Advertisement

بھارت میں افغان وزیر خارجہ کی پریس کانفرنس، خواتین صحافیوں کی غیر موجودگی پراعتراضات

پارلیمنٹ کی رکن اور ٹریبیونل کانگریس کی رہنما ماہوا موئترا نے حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس عمل سے ہر بھارتی خاتون کی توہین کی گئی ہے

GNN Web Desk
شائع شدہ a year ago پر Oct 11th 2025, 8:20 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
بھارت میں افغان وزیر خارجہ کی پریس کانفرنس، خواتین صحافیوں کی غیر موجودگی پراعتراضات

نئی دہلی — افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کی پریس کانفرنس میں خاتون صحافیوں کو شامل نہ کیے جانے پر بھارت میں سیاسی تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے اس اقدام پر مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

کانگریس کے سینئر رہنما راہول گاندھی نے کہا کہ خواتین کو ہر شعبے میں مساوی شرکت کا حق حاصل ہے، اور اس واقعے نے بھارتی خواتین کو یہ پیغام دیا ہے کہ وزیراعظم مودی ان کے حقوق کے دفاع میں ناکام ہیں۔

پرینکا گاندھی نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت کو اس معاملے پر اپنی واضح پوزیشن پیش کرنی چاہیے۔ انہوں نے سوال اٹھایا: "بھارت کی باصلاحیت خواتین کی اس قدر تضحیک کیسے برداشت کی گئی؟"

سابق وزیر خزانہ اور کانگریس رہنما پی چدمبرم نے رائے دی کہ مرد صحافیوں کو اسی وقت پریس کانفرنس سے واک آؤٹ کر دینا چاہیے تھا۔

پارلیمنٹ کی رکن اور ٹریبیونل کانگریس کی رہنما ماہوا موئترا نے حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس عمل سے ہر بھارتی خاتون کی توہین کی گئی ہے۔

دوسری جانب، بھارتی وزارت خارجہ نے اس معاملے میں کسی بھی سرکاری کردار کی تردید کرتے ہوئے وضاحت دی کہ افغان وزیر خارجہ کی پریس کانفرنس کے دعوت نامے افغان قونصل جنرل (ممبئی) کی جانب سے جاری کیے گئے تھے، جو امیر خان متقی کے نئی دہلی دورے کے دوران وہاں موجود تھے۔

Advertisement