مخصوص نشستوں کا کیس: جسٹس جمال مندوخیل اور وکیل حامد خان کے درمیان عدالت میں تلخ کلامی
دورانِ سماعت وکیل حامد خان نے 13 رکنی بینچ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 10 ججز اس پر نظرثانی نہیں کر سکتے


سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل اور تحریک انصاف کے وکیل حامد خان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، جو سماعت کا ماحول کشیدہ کرنے کا سبب بنا۔
آئینی بینچ کے سامنے دلائل دیتے ہوئے وکیل حامد خان نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالتی روایت کے مطابق اس کیس کی سماعت نہیں ہونی چاہیے، اور ماضی میں ایسی مثالیں موجود ہیں۔ جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ ’’کہاں لکھا ہے کہ ہم یہ کیس نہیں سن سکتے؟ سپریم کورٹ کے رولز میں دکھائیں۔‘‘
جسٹس مندوخیل نے مزید کہا، ’’اگر آپ دلائل دینا چاہتے ہیں تو دیں، ورنہ اپنی نشست پر تشریف رکھیں۔ یہ سپریم کورٹ ہے، اسے مذاق نہیں بننے دیں گے۔ آپ ایک سینئر وکیل ہیں، لیکن آج آپ کا رویہ پیشہ ورانہ وقار کے مطابق نہیں۔‘‘
اس پر وکیل حامد خان نے اعتراض اٹھایا اور کہا کہ ’’آپ مجھ سے اس لہجے میں بات نہیں کر سکتے۔ میں عدالتِ عظمیٰ کا احترام کرتا ہوں لیکن مجھے بھی سنا جائے اور عزت سے گفتگو کی جائے۔‘‘
حامد خان نے سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے مقدمے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ نظرثانی کیس میں بینچ کی تشکیل سے متعلق اصول طے ہو چکے ہیں۔ تاہم جسٹس مندوخیل نے انہیں رولز پڑھنے کا مشورہ دیا اور کہا: ’’قاضی فائز عیسیٰ کا نام نہ لیں، سپریم کورٹ کے قواعد پڑھیں۔‘‘
مکالمہ مزید تلخ ہوا تو حامد خان نے کہا کہ ’’آپ غصے کی حالت میں ہیں، اس لیے آپ کو سماعت سے الگ ہو جانا چاہیے۔‘‘ جس پر جسٹس مندوخیل نے سختی سے جواب دیا: ’’مائنڈ یور لینگویج، میں اپنی حالت سے آگاہ ہوں۔ میں اس عدالت کے وقار کے لیے اپنی والدہ کی فاتحہ چھوڑ کر آیا ہوں اور آپ اسے مذاق سمجھ رہے ہیں۔‘‘
دورانِ سماعت وکیل حامد خان نے 13 رکنی بینچ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 10 ججز اس پر نظرثانی نہیں کر سکتے۔ جس پر جسٹس مندوخیل نے جواب دیا کہ ’’13 میں سے جو ججز علیحدہ ہوئے، ان کی رائے بھی شمار ہوتی ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’ہم آپ کا احترام کرتے ہیں لیکن 26ویں آئینی ترمیم ہم نے نہیں، پارلیمنٹ نے کی۔ آپ نے اس ترمیم کے خلاف ووٹ نہیں دیا بلکہ بائیکاٹ کیا۔ جب تک یہ آئین کا حصہ ہے، ہم اس کے پابند ہیں۔ اگر آپ اس نظام کو نہیں مانتے تو وکالت چھوڑ دیں۔‘‘
سماعت کے اختتام پر عدالت نے وکیل حامد خان کی طرف سے بینچ پر اعتراض کی درخواست مسترد کر دی۔

دفتر خارجہ کا سی بی ایس رپورٹ پر ردعمل، پاکستان میں ایرانی طیاروں کی موجودگی سے متعلق دعوے مسترد
- 3 گھنٹے قبل

منصب سنبھالتے ہی وزیر اعلی وجے کا بڑا حکم، شراب پر پابندی، 700سے زائد دکانیں بند
- 3 گھنٹے قبل

ڈھاکا ٹیسٹ: پاکستان کی بیٹنگ لڑکھڑا گئی، شاہینوں کو بنگال ٹائیگر کے ہاتھوں 104 رنز سے شکست
- 2 گھنٹے قبل

برطانوی وزیراعظم کا بغاوت کے باجود استعفیٰ دینے سے انکار،تبدیلی کا وعدہ پورا کرنے کا عزم
- 3 گھنٹے قبل

عالمی شہرت یافتہ فیشن ڈیزائنر سٹائلسٹ آمنہ انعام پاکستان پہنچ گئیں، ثقافتی وسماجی تقریبات میں ہونگی
- 2 گھنٹے قبل

نرسز کے عالمی دن پر وزیراعظم کا پیغام، نرسز کو انسانیت کے بے لوث خدمتگار قرار دے دیا
- 2 گھنٹے قبل

لکی مروت:سرائے نورنگ بازار میں دھماکہ، خاتون سمیت 7 افراد شہید،کئی زخمی،وزیر اعظم کا اظہارِ افسوس
- 3 گھنٹے قبل

مسلسل دو روز کی کمی کے بعد سونا پھر ہزاروں روپے مہنگا ، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- 4 گھنٹے قبل

وزیر اعظم کی کسانو ں کو بروقت کھاد کی فراہمی ہر صورت یقینی بنانے کی ہدایات
- 41 منٹ قبل

میری اولین ترجیح خواتین کے لیے ایک محفوظ پنجاب بنانا ہے،مریم نواز شریف
- 16 منٹ قبل

صدر مملکت سے وزیرِاعظم سے ملاقات، مہنگائی کم کرنے اور عوامی ریلیف کیلئے اہم ہدایات
- 21 گھنٹے قبل

گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے "پنجاب فلم سٹی اتھارٹی بل 2026" کی توثیق کر دی
- 31 منٹ قبل











