Advertisement

اسرائیل کا مکروہ چہرہ بے نقاب،نیتن یاہوکاآپریشن سیندور کے دوران بھارت کی مدد کا اعتراف

اسرائیلی دفاعی نظام بھارت کے عسکری ڈھانچے کا اہم حصہ بن چکا ہے اور دونوں ممالک خطے میں ”امن و استحکام“ کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں،نیتن یاہو

GNN Web Desk
شائع شدہ a year ago پر Aug 8th 2025, 10:23 am
ویب ڈیسک کے ذریعے
اسرائیل کا مکروہ چہرہ بے نقاب،نیتن یاہوکاآپریشن سیندور کے دوران بھارت کی مدد کا اعتراف

تل ابیب: صہیونی ریاست کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہو گیا،اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے آپریشن سیندور کے دوران بھارت کی مدد کرنے کا اعتراف کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی میڈیا کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ بھارت نے 'آپریشن سندور' میں ہمارے ہتھیار استعمال کیے تھے اور یہ ہتھیار میدانِ جنگ میں نہایت مؤثر ثابت ہوئے۔

اسرائیلی وزیراعظم نے نے دعویٰ کیا کہ وہ سازوسامان جو ہم نے بھارت کو فراہم کیے، وہ میدان جنگ میں کامیاب ثابت ہوئے اور یہ ہماری ٹیکنالوجی کی آزمائش ہے، نیتن یاہو نے بالخصوص بھارت کے باراک 8 دفاعی نظام کا زکر کیا جسے بھارت اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر تیار کیا تھا۔

انٹرویو میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ اسرائیلی دفاعی نظام بھارت کے عسکری ڈھانچے کا اہم حصہ بن چکا ہے اور دونوں ممالک خطے میں ”امن و استحکام“ کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔

دوران انٹرویو نیتن یاہو نے بھارت پر عائد 50 فیصد امریکی ٹیرف پر کہا کہ امریکا اور بھارت ہمارے قریبی اتحادی ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ دونوں ممالک اقتصادی اختلافات کو مذاکرات سے حل کر لیں گے۔

انھوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ بھارت اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست پروازوں کا معاملہ زیر غور ہے۔ بھارت کو امریکا بھی ایک قدرتی پارٹنر کے طور پر دیکھتا ہے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کایہ بیان حقیقت  کے برخلاف ہےمیدان جنگ میں پاک فضائیہ نے بھارت کو ایسی دھول چٹائی تھی جس میں رافیل سمیت تمام غیرملکی اسلحہ ناکارہ ثابت ہوئے تھے۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے بھارت کو اسلحہ کی فراہمی کا دعویٰ پہلی بار نہیں کیا،یہ گٹھ جوڑ بہت پرانا ہے۔  روس، فرانس اور امریکا کے بعد اسرائیل بھارت کو سب سے زیادہ اسلحہ فروخت کرتا ہے۔

Advertisement