ریاست کی خودمختاری اور عدم مداخلت کا اصول بین الاقوامی تعلقات کی بنیاد ہے اور اسے ہر حال میں برقرار رکھا جائے گا، بنگلہ دیشی خارجہ سیکریٹری

بنگلہ دیش نے ملک کے اندرونی معاملات میں بھارتی مداخلت کو مسترد کردیا۔
بنگلہ دیش نے بھارتی خارجہ سیکریٹری کے حالیہ تبصروں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے ان کو اپنے داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیا ہے۔ بنگلا دیش کے خارجہ سیکریٹری محمد جاشم الدین نے اس حوالے سے ایک واضح بیان میں کہا کہ ان کی ریاست کی خودمختاری اور عدم مداخلت کا اصول بین الاقوامی تعلقات کی بنیاد ہے اور اسے ہر حال میں برقرار رکھا جائے گا۔
بھارتی خارجہ سیکریٹری کے ثقافتی، مذہبی اور سفارتی املاک پر تبصرے کو سفارتی لحاظ سے حساس سمجھا جا رہا ہے اور اسے بنگلہ دیش کے اندرونی امور میں مداخلت کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے،تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تبصرے ہندو اقلیتوں اور بھارتی سفارتی مشنز کے مسائل کی طرف اشارہ کر سکتے ہیں، جو دونوں ممالک کے تعلقات میں تنازع کی ایک وجہ ہیں۔
بنگلا دیش نے واضح کیا کہ اس کی ریاست کا سیکولر تشخص اور مذہبی آزادی کو یقینی بنانے کا عزم غیر متزلزل ہے۔ بھارتی بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے، بنگلا دیش نے اس بات پر زور دیا کہ بیرونی تبصرے ان کے داخلی معاملات میں غیر ضروری مداخلت ہیں۔
بنگلا دیش میں عوامی لیگ کی بھارت نواز پالیسیوں پر بھی تنقید کی جا رہی ہے، جن کے تحت بھارت کو پانی کے معاہدوں، تجارت، اور سکیورٹی معاملات میں بے جا رعایتیں دی گئیں۔ باہمی تجارت کے حوالے سے بھی بنگلا دیش نے بھارت کی غیر متوازن پالیسیوں پر اعتراض اٹھایا ہے، جہاں بھارتی برآمدات کو ترجیح دی جاتی ہے اور بنگلہ دیشی اشیا پر غیر ضروری رکاوٹیں ڈالی جاتی ہیں۔
بھارتی بارڈر فورس (بی ایس ایف) کے ہاتھوں بنگلا دیشی شہریوں کے قتل ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ ڈھاکہ میں عوامی حلقوں اور سول سوسائٹی نے اس رویے کو دوطرفہ تعلقات میں اعتماد کی کمی کا سبب قرار دیا ہے۔
بھارت کی تفریحی صنعت اور میڈیا کی بنگلادیش میں موجودگی کو بعض حلقوں میں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مقامی ثقافت پر پڑنے والے اثرات کو نقصان دہ قرار دیتے ہوئے، بھارت پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی سافٹ پاور کے ذریعے بنگلا دیش میں اثر و رسوخ قائم رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
بھارت کی جانب سے ٹیستہ پانی کے معاہدے میں تاخیر بنگلا دیش کے لیے ایک تکلیف دہ مسئلہ بن چکا ہے۔ بنگلا دیشی عوام اور حکومت اس معاملے کو بھارت کی عدم دلچسپی اور دوطرفہ تعلقات کے دعووں کی خلاف ورزی کے طور پر دیکھتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بھارتی حکام کی جانب سے غیر ذمہ دارانہ بیانات اگر احتیاط سے نہ نمٹائے گئے تو یہ سفارتی تعلقات کو مزید کشیدہ کر سکتے ہیں۔ بنگلادیش نے واضح پیغام دیا ہے کہ خود مختاری اور داخلی امور میں مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
پاکستان کے تین ٹیلی کام آپریٹرزو فائیو جی اسپیکٹرم لائسنس لینے میں کامیاب
- ایک دن قبل

ایک تولہ سونے کی قیمت میں ہزارں روپے کی کمی
- ایک دن قبل
ملک میں جمعتہ الوداع مذہبی عقیدت و احترام سے منایا گیا
- 2 گھنٹے قبل
پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف کارروائی پر بھارت کے بے بنیاد بیان کو مسترد کر دیا
- 2 دن قبل

کفایت شعاری مہم:حکومت کا یوم پاکستان کی پریڈ اور تقریبات منسوخ کرنے کا فیصلہ
- 3 دن قبل

علماء سے خطاب: فیلڈ مارشل کا فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے اتحاد اور برداشت پر زور
- ایک دن قبل

وزیراعظم شہبازشریف کا قازق صدرسے ٹیلیفونک رابطہ،قازقستان کے آئینی ریفرنڈم کی کامیابی پر مبارکباددی
- 3 دن قبل
خلیجی ممالک کے شہری علاقوں کے قریب حملوں کی ذمے داری امریکا پر عائد ہوتی ہے، ایرانی وزیر خارجہ
- 2 دن قبل

پاکستان اور چین مختلف شعبوں میں اے آئی پر مبنی شراکت داری مضبوط بنانے پر متفق
- 2 دن قبل

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید کتنی کمی ہو گئی؟
- 2 گھنٹے قبل
سعودی عرب میں شوال کا چاند نظر نہیں آیا، عید 20 مارچ جمعہ کو ہوگی
- 2 دن قبل
ڈی جی فوڈ اتھارٹی خیبرپختونخوا فائرنگ سے زخمی
- 2 دن قبل






