Advertisement
تجارت

سیلاب کی تباہ کاریاں ، خوراک کا بحران؟ سبزیوں اور غلوں کی قیمتیں بڑھنے کا امکان

چاول کے حوالے سے متضاد آرا سامنے آ رہی ہیں پاکستان بزنس فورم کے مطابق، وسطی اور جنوبی پنجاب میں چاول کی 60 فیصد فصل متاثر ہوئی ہے

GNN Web Desk
شائع شدہ a year ago پر Sep 9th 2025, 5:29 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
سیلاب کی تباہ کاریاں ، خوراک کا بحران؟ سبزیوں اور غلوں کی قیمتیں بڑھنے کا امکان

پنجاب اور دیگر مشرقی علاقوں میں جاری سیلاب نے 13 لاکھ ایکڑ سے زائد زرعی اراضی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جس سے خریف کی فصلیں، بالخصوص کپاس بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ اس بحران نے اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں اضافے اور خوراک کے ممکنہ بحران کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔

انسانی و معاشی نقصان : 

سیلاب کے باعث 2 ہزار سے زائد دیہات زیر آب آ چکے ہیں۔

20 لاکھ افراد بے گھر ہوئے، جبکہ 7 لاکھ 60 ہزار افراد اور 5 لاکھ 16 ہزار مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔

سیٹلائٹ امیجری کے مطابق پنجاب کے 24 اضلاع کا تقریباً 4.7 فیصد (3,661 مربع کلومیٹر) رقبہ مکمل طور پر زیرِ آب آ چکا ہے۔

536 ارب روپے کا زرعی نقصان

کسان بورڈ پاکستان کے نمائندے اختر فاروق میو کے مطابق، سیلاب سے کپاس، چاول، مکئی، تل اور چارہ جات کی بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے، جس کا مالی نقصان 536 ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔ ان کے مطابق بعض شہروں میں سبزیوں اور دیگر جلد خراب ہونے والی اجناس کی قلت پیدا ہو چکی ہے، جو خوراک کے بحران میں بدل سکتی ہے۔

چاول کی فصل: تضاد یا حقیقت؟

چاول کے حوالے سے متضاد آرا سامنے آ رہی ہیں پاکستان بزنس فورم کے مطابق، وسطی اور جنوبی پنجاب میں چاول کی 60 فیصد فصل متاثر ہوئی ہے۔

دوسری جانب، چاول برآمد کنندگان کا کہنا ہے کہ باسمتی چاول کے زیادہ تر علاقے محفوظ رہے ہیں اور صرف پسرور کا علاقہ متاثر ہوا ہے۔ ان کے مطابق نان باسمتی فصل جولائی و اگست میں پہلے ہی کاٹی جا چکی تھی۔

کپاس کی بربادی، ٹیکسٹائل انڈسٹری پر خطرہ

کاٹن جنرز فورم کے چیئرمین احسان الحق نے انکشاف کیا کہ سیلاب کے باعث کئی جننگ فیکٹریاں اور ٹیکسٹائل ملیں بند ہو چکی ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں بہاولنگر، ملتان، بہاولپور، اور رحیم یارخان میں کپاس کی فصل زیرِ آب ہے یا مزید بارشوں کے خطرے میں ہے۔

بعض اقسام پر وائرس کا حملہ بھی ہوا ہے، جس سے فی ایکڑ پیداوار میں شدید کمی کا خدشہ ہے۔

پاکستان بزنس فورم کے مطابق پنجاب میں 35 فیصد کپاس کی فصل تباہ ہو چکی ہے۔

بہاولنگر میں یہ نقصان 40 سے 50 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔

سیلاب سے چارہ جات کی فصلیں بھی تباہ ہوئی ہیں، جس کے نتیجے میں لائیو اسٹاک سیکٹر شدید متاثر ہو رہا ہے۔ یاد رہے کہ یہ شعبہ قومی جی ڈی پی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

Advertisement
Advertisement