پیپون دل کی ایک بیماری ’کارڈیک ایمائیلوئیڈوسس‘ میں مبتلا تھے اور کافی عرصے سے اس کا علاج جاری تھا


امریکہ کے معروف اور طویل عرصے سے نشر ہونے والے کارٹون ’دی سمپسنز‘ سمیت کئی کامیاب شوز کے پیچھے تخلیقی ذہن رکھنے والے اسٹیو پیپون، 68 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کی اہلیہ میری اسٹیفنسن نے ان کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پیپون دل کی ایک بیماری ’کارڈیک ایمائیلوئیڈوسس‘ میں مبتلا تھے اور کافی عرصے سے اس کا علاج جاری تھا۔ وہ اچانک اپنے گھر کے باہر گر کر انتقال کر گئے۔
پیپون کی زندگی ایک ایسی کہانی ہے جو ثابت کرتی ہے کہ خواب دیکھنے والا کوئی بھی شخص اپنی منزل تک پہنچ سکتا ہے۔ کنساس میں ایک جوتوں کی دکان سے اپنے کیریئر کا آغاز کرنے والے پیپون 1979 میں لاس اینجلس منتقل ہوئے۔ یہاں ان کی تخلیقی صلاحیتوں نے جلد ہی ٹی وی انڈسٹری کی توجہ حاصل کی۔ 1985 میں ان کی پہلی اسکرپٹ نے NBC کے شو ’سلور سپونز‘ کا حصہ بن کر انہیں مصنفین کی دنیا میں شناخت دلائی۔
1989 میں جب انہوں نے ’دی سمپسنز‘ کے لیے لکھنا شروع کیا تو ان کی تحریری مہارت نے شو میں نئی جان ڈال دی۔ 1991 میں ان کی لکھی گئی مشہور قسط ”Homer vs. Lisa and the 8th Commandment“ کو ایمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ یہ قسط ٹی وی دیکھنے کے اخلاقی اور مذہبی پہلوؤں کو طنز و مزاح کے انداز میں پیش کرنے کی ایک نایاب مثال تھی۔
پیپون کا نام ’دی سمپسنز‘ کی ان قسطوں سے بھی جڑا ہے جو اپنے وقت سے آگے کی باتیں کرتی نظر آئیں۔ 9/11 حملے، فیفا میں کرپشن، کورونا جیسی وبا، خلائی سیاحت اور برطانیہ کی ملکہ الزبتھ دوم کے انتقال جیسی بڑی عالمی تبدیلیوں کی ’پیش گوئیاں‘ اس کارٹون میں برسوں قبل دیکھی جا چکی تھیں۔
پیپون کی قلمکاری صرف ’دی سمپسنز‘ تک محدود نہ رہی۔ وہ ABC کے ہٹ سٹکام ’روزین‘ کے مصنفین میں شامل رہے، اور 1990 کی دہائی میں انہوں نے ’دی جیکی تھامس شو‘ میں بطور لیڈ رائٹر خدمات انجام دیں۔ ان کا تخلیقی سفر 1998 میں مزید رنگ لے آیا جب انہوں نے بچوں کی مشہور اینی میٹڈ سیریز ’دی وائلڈ تھورن بیریز‘ تخلیق کی، جو پانچ سیزنز تک کامیابی سے چلی۔ یہ شو قدرتی حیات، خاندانی تعلقات اور مہم جوئی کے امتزاج سے ایک منفرد تفریح فراہم کرتا رہا۔
اسٹیو پیپون نے اپنے قلم سے نہ صرف ناظرین کو ہنسانے کا کام کیا بلکہ معاشرتی اور اخلاقی پہلوؤں پر بھی سوال اٹھائے۔ ان کی تحریروں میں طنز، حساسیت، اور زندگی کے سنجیدہ سوالات کا امتزاج موجود تھا۔

ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکراتی عمل میں سہولت کاری کا کردار جاری رکھیں گے،اسحاق ڈار
- 14 hours ago

جے ڈی وینس ایران کے ساتھ مذاکرات کرنے کے بعد واپس امریکا روانہ
- 14 hours ago

ہر نسل کے دلوں پر راج کرنے والی معروف بھارتی گلوکارہ آشا بھوسلے انتقال کر گئیں
- 13 hours ago

مذاکرات میں ناکامی: امریکی نیوی فوری طور پر ہرمز کی ناکہ بندی کرے گی،ٹرمپ کی دھمکی
- 7 hours ago

جنگ بندی کے بعد ایران میں تباہ شدہ توانائی تنصیبات کی بحالی کاعمل شروع
- 10 hours ago

"خون پانی سے گاڑھا ہوتا ہے" کہنے والی آشا بھوسلے دنیا سے رخصت ہو گئیں، بھارتی موسیقی کا سنہری باب بند
- 12 hours ago
1 ارب ڈالر اور ’خوبصورت ترین دلہن‘ دیں نہیں تو سفارتخانہ بند کر دوگا،یوگنڈین فوجی سربراہ
- 10 hours ago

ہرمز سے گزرنے والے ہر جہاز کو نئےسیکیورٹی اینڈکنٹرول نظام کے تحت ٹول دینا ہوگا، ایران
- 10 hours ago

مذاکرات کے دور میں مخالف فریق ایرانی وفد کا اعتماد حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا،باقر قالیباف
- 12 hours ago
.jpg&w=3840&q=75)
ایران امریکا مذاکرات شہبازشریف اور فیلڈ مارشل کی مؤثر قیادت کے ذریعے ممکن ہوئے، ٹرمپ کی تعریف
- 7 hours ago

ہم اسرائیل میں ایسے گھُس سکتے ہیں جیسے لیبیا اور کاراباخ میں داخل ہوئے تھے،اردگان کی نیتن یاہو کو دھمکی
- 7 hours ago

اسلام آباد مذاکرات میں شرکت کے بعد ایرانی وفد واپس تہران روانہ
- 7 hours ago













