Advertisement
پاکستان

سویلین ملٹری ٹرائل کیس: اعتزاز احسن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیل دائر کر دی

یہ اپیل 7 مئی 2025 کے اس فیصلے پر دائر کی گئی ہے جس میں عدالتِ عظمیٰ نے سویلین افراد کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کو برقرار رکھا تھا

GNN Web Desk
شائع شدہ a year ago پر Jun 27th 2025, 1:51 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
سویلین ملٹری ٹرائل کیس: اعتزاز احسن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیل دائر کر دی

سپریم کورٹ میں سویلین کے ملٹری ٹرائل سے متعلق فیصلے کے خلاف سینئر قانون دان اور سیاستدان بیرسٹر اعتزاز احسن نے بھی نظرثانی کی اپیل دائر کر دی ہے۔

یہ اپیل 7 مئی 2025 کے اس فیصلے پر دائر کی گئی ہے جس میں عدالتِ عظمیٰ نے سویلین افراد کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کو برقرار رکھا تھا۔

بیرسٹر اعتزاز احسن نے یہ درخواست پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور ممتاز وکیل سردار لطیف کھوسہ کے توسط سے دائر کی، جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ معاملے کی حساسیت، بنیادی حقوق کی ممکنہ خلاف ورزیوں اور آئینی نوعیت کے اہم سوالات کے پیش نظر، اس مقدمے کی سماعت سپریم کورٹ کے تمام موجودہ جج صاحبان پر مشتمل فل کورٹ کو سونپی جائے۔

یاد رہے کہ یہ نظرثانی کی تیسری اپیل ہے۔ اس سے قبل سابق چیف جسٹس (ر) جواد ایس خواجہ، لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن، اور لاہور بار ایسوسی ایشن بھی اسی نوعیت کی درخواستیں دائر کر چکے ہیں۔

تمام درخواستوں میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے، کیونکہ سویلین افراد کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کی اجازت دینا ایک خطرناک نظیر قائم کرے گا۔ اس سے نہ صرف عدلیہ کے اختیارات کو انتظامیہ کے سپرد کرنے کی راہ ہموار ہوگی بلکہ یہ تاثر بھی ملے گا کہ ریاست عام شہریوں کے خلاف مقدمات میں خود منصف بن سکتی ہے۔

اپنی درخواست میں اعتزاز احسن نے موقف اپنایا ہے کہ یہ کیس نہ صرف آئینی تشریح کا متقاضی ہے بلکہ یہ عوامی مفاد سے جڑے کئی بنیادی حقوق اور آزاد عدالتی نظام تک رسائی جیسے اہم معاملات کو براہِ راست متاثر کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ یہ مسئلہ ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھتا ہے، اس لیے صرف ہائی کورٹس کے دائرہ اختیار پر انحصار کرنا مقدمے میں غیر ضروری تاخیر کا باعث بنے گا، جو اس طرح کے سنگین آئینی معاملے میں کسی طور پر قابل قبول نہیں۔

Advertisement