فیٹی لیور ایسڈ کے مریضوں میں کونسے چار کھانے زیادہ نقصان کا باعث بن سکتے ہیں؟جانیے اس رپورٹ میں
ابتدائی مراحل میں فیٹی لیور عام طور پر خطرناک نہیں ہوتا اور جگر کے افعال پر زیادہ اثر نہیں ڈالتا، تاہم بروقت علاج اور پرہیز سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے،ماہرین


ویب ڈیسک: ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ فیٹی لیور (چربی والا جگر) کے مریضوں کو اپنی خوراک میں میٹھے کھانے، تلی ہوئی اور کولیسٹرول سے بھرپور ڈشز، نمکین کھانے اور کاربوہائیڈریٹ سے بھرے ہوئے کھانوں سے پرہیز کرنا چاہیے تاکہ بیماری کو بڑھنے سے روکا جا سکے۔
ڈاکٹر وو ترونگ خان، ہیڈ آف گیسٹروانٹرولوجی، تام جنرل اسپتال (ہنوئی) کے مطابق فیٹی لیور اس وقت ہوتا ہے جب جسم اضافی چربی پیدا کرتا ہے یا اسے صحیح طور پر ہضم نہیں کر پاتا، جس کے نتیجے میں یہ چربی جگر کے خلیوں میں جمع ہونے لگتی ہے۔
یہ بیماری زیادہ الکوحل کے استعمال، ہیپاٹائٹس انفیکشن یا ذیابیطس جیسے میٹابولک امراض کی وجہ سے بھی پیدا ہو سکتی ہے۔ علاج نہ ہونے کی صورت میں یہ جگر کے سوزش، سیروسس یا کینسر تک پہنچ سکتی ہے۔
ابتدائی مراحل میں فیٹی لیور عام طور پر خطرناک نہیں ہوتا اور جگر کے افعال پر زیادہ اثر نہیں ڈالتا، لیکن بروقت علاج اور طرزِ زندگی میں تبدیلی کے ذریعے اسے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق خوراک اس بیماری کے علاج اور بچاؤ میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے چار ایسی غذائی اقسام کی نشاندہی کی ہے جن سے مریضوں کو بچنا چاہیے:
1۔میٹھے کھانے:
زیادہ شکر وزن میں اضافے، موٹاپے اور ذیابیطس کا باعث بنتی ہے، جو جگر میں چربی جمع ہونے کے خطرے کو بڑھاتی ہے۔ اضافی کیلوریز جگر میں ٹرائی گلیسرائیڈز کی شکل میں جمع ہو جاتی ہیں۔ مریضوں کو ٹافیاں، آئس کریم، میٹھے پکوان اور زیادہ فرکٹوز والے پھل جیسے لیچی، سیب، کیلا اور انگور کم سے کم کھانے چاہئیں۔
2۔ تلی ہوئی اور کولیسٹرول سے بھرپور غذائیں:
جانوروں کی چربی، کلیجی، سرخ گوشت، انڈے کی زردی، مکھن، پنیر اور پراسیسڈ گوشت (ساسیجز، بیکن وغیرہ) کولیسٹرول اور چربی کو بڑھاتے ہیں جو جگر پر دباؤ ڈالتے ہیں۔ اس کے بجائے مریضوں کو سبزیاں، پودوں سے حاصل شدہ تیل اور اومیگا تھری سے بھرپور مچھلی (سالمن، سارڈین، ٹونا وغیرہ) استعمال کرنی چاہیے۔
3۔نمکین اور ڈبہ بند کھانے:
اچار، پراسیسڈ گوشت، فاسٹ فوڈ اور ڈبہ بند غذائیں زیادہ نمک والی ہوتی ہیں۔ زیادہ نمک انسولین ریزسٹنس، جسم میں پانی کی زیادتی اور چربی کے ذخائر بڑھا کر جگر کو نقصان پہنچاتا ہے اور سوزش و فائبروسس کو تیز کر دیتا ہے۔ ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ روزانہ نمک کا استعمال 6 گرام سے کم ہونا چاہیے۔
4۔ کاربوہائیڈریٹ سے بھرپور غذائیں:
سفید چاول، آلو، ڈبل روٹی، نوڈلز اور بسکٹ جیسے کھانے کاربوہائیڈریٹس کی زیادتی پیدا کرتے ہیں، جو آخرکار چربی میں تبدیل ہو کر جگر میں جمع ہو جاتی ہے۔ مریضوں کو بھورا چاول اور مکمل اناج استعمال کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے تاکہ فائبر زیادہ اور چربی کم ہو۔

سونے کی قیمت میں مسلسل دوسرے روز بھی اضافہ،فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- 6 گھنٹے قبل

وزیراعظم سے ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی ایرکسن کے وفد کی ملاقات، آئی ٹی انفراسٹرکچر کی ترقی یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ
- 2 گھنٹے قبل

صوبائی حکومت نے کراچی سمیت سندھ کے تعلیمی اداروں میں تعطیل کا اعلان کر دیا
- 6 گھنٹے قبل

جے یو آئی (ف) کے سینئر رہنما مولانا سلیم اللہ خان ترکئی انتقال کر گئے
- 7 گھنٹے قبل

قومی سلامتی کے اُمور میں یکسوئی اور بیانیے پر اتفاقِ رائے وقت کی ضرورت ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر
- 5 گھنٹے قبل

شہریوں کیلئے اچھی خبر، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان
- 7 گھنٹے قبل

پاکستان اور مراکش کے درمیان دفاعی تعاون سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر دستخط
- ایک گھنٹہ قبل

بیرون ملک جانے والے شہریوں کیلئے اچھی خبر،پاکستان اوریو اے ای کے درمیان پری امیگریشن کلیئرنس پر اتفاق
- 7 گھنٹے قبل

جاپان جنوبی پنجاب میں بچوں کی صحت کیلئے 18.62 ملین ڈالر گرانٹ دے گا،معاہد ے پر دستخط
- 7 گھنٹے قبل

آئی سی سی نے انڈر 19 ورلڈ کپ کیلئے میچ آفیشلز کا اعلان کر دیا،پاکستانی آفیشلز بھی شامل
- 3 گھنٹے قبل

مہک ملک ایک ڈرامے کے عوض کتنی رقم وصول کرتی ہیں؟ڈانسر نے بتا دیا
- 4 گھنٹے قبل

بنوں: امن کمیٹی پر دہشت گردوں کی فائرنگ سے 4 افراد جاں بحق
- 7 گھنٹے قبل







.jpg&w=3840&q=75)





