Advertisement
پاکستان

مخصوص نشستوں کا کیس: جسٹس جمال مندوخیل اور وکیل حامد خان کے درمیان عدالت میں تلخ کلامی

دورانِ سماعت وکیل حامد خان نے 13 رکنی بینچ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 10 ججز اس پر نظرثانی نہیں کر سکتے

GNN Web Desk
شائع شدہ a year ago پر Jun 27th 2025, 4:33 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
مخصوص نشستوں کا کیس: جسٹس جمال مندوخیل اور وکیل حامد خان کے درمیان عدالت میں تلخ کلامی

سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل اور تحریک انصاف کے وکیل حامد خان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، جو سماعت کا ماحول کشیدہ کرنے کا سبب بنا۔

آئینی بینچ کے سامنے دلائل دیتے ہوئے وکیل حامد خان نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالتی روایت کے مطابق اس کیس کی سماعت نہیں ہونی چاہیے، اور ماضی میں ایسی مثالیں موجود ہیں۔ جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ ’’کہاں لکھا ہے کہ ہم یہ کیس نہیں سن سکتے؟ سپریم کورٹ کے رولز میں دکھائیں۔‘‘

جسٹس مندوخیل نے مزید کہا، ’’اگر آپ دلائل دینا چاہتے ہیں تو دیں، ورنہ اپنی نشست پر تشریف رکھیں۔ یہ سپریم کورٹ ہے، اسے مذاق نہیں بننے دیں گے۔ آپ ایک سینئر وکیل ہیں، لیکن آج آپ کا رویہ پیشہ ورانہ وقار کے مطابق نہیں۔‘‘

اس پر وکیل حامد خان نے اعتراض اٹھایا اور کہا کہ ’’آپ مجھ سے اس لہجے میں بات نہیں کر سکتے۔ میں عدالتِ عظمیٰ کا احترام کرتا ہوں لیکن مجھے بھی سنا جائے اور عزت سے گفتگو کی جائے۔‘‘

حامد خان نے سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے مقدمے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ نظرثانی کیس میں بینچ کی تشکیل سے متعلق اصول طے ہو چکے ہیں۔ تاہم جسٹس مندوخیل نے انہیں رولز پڑھنے کا مشورہ دیا اور کہا: ’’قاضی فائز عیسیٰ کا نام نہ لیں، سپریم کورٹ کے قواعد پڑھیں۔‘‘

مکالمہ مزید تلخ ہوا تو حامد خان نے کہا کہ ’’آپ غصے کی حالت میں ہیں، اس لیے آپ کو سماعت سے الگ ہو جانا چاہیے۔‘‘ جس پر جسٹس مندوخیل نے سختی سے جواب دیا: ’’مائنڈ یور لینگویج، میں اپنی حالت سے آگاہ ہوں۔ میں اس عدالت کے وقار کے لیے اپنی والدہ کی فاتحہ چھوڑ کر آیا ہوں اور آپ اسے مذاق سمجھ رہے ہیں۔‘‘

دورانِ سماعت وکیل حامد خان نے 13 رکنی بینچ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 10 ججز اس پر نظرثانی نہیں کر سکتے۔ جس پر جسٹس مندوخیل نے جواب دیا کہ ’’13 میں سے جو ججز علیحدہ ہوئے، ان کی رائے بھی شمار ہوتی ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’ہم آپ کا احترام کرتے ہیں لیکن 26ویں آئینی ترمیم ہم نے نہیں، پارلیمنٹ نے کی۔ آپ نے اس ترمیم کے خلاف ووٹ نہیں دیا بلکہ بائیکاٹ کیا۔ جب تک یہ آئین کا حصہ ہے، ہم اس کے پابند ہیں۔ اگر آپ اس نظام کو نہیں مانتے تو وکالت چھوڑ دیں۔‘‘

سماعت کے اختتام پر عدالت نے وکیل حامد خان کی طرف سے بینچ پر اعتراض کی درخواست مسترد کر دی۔

Advertisement