پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان بجٹ اہداف پر اتفاق رائے نہ ہوسکا، مذاکرات جاری رکھنے کا اعلان
مذاکرات کے دوران توانائی کے شعبے میں اصلاحات پر مذاکرات کیے گئے جبکہ بجلی کی پیداواری لاگت کو کم کرنے پر زور دیا گیا،اعلامیہ

.jpg&w=3840&q=75)
اسلام آباد: پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ اہداف پر مکمل اتفاق رائے نہ ہوسکا تاہم آئی ایم ایف نے نئے مالی سال کے بجٹ پر مذاکرات جاری رکھنے کا اعلان کردیا۔
تفصیلات کے مطابق آئی ایم ایف وفد کا دورہ پاکستان مکمل ہونے پر اعلامیہ جاری کر دیا گیا۔
آئی ایم ایف کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق پاکستانی حکام کے ساتھ آئندہ مالی سال کے بجٹ پر اتفاق رائے کے لیے آنے والے دنوں میں مذاکرات جاری رہیں گے۔
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ آئی ایم ایف وفد کا دورہ پاکستان 19 مئی کو شروع ہوا، آئی ایم ایف وفد کی قیادت نیتھن پورٹر نے کی، جس میںپاکستان کے ساتھ حالیہ معاشی صورتحال، قرض پروگرام پر عمل درآمد اور آئندہ بجٹ پر مذاکرات ہوئے، پاکستان کے ساتھ مذاکرات تعمیری رہے۔
اعلامیہ کے مطابق پاکستان نے مالی استحکام اور سماجی اخراجات کے تحفظ کا عزم دہرایا، آئندہ مالی سال کے دوران پرائمری سرپلس جی ڈی پی کے 1.6 فیصد تک لے کر جانے پر اتفاق ہوا۔
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی حکام کے ساتھ ٹیکس نیٹ بڑھانے اور محصولات میں اضافے پر بات چیت ہوئی، اخراجات کو ترجیحی بنیادوں پر منظم کرنے، توانائی کے شعبے میں اصلاحات پر مذاکرات کیے گئے جبکہ بجلی کی پیداواری لاگت کو کم کرنے پر زور دیا گیا۔
اعلامیے میں مزید بتایا گیا کہ پائیدار ترقی اور یکساں کاروباری مواقع کی بہتری کے لیے اصلاحات زیر غور آئیں، مہنگائی پر قابو پانے کے لیے سخت مانیٹری پالیسی جاری رکھنے اور مہنگائی کو 5 سے 7 فیصد کی سطح پر برقرار رکھنے پر زور دیا گیا، پاکستانی حکام سے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے اور فاریکس مارکیٹ کو فعال رکھنے پر بات چیت ہوئی جبکہ شرح تبادلہ میں لچک برقرار رکھنے پر زور دیا گیا۔
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ موجود قرض پروگرام اور کلائمٹ فنانسنگ سے متعلق پروگرام کے لیے آئندہ جائزہ مذاکرات 2025 کی دوسری ششماہی میں متوقع ہیں۔
علاوہ ازیں نتھن پورٹر نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ بجٹ کی تجاویز پر مشاورت ہوئی، بجٹ پر مشاورت کا مقصد یہی تھا کہ 2024 کے قرض پروگرام میں اصلاحات پر عمل درآمد جاری رہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ پاکستان 1.6 فیصد سرپلس پرائمری بیلنس کا ہدف حاصل کرے، آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس آمدن بڑھائی جائے، آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ آئندہ بجٹ میں اخراجات کی ترجیحات پرمشاورت ہو، بجٹ مشاورت میں توانائی کی اصلاحات پر بھی بات چیت ہوئی۔
دوسری جانب حکومتی ذرائع کے مطابق مذاکرات میں آئی ایم ایف سے معاشی بحالی کے لیے مختلف شعبوں کے لیے ٹیکس رعایتیں مانگی گئیں تاہم آئی ایم ایف نے جواب دیا کہ ٹیکس رعایت پر ڈیٹا اور حکمت عملی دیکھ کر فیصلہ کیا جائے گا۔
لڑاکا طیارہ گر کر تباہ
- 19 گھنٹے قبل

سینئرجج جبری ریٹائر، وجہ سامنے آگئی
- 15 گھنٹے قبل
براڈ پیک پربرفانی تودہ گرنے سے لاپتہ کوہ پیماؤں میں سے 8 کی لاشیں مل گئیں، 2 کی تلاش جاری
- 2 دن قبل

کراچی کے مختلف علاقوں میں زلزلہ
- 2 دن قبل

ایل پی جی مہنگی ہو گئی، فی کلو قیمت جانیے
- 2 دن قبل

خواجہ آصف عوام سے معافی مانگیں، شعیب صدیقی
- 2 دن قبل
ڈرون حملے میں کارگو جہاز غرق
- 15 گھنٹے قبل
پاکستان اور چین کی دوستی آزمودہ اور وقت کی ہر کسوٹی پر ہمیشہ پوری اتری ہے: چیف آف ڈیفنس فورسز عاصم منیر
- 19 گھنٹے قبل
طلبہ کی موجیں: 4 اگست کو تعلیمی ادارے بند رہیں گے
- 19 گھنٹے قبل
کپتان کا لاپتا پالتو کتا آخرمل ہی گیا
- 2 دن قبل
بڑی خوشخبری: اہم عرب ملک کی نئی ایئرلائن کا پاکستان کے لیے براہِ راست پروازیں شروع کرنے کا اعلان
- 19 گھنٹے قبل
رکن قومی اسمبلی ملک محمد اقبال چنڑ انتقال کرگئے
- 19 گھنٹے قبل








