہمیت ہے. یہ کتنے ضروری ہیں اور کسی ریاست کے آئین میں یہ کیوں شامل کئے جاتے ہیں؟
بینادی حقوق ایک ریاست اور اس کے شہریوں کے درمیان تعلق کو ظاہر کرتا ہے. ان بنیادی حقوق میں زندگی، اس کی سرگرمیاں، اس کے کاروبار، نقل حرکت، معلومات تک رسائی، اور ہر شہری کا مساوی ہونا جیسے دیگر حقوق شامل ہے۔
جو ریاست ان بنیادی حقوق کو پامال کرتی ہے یا پھر ان میں رکاوٹ ڈالتی ہے. ایسی ریاست کو عوام دوست نہیں کہا جاتا ہے، ایسی ریاست طاقت بے جا استعمال کرتی ہے۔
صحافی عباد الحق کے مطابق بنیادی حقوق بالکل ایک انسانی دل کی ہوتے ہیں. اگر دل یعنی قلب کام چھوڑ دے تو موت ہو جاتی ہے. اسی طرح اگر بنیادی حقوق معطل ہو جائیں یا ان کی پاسداری نہ کی جائے تو پھر آئین بھی ختم ہوجاتا ہے. پھر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آئین کا باقی حصہ کام کر رہا ہے یا نہیں۔
ایک ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ بنیاد حقوق کا تحفظ کرے کیونکہ بقول بیرسٹر اعتراز احسن " ریاست ہوگی ماں کے جیسے". ریاست اُسی وقت ماں جیسی ہوگی جب وہ آئین کے بنیادی حقوق پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں. جب آئین حکمرانی کی بات کی جاتی ہے تو وہ دراصل بنیادی حقوق پر عمل کرنی کی بات ہوتی. ایک صدر مملکت سے لیکر ایک عام شہری کے بنیادی حقوق ہوتے ہیں، ان حقوق کا پہلے ریاست اور پھر اعلیٰ عدالتوں نے ان کا تحفظ کرتی ہیں۔
انسانی حقوق کی ایکٹوسٹ اور آئینی ماہر ربیعہ باجوہ کے بقول کسی بھی اعلیٰ عدالت کو پرکھنے کی کسوٹی یہ ہے کہ بنیادی حقوق کی پامالی کیسے روکتی ہیں اور اس کے تحفظ کیلئے کیا احکامات دی ہے. ریاست کے بعد اعلی عدلیہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کے بنیادی حقوق کا خیال رکھے۔
جس ریاست میں بنیادی حقوق پر عمل کا تصور نہیں ہوتا یا اس سے روگردانی کی جاتی ہے وہاں پر فسطایت کا عالم ہوتا ہے. جیسے جیسے شہریوں کو بنیادی حقوق نہیں ملتے تو ان میں بے چینی پیدا ہوتی ہے جو کسی تحریک کو جنم دے سکتی ہے۔
بنیادی حقوق کیا ہے؟ اور ان کی اہمیت کو اجاگر کرنے کیلئے ایک ریاست کو اپنا کردار ادا کرنا ہوتا ہے. پاکستان میں ایسی کوئی تعلیمی پالیسی نہیں بنائی گئی جو اس بات کو یقینی بنائے کہ پرائمری کے بعد بنیادی حقوق کو نصاب میں شامل کیا جائے۔
بنیادی حقوق کی فضلیت کو سمینیار یا اسی نوعیت کی دیگر تقریبات پر اجاگر کرنے سے عام آدمی تک اس کی اہمیت کو نہیں پہنچایا جا سکتا بلکہ اس کیلئے اسے نصاب میں شامل کرنا ضروری ہے۔
ارکان پارلیمان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی پر اپنا موثر اور فعال کردار ادا کریں۔
نوٹ :یہ کالم نگار کی ذاتی رائے ہے ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مہنگائی نے کسان، مزدور اور چھوٹے تاجروں کی کمر توڑ دی: میاں شاہد حسین
- a day ago
پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے، انتونیو گوتریس
- a day ago

مصطفیٰ زاہد پہلی بار پاکستانی فلم کا میوزک بنائیں گے
- a day ago

پہلا ٹی 20: پاکستان نے سری لنکا کو 4 وکٹوں سے شکست دے دی
- 6 hours ago

سینیئر بھارتی اداکار نانا پاٹیکر 75 برس کی عمر میں دنیا چھوڑگئے
- 2 days ago

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا عالمی امن کیلئے پاکستان کے عزم کا اعادہ
- 2 days ago
فٹبال لیجینڈ میسی نے انٹرنیشنل فٹبال کو خیربادکہہ دیا
- 2 days ago

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ایک ارب بیس کروڑ ڈالر قسط کیلئے سٹاف لیول معاہدہ
- a day ago

ضلع خیبر: نامعلوم افراد کی فائرنگ، پولیس اہلکار شہید
- 12 hours ago
کرکٹ لیجینڈ وسیم اکرم نےاپنے پسندیدہ بھارتی گلوکار کا نام بتا دیا
- 12 hours ago

پاکستان، ایران اور امریکہ تنازع کے پرامن حل کے لیے پرعزم ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر
- 7 hours ago

پاکستان اور بحرین کا مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون مزید مستحکم کرنے پراتفاق
- a day ago







